• Thu, 08 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی فساد کیس میں ضمانت اور ’’ناضمانت‘‘

Updated: January 06, 2026, 1:54 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

سپریم کورٹ نے ۲۰۲۰ء کے دہلی فساد کیلئے ماخوذ اور گرفتار کئے گئے ملزمین کی ضمانت کی عرضی پر الگ الگ غور کیا ہے۔

INN
آئی این این
سپریم کورٹ نے ۲۰۲۰ء کے دہلی فساد کیلئے ماخوذ اور گرفتار کئے گئے ملزمین کی ضمانت کی عرضی پر الگ الگ غور کیا ہے۔ کیا ایسا کرنا ضروری تھا یا ایک ہی کیس کے ملزمین کو ایک ہی زاویئے سے دیکھنے کی ضرورت تھی، اس سوال کا جواب عدالتی فیصلے کے منظر عام پر آنے اور اس کے مطالعہ سے مل سکتا ہے اور اگر اس کو سمجھنے کیلئے ماہرین کی رائے کا انتظار ضروری ہوا تو اس میں  ایک آدھ روز تو لگ ہی جائیگا مگر چو نکہ فیصلہ عدالت میں  پڑھ کر سنایا گیا ہے اس لئے وہاں  موجود صحافیوں  کی جو رپورٹیں  منظر عام پر آئی ہیں  اُن کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ عدالت نے کسی کیلئے ضمانت کی راہ ہموار کی اور کسی کو اب بھی ضمانت کا مستحق نہیں  سمجھا۔ اِس ضمن میں  سوچ کا ایک زاویہ یہ ہے کہ جب کیس ایک ہی ہے اور پانچ کو ضمانت کا مستحق قرار دیا گیا ہے تو دیگر دو کو ضمانت سے کیوں  محروم رکھا گیا۔ سوچ کا دوسرا زاویہ ہے کہ ممکن تھا کہ دو کی وجہ سے دیگر پانچ کی ضمانت بھی رک جاتی!
سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد موصولہ رپورٹوں  سے ہم نے یہ تاثر لیا کہ عدالت نے استغاثہ کی پیش کردہ تفصیل پر غورو خوض کیا، دفاع کے دلائل پر توجہ نہیں  دی۔ عدالت چونکہ عدالت ہے اس لئے اُس کے ہر فیصلے، نکتے اور تبصرے کے آگے سر تسلیم خم ہی کیا جاتا ہے مگر جب عدالت نے استغاثہ کی تفصیل کو پیش نظر رکھا تو  استغاثہ کو یہ حکم تو دیا ہی جانا چاہئے تھا کہ پانچ سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ملزمین کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع کرے تاکہ ان کے خلاف جرم ثابت نہ ہونے کی صورت میں  ملک کے پولیس انتظامیہ اور عدالتی نظام کو شرمندہ نہ ہونا پڑے کہ جرم ثابت نہیں  ہوا مگر ملزموں  کو طویل عرصہ تک جیل میں  رہنا پڑا جس سے اُن کے بنیادی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہوئی۔ عدالت نے اس نکتے پر ضرور غور کیا ہوگا کہ ان (ملزموں ) کے خلاف یو اے پی اے کا اطلاق ہوتا بھی ہے یا نہیں ؟ مگر چونکہ اس بنیادی سوال پر کوئی تبصرہ ہماری نگاہ سے نہیں  گزرا اس لئے ملزمین کی قید اور مقدمے کی شنوائی شروع نہ ہونے کی حقیقت مزید افسوسناک بن جاتی ہے۔
ماضی میں  بہت سے افراد کئی کئی سال کے بعد عدالت سے باعزت بَری ہوئے، اس طرح اُنہیں  انصاف تو ملا مگر تب نا انصافی کے طویل عرصہ کے بعد، اُن کا  عرصہ ٔ نوجوانی غارت ہوچکا تھا اور خاندان منتشر ہوچکا تھا اسلئے یہ ضروری ہے کہ کوئی بھی مقدمہ جتنی جلد ممکن ہو شروع ہو، تیز رفتاری سے چلے اور بلا تاخیر یا کم تاخیر کے ساتھ فیصل ہوجائے۔ ملزم کا جرم ثابت ہو جائے تو اُسے فی الفور سزا ملے اور اگر اس کا جرم ثابت نہ ہو تو فی الفور پروانۂ آزادی مل جائے۔ اس سے بے یقینی کے عالم میں  قید و بند کی صعوبت سے نجات مل سکتی ہے یا کم سے کم وقت ضائع ہوسکتا ہے۔ مقدمے کی تیز رفتار سماعت کا حکم دے کر فاضل جج صاحبان اس کو یقینی بنا سکتے ہیں ۔ اگر ایسا ہوتو بے گناہوں  کو کم وقت میں  انصاف ملے گا اور مجرموں  کو کم وقت میں  سزا سنائی جاسکے گی۔ دونوں  ہی صورتیں  انصاف کے عمل کو مستحکم کریں  گی۔ جہاں  تک عمر خالد اور شرجیل امام کا تعلق ہے، انہیں  زیر بحث فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کا حق ہے اس لئے اُمید کی جاتی ہے کہ عدالت سے از سرنو رجوع کیا جائے گا ورنہ اُن ’’گواہوں ‘‘ کے بیان ریکارڈ کرنے میں  مزید تاخیر ہوئی جن کے نام اورشناخت صیغہ ٔ راز میں  ہیں  تو ایک سال انتظار کرنا ہو کہ عدالت نے استغاثہ کو ایک سال کی مہلت دی ہے ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK