کیا کوئی سوچ بھی سکتا تھا کہ سا بق برطانوی شہزادہ کو گرفتار کرلیا جائے گا؟ مگر ایسا ہوا۔ اطلاعات کے مطا بق جس دن اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر (سا بق شہزادہ کا پورا نام) مشرقی انگلینڈ کے ایک علاقے میں اپنے ووڈ فارم پر، جو اَب اُن کی رہائش گاہ ہے، ۶۶؍ ویں سالگرہ منا رہے تھے
کیا کوئی سوچ بھی سکتا تھا کہ سا بق برطانوی شہزادہ کو گرفتار کرلیا جائے گا؟ مگر ایسا ہوا۔ اطلاعات کے مطا بق جس دن اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر (سا بق شہزادہ کا پورا نام) مشرقی انگلینڈ کے ایک علاقے میں اپنے ووڈ فارم پر، جو اَب اُن کی رہائش گاہ ہے، ۶۶؍ ویں سالگرہ منا رہے تھے تبھی بغیر نمبر پلیٹ کی چھ گاڑیاں وہاں پہنچیں جن میں سے آٹھ پولیس اہلکار، جو سادا لباس میں تھے، اینڈریو کو گرفتار کرنے پہنچے اور پھر پوری دُنیا میں یہ خبر مشتہر ہوئی کہ اینڈریو کو گرفتار کرلیا گیا۔
کیا یہ اتنا آسان تھا؟ اگر قانون کے بالاتر ہونے کی حقیقت کو عملاً تسلیم کیا جاتا ہے تو قانون اپنا کام کرتا ہے اور کسی کی بھی گرفتاری عمل میں آسکتی ہے۔
کیا اس میں کوئی مشکل نہیں تھی؟ قانون کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی ذہنیت کو درمیان میں لایا گیا ہوتا تو بہت کچھ سوچا جاسکتا تھا اور وہ کام جو بہت آسان تھا، مشکل بنایا جاسکتا تھا۔ تب نفاذ ِ قانون کی ایجنسیاں کہہ سکتی تھیں کہ اس سے نظم و نسق کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے، ابھی الزامات ثابت نہیں ہوئے ہیں ، معاملہ شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہے اسلئے سوچ سمجھ کر اور ’’مناسب وقت پر‘‘ کارروائی کی جائے گی، وغیرہ۔ مگر برطانیہ کی نفاذِ قانون کی ایجنسیو ں نے اپنا فرض نبھایا اور یہ دیکھے بغیر کہ معاملہ شاہی خاندان کا ہے یا جس کو گرفتار کرنا ہے وہ شہزادہ رہا ہے، کارروائی کی اور فوراً سے پیشتر کی۔ گزشتہ برس اینڈریو کی سرکاری رہائش گاہ واپس لے لی گئی تھی اور اُنہیں شاہی اعزازات و خطابات سے محروم کردیا گیا تھا۔
برطانوی شاہی خاندان کوطویل عرصے سے جاننے والوں نے گرفتاری کے اس واقعہ کو برطانوی بادشاہت کیلئے بڑا دھچکا، صدمہ اور سنگین بحران قرار دیا ہے۔ اور یہ ہے بھی نہایت افسوسناک، شاہی خاندان کی ساکھ کو کمزور کرنے اور اُس کے وقار کو پامال کرنے والا واقعہ کہ کئی سال نہیں کئی صدی بعد اس خاندان کے کسی فرد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بعض خبروں کے مطابق غالباً ۱۶۴۶ء کے اُس واقعہ کے بعد یہ دوسرا واقعہ ہے جس میں چارلس اول نے اسکاٹ فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے مگر اچھی بات یہ ہے کہ موجودہ بادشاہ چارلس سو م نے اپنے اثرو رسوخ کا استعمال کرکے اینڈریو کے خلاف کیس کو کمزور کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اخباری رپورٹوں سے تو یہ تک ظاہر ہے کہ چارلس سوم نے بکنگھم پیلیس سے باقاعدہ بیان جاری کیا اور پولیس کو ہر ممکن تعاون دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ظاہر ہے کہ معاملہ ایپسٹین فائلز میں ہونے والے انکشافات کا ہے۔ اینڈریو پر جو الزامات ہیں وہ جنسی استحصال سے متعلق تو ہیں جو بہت سنگین ہیں مگر اس کے ساتھ ہی اُن پر برطانوی تجارتی نمائندہ کی حیثیت سے اہم اطلاعات جیفرے ایپسٹین پر ظاہر کرنے اور اہم دستاویزات اُنہیں بھیجنے کا بھی الزام ہے جس کا انکشاف ایپسٹین فائلز سے ہوا ہے۔ پولیس نے کئی گھنٹے اینڈریو سے پوچھ تاچھ کی ہے۔چند روز قبل ہم نے اس کالم میں لکھا تھا کہ ایپسٹین فائلز سےیورپی ملکوں میں تہلکہ مچا ہوا ہے مگر امریکہ میں سناٹا ہے سوائے اکا دکا اُن استعفوں کے جن کا تعلق نجی اداروں سے ہے۔ استعفے وہاں بھی ہوئے مگر ویسے نہیں جیسے یورپ میں ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکیوں میں سب سے بڑا نام تو خود موجودہ صدر ٹرمپ کا ہے۔ مگر نفاذِ قانون کی ایجنسیاں تو وہاں بھی ہیں ، اُن کا بھی تو کوئی فرض ہے۔