سلنڈر کی فراہمی کامسئلہ برقرارجبکہ کوئلے سے کھانا پکانے پر اخراجات بڑھنے کا امکان، جن مدارس میںگیس کا کنکشن نہیںہے انہیں مزید دشواری آرہی ہے، اسی سبب داخلہ لینے والے طلبہ سے کہا جارہا ہے کہ تعلیمی سلسلے کے باضابطہ آغاز سے قبل انہیں مطلع کیا جائے گا، اس کے بعد ہی وہ مدرسہ آئیں۔
گیس کی قلت کے سبب کچھ مدارس میں کوئلے پر کھانا پکانے کا بھی بجٹ نکالا گیا ہے جوکافی مہنگا ہے۔ (تصویر: انقلاب)
۱۵؍ شوال سنیچر کے دن سے بیشترمدارس میں داخلے کا آغاز توکردیا گیا ہے مگر امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ کے سبب پیدا شدہ حالات کی وجہ سے گیس سلنڈر کی فراہمی میں دقت برقرارہے۔ اس کے سبب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تعلیمی سلسلے کے باضابطہ آغاز کے لئے طلبہ کو حالات کی مناسبت سے مطلع کیا جائے گا۔ کچھ مدارس کی جانب سے کوئلے پر کھانا پکانے کا بھی بجٹ نکالا گیا ہے مگر وہ کافی مہنگا ہے، ڈیڑھ سو طلبہ کے کھانے کے نظم کے لئے یومیہ ایک ہزار روپے کا کوئلہ لگے گا اس میں بھی محض دو ڈش بن سکے گی۔ اسی وجہ سے پس وپیش ہے جبکہ بہت سے مدارس کو کمرشیل سلنڈر کسی حد تک ملنے لگا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ادھو ٹھاکرے پس وپیش میں، سونیترا پوار نے حمایت کی درخواست کی، کانگریس بھی امید وار اتارنے کی خواہاں
ذیل میں الگ الگ مدارس کے احوال اورذمہ داران کے ذریعے بیا ن کردہ تفصیلات درج کی جارہی ہیں۔
کوئلے پرکھانا پکایاجاتا ہےاورسلنڈر کا مسئلہ ہے
معروف دینی ادارہ دارالعلوم محمدیہ کے سربراہ مولانا سید خالد اشرف سےرابطہ قائم کرنے پر انہوں نے نمائندۂ انقلاب کوبتایا کہ مسائل تو ہیں، یہی وجہ ہےکہ پس وپیش کی کیفیت ہے۔ دارالعلوم محمدیہ (مینارہ مسجد )کے ساتھ باؤلا مسجد (پریل ) میں بھی طلبہ مقیم رہتے ہیں۔ دارالعلوم محمدیہ میں توکوئلے سے ہی کھانا پکایا جاتا ہے مگر باؤلا مسجد میں یہ ممکن نہیں ہے،اسی وجہ سے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ طلبہ کی آمد سے قبل وہاں سلنڈر کی فراہمی کا نظم ہوجائے۔ اس لئے بھی کہ باؤلا مسجد میں زیرتعلیم طلبہ کی مینارہ مسجد منتقلی ممکن نہیں ہے کیونکہ یہاں اتنی گنجائش نہیں ہے۔ اس لئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے تاکہ جب تعلیم کاباضابطہ آغاز ہو تو طلبہ یکسوئی کے ساتھ حصولِ علم میں منہمک رہ سکیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر پرشہر ومضافات کی مساجد میں ائمہ نےخطابِ جمعہ میں روشنی ڈالی
دارالعلوم حنفیہ رضویہ قلابہ کےنائب ناظم قاری نیاز احمد قادری کے مطابق ’’ داخلے کا آغاز توکردیا گیا ہے مگرحالات کے سبب ابھی تعلیم کےلئے باقاعدگی سے نظم کیلئے وقت درکا ر ہوگا۔دارالعلوم حنفیہ میں تو مسئلہ نہیں ہے مگرسلنڈر کی قلت کے سبب دارالعلوم حاجی آدم صدیق (بڑی مسجد مدن پورہ) میں دشواری ہے۔ یہاں تقریباً ڈیڑھ سو طلبہ قیام کرتے ہیں اوران کے لئے کوئلے پرکھانا پکانے کا بجٹ کافی زیاد ہ ہے، یومیہ کوئلے کا خرچ ایک ہزار روپے سے زائد ہے اور پھر اس پر دو ڈش ہی تیار ہوسکتی ہے۔ اس لئے طلبہ سے کہاجارہا ہے کہ وہ انتظار کریں، جب ان کوفون کیا جائے تب ہی وہ مدرسہ آئیں۔‘‘
جامعہ عربیہ منہاج السنہ کے ذمہ دار مولانا نوشاد احمدصدیقی کےمطابق’’ گیس ایجنسی کےذمہ دار کو کئی دن قبل خط دیا گیا تھا مگر اب تک مسئلہ حل نہیں ہوا ہے۔ اسی وجہ سے ۱۵؍شوال گزرنے کےباوجود اب تک باضابطہ تعلیمی سلسلہ شروع کرنے میں پس وپیش ہے۔ اس لئے بھی کہ جامعہ میں ڈیڑھ سو یا اس سے زائد طلبہ کے قیام وطعام کےلئے انتظام کرنا ہے اوروہ پہلے کی طرح سلنڈر کی فراہمی کےبغیر ممکن نہیں ہے۔اسی لئے سنیچر کو پھر ایجنسی کو خط دیا گیا ہےتاکہ سلنڈر کی فراہمی ہوسکے۔ اس کے بعد طلبہ کوبلایا جائے گا،ویسے جو طلبہ پہلے سے رُکے ہوئے تھے، ان کی تعلیم شروع کرادی گئی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’آلودہ پانی کی شکایتوں کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے‘‘
بیشتر مدارس میں داخلہ شروع کردیاگیا ہے
رابطہ ٔ مدارس اسلامیہ ممبئی وتھانے کےترجمان مولانا عبد القدوس شاکر حکیمی نے انقلاب کوبتایا کہ ’’ حسب سابق بیشتر مدارس میں طلبہ کا داخلہ شروع کردیا گیا ہے تاکہ پہلا مرحلہ مکمل ہوجائے۔ دوسرے یہ کہ گیس ایجنسی کے ذمہ دار کوخط دینے کے بعد اب کمرشیل سلنڈر کی فراہمی میں کسی حد تک سہولت پیدا ہوئی ہے لیکن وہ مہنگا ہونے کےساتھ وزن بھی کم ہے۔ اسی طرح ایک بڑا مسئلہ بہت سے ایسے مدارس کا ہے جن کا پہلے سے کنکشن نہیں تھا،انہیں پہلے مل جایا کرتاتھا اس لئے شاید زیادہ توجہ نہیں دی گئی تھی مگر اب مشکل مرحلہ آگیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’ تمام مدارس کے ذمہ داران اس بات کےلئےکوشاں ہیں کہ بھلے شوال کے اخیرتک خواہ باضا بطہ تعلیمی سلسلہ شروع نہ ہوسکے لیکن اس سے قبل سلنڈر کی فراہمی کا مسئلہ اور دیگر دشواریاں ختم کرلی جائیں تاکہ ایک مرتبہ تعلیمی سلسلہ شروع کئے جانے کے بعد پھر کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے اورطلبہ حصولِ علم کے اپنے مشن پریکسوئی سے لگ جائیں۔‘‘ یہ بھی واضح ہوکہ جن چند اداروں کاتذکرہ کیا گیا ہے، دیگر اداروں کے بھی ایسے ہی احوال ہیں اورسبھی ذمہ داران اپنے طور پرمسلسل کوشاں ہیں۔