Inquilab Logo Happiest Places to Work

ماہرکیمیا ڈوروتھی ہوجکن برطانیہ کی نوبیل یافتہ واحد خاتون ہیں

Updated: April 03, 2026, 4:53 PM IST | Mumbai

Dorothy Hodgkinنے ایکس رے کرسٹلو گرافی کے ذریعے پینسلین، وٹامن بی ۱۲؍ اور انسولین جیسے اہم حیاتیاتی مرکبات کی ساخت دریافت کی۔

Dorothy opened new doors in drug discovery. Photo: INN
ڈوروتھی نے دواؤں کی دریافت میں نئے دروازے کھولے۔ تصویر: آئی این این

ڈوروتھی ہوجکن بیسویں صدی کی ممتاز برطانوی کیمیا داں تھیں جنہوں نے ایکس رے کرسٹلوگرافی کے ذریعے اہم حیاتیاتی مرکبات کی ساخت دریافت کی۔ انہیں ۱۹۶۴ء میں کیمسٹری کا نوبیل انعام دیا گیا اور وہ یہ اعزاز پانے والی واحد برطانوی خاتون ہیں۔ 
ڈوروتھی کی پیدائش ۱۲؍مئی۱۹۱۰ء کو قاہرہ، مصر میں ہوئی تھی جہاں ان کے والد ماہرِ آثارِ قدیمہ تھے۔ بچپن ہی سے انہیں سائنس، خاص طور پر کیمسٹری میں گہری دلچسپی تھی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم انگلینڈ میں حاصل کی اور بعد ازاں آکسفورڈ یونیورسٹی کےسومرویل کالج سے کیمسٹری میں تعلیم حاصل کی۔ مزید تحقیق کیلئے وہ کیمبرج یونیورسٹی گئیں جہاں انہوں نے ایکس رے کرسٹلوگرافی کے میدان میں مہارت حاصل کی۔ یہ وہ تکنیک ہے جس کے ذریعے سائنسداں کسی مادے کے ایٹمی ڈھانچے کا پتا لگاتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: لیزمیٹنر آسٹرین ماہر طبیعیات اور جوہری سائنسداں تھیں

ڈوروتھی ہوجکن کی سب سے بڑی سائنسی خدمات میں پیچیدہ حیاتیاتی سالمات کی ساخت کو واضح کرنا شامل ہے۔ انہوں نے ایکس رے کرسٹلوگرافی کی مدد سے وٹامن بی ۱۲، پینسلین اور انسولین جیسے اہم مرکبات کی ساخت معلوم کی جو اس سے پہلے سائنسدانوں کیلئے ایک مشکل معمہ تھے۔ خاص طور پر وٹامن بی ۱۲؍ کی ساخت دریافت کرنا ایک بہت بڑی کامیابی تھی کیونکہ یہ ایک نہایت پیچیدہ مالیکیول ہے۔ ان کی تحقیق نے نہ صرف حیاتی کیمیا (biochemistry) بلکہ طب کے میدان میں بھی نئی راہیں کھولیں جس کے نتیجے میں بہتر ادویات کی تیاری ممکن ہوئی۔ ان کی انہیں غیر معمولی سائنسی خدمات کے اعتراف میں انہیں ۱۹۶۴ءمیں نوبیل انعام سے نوازا گیا، جو اس میدان میں ان کی عالمی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ فرانس کی لیجن آف آنر کی رکن بھی رہیں اور ملکیت برطانوی سائنس اکیڈمی کی ممبر شپ حاصل کی۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں مختلف بین الاقوامی تمغے اور اعزازات بھی ملے جن میں رائل میڈل (۱۹۵۶ء)، آرڈر آف میرٹ (۱۹۶۵ء)، کوپلے میڈل (۱۹۷۶ء)، ڈالٹن میڈل (۱۹۸۱ء) اور لومونوسوف گولڈ میڈل (۱۹۸۲ء) قابل ذکر ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ای پی تھامسن برطانوی مورخ، مصنف اور امن کے حامی تھے

ڈوروتھی ہوجکن کی زندگی صرف سائنسی کامیابیوں تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک فعال سماجی شخصیت بھی تھیں۔ انہوں نے سائنس کو فروغ دینے، امن کی کوششوں اور بین الاقوامی تعاون کیلئے بھی کام کیا۔ وہ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں سائنس کی تعلیم کے فروغ کی حامی تھیں۔ اپنی زندگی کے آخری حصے میں وہ مختلف سائنسی اداروں سے وابستہ رہیں اور نوجوان سائنسدانوں کی رہنمائی کرتی رہیں۔ 
۲۹؍جولائی ۱۹۹۴ءکو ان کا انتقال ہوا تھا۔ ان کی وفات کے بعد ایک سیارچہ کو ان سے منسوب کیا گیا، جو۱۹۸۲ءمیں دریافت ہوا تھا۔ اس کے علاوہ رائل سوسائٹی نے ان کے اعزاز میں ایک خصوصی تحقیقاتی فیلوشپ (ڈوروتھی ہوجکن فیلوشپ) قائم کی جو اب بھی نئے سائنسدانوں کو مالی طور پر سپورٹ کرتی ہے۔ 
(وکی پیڈیا اور برٹانیکا ڈاٹ کام)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK