Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ججوں کو درست فیصلہ کرنے میں ہچکچانا نہیں چاہیے، چاہے انہیں ترقی نہ ملےیا ارباب اقتدار ناراض ہوں‘‘

Updated: March 05, 2026, 1:07 PM IST | Agency | New Delhi

کیرالا ہائی کورٹ میں ’جسٹس ٹی ایس کرشنامورتی ایئر میموریل لیکچر‘ سے خطاب میں جسٹس بی وی ناگرتنا کا اظہار خیال ، انہوں نے جج کے منصب کو عدالتی دھرم قراردیا جس کا ہر حال میں احترام ضروری ہے۔

Justice B.V. Nagarjuna Speaking.Photo:INN
جسٹس بی وی ناگرتنا خطاب کرتی ہوئیں- تصویر:آئی این این
سپریم کورٹ کی جج جسٹس بی وی ناگرتنا نے کہا ہے کہ ججوں کو صحیح فیصلہ کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہونا چاہیے، چاہے اس کی وجہ سے ان کی ترقی یا توسیع رک جائے یا وہ اقتدار میں موجود افراد کی ناراضی مول لے لیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی نظر ثانی (جوڈیشل ریویو) کے درست استعمال کیلئے ہمت اور پختہ یقین بے حد ضروری ہے۔ منگل کے روز(۴؍مارچ۲۰۲۶ء کو) کیرالا ہائی کورٹ میں ’دوسرے جسٹس ٹی ایس کرشنامورتی ایئر میموریل لیکچر‘ سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس ناگرتنا نے کہا کہ عدالتی نظر ثانی کے تحت اکثر عدالت کو قوانین کو کالعدم قرار دینا پڑتا ہے، ایگزیکٹیو کے اقدامات پر روک لگانی پڑتی ہے اور بعض اوقات سیاسی اکثریت کے ذریعے کی گئی آئینی ترامیم کو بھی منسوخ کرنا پڑتا ہے۔
 
 
’’ٹرانسفار میٹیو کانسٹی ٹیوشنلزم اور بیسک اسٹرکچر ڈاکٹرین‘‘کے موضوع پرتفصیلی لیکچر میں انہوں نے کہاکہ ’’درست فیصلے کرنا آسان کام نہیں ہے۔ ان کے اکثر سیاسی نتائج ہوتے ہیں۔ ججوں کو اندازہ ہو سکتا ہے کہ کوئی ناپسندیدہ فیصلہ ان کی ترقی یا مدتِ ملازمت میں توسیع کے امکانات پر اثر ڈال سکتا ہے یا انہیں ’اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی بری نظر‘ میں لا سکتا ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ’’ آئین جو تقاضا کرتا ہے، اسے پورا کرنے میں ایسی سوچ کبھی رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔‘‘
 
 
جسٹس ناگرتنا نے واضح کیا کہ حلف منصب ایک جج کا ’عدالتی دھرم‘ ہے اور اس کا احترام ہر حال میں کیا جانا چاہیے، چاہے اس کے ذاتی یا پیشہ ورانہ نتائج کچھ بھی ہوں۔ اگر فیصلے کریئر کے نتائج کے خوف سے کیے جائیں تو عدالتی نظرِ ثانی حقیقی ہونے کے بجائے محض علامتی بن کر رہ جائے گی۔ جسٹس ناگرتنا نے جسٹس ایچ آر کھنہ کو آئینی جرأت کی بہترین مثال قرار دیا۔ ایمرجنسی کے دوران اے ڈی ایم جبل پور بنام شیواکانت شکلا مقدمہ میں سپریم کورٹ کی اکثریت نے قرار دیا تھا کہ بنیادی حقوق کی معطلی کے دوران شخصی آزادی کے نفاذ کیلئےعدالت سے رجوع کرنے کا حق بھی محدود ہو جاتا ہے۔ جسٹس کھنہ نے اختلافی رائے دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئین ریاست کو ایمرجنسی میں بھی زندگی اور آزادی کے حق کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔انہوں نے کہا کہ اس اختلافی رائے کی وجہ سے جسٹس کھنہ کو ذاتی قیمت چکانی پڑی اور انہیں چیف جسٹس آف انڈیا کے عہدے سے محروم کر دیا گیا۔ تاہم تاریخ اور بعد کی آئینی فقہ نے ان کے مؤقف کو درست ثابت کیا۔ جسٹس ناگرتنا نے مزید کہا کہ عدالتی آزادی محض آئینی تحفظات یا ادارہ جاتی ڈھانچے کا نام نہیں، بلکہ اس بات سے جڑی ہے کہ جج اپنے منصب کے فرائض کیسے انجام دیتے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ اس کے دو پہلو ہیں۔ پہلا، بیرونی دباؤ سے آزادی یعنی سیاسی دباؤ، ادارہ جاتی دھمکی یا عوامی مطالبات سے آزاد ہونا۔ اس میں اختلافی رائے دینے کا حق بھی شامل ہے۔دوسرا پہلو ادارے کے اندرونی دائرے میں آزادی ہے۔ عدالتی آزادی صرف سیاسی شاخوں سے علاحدگی تک محدود نہیں، بلکہ ہر جج کو قانون کے بارے میں اپنی سوچ قائم کرنے اور اسے ظاہر کرنے کی فکری خودمختاری حاصل ہونی چاہیے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK