Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’دی کیرالا اسٹوری ۲‘‘ کا نام تبدیل کرنے کی درخواست مسترد

Updated: March 06, 2026, 7:35 PM IST | Mumbai

جمعرات کو کیرالا ہائی کورٹ نے ایک درخواست کو سماعت کے لیے قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ فلم کیراالا ۲؍ کا نام ایسا ہونا چاہیے جس میںکیرالا یا کیرالم کے الفاظ شامل نہ ہوں، جیسا کہ لائیو لا نے رپورٹ کیا۔

Kerala Story Poster.Photo:INN
کیرالہ اسٹوری۲ کا پوسٹر۔ تصویر: آئی این این

جمعرات کو کیرالا ہائی کورٹ نے ایک درخواست کو سماعت کے لیے قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ فلم  کیراالا ۲؍  کا نام ایسا ہونا چاہیے جس میںکیرالا یا کیرالم  کے الفاظ شامل نہ ہوں، جیسا کہ  لائیو لا نے رپورٹ کیا۔ چیف جسٹس سومن سین  اور جسٹس  شیام کمار وی ایم  کی بینچ نے یہ بھی کہا کہ درخواست گزار دراصل ایک دوسرے بینچ پر’’الزام تراشی‘‘ کرنے کی کوشش کر رہا تھا، جس نے فلم کی ریلیز پر عائد پابندی ہٹا دی تھی، جیسا کہ بار اینڈ بینچ  نے رپورٹ کیا۔ فلم ۲۷؍ فروری کو ریلیز ہوئی تھی۔
 اس دن پہلے، جسٹس  ایس اے دھرمادھیکاری  اور جسٹس  پی وی  بالکرشنن  کی ڈویژن بینچ نے جسٹس بیچو کورین تھامس کے اس حکم کو منسوخ کر دیا تھا، جس میں فلم کی ریلیز پر عارضی پابندی عائد کی گئی تھی۔
فلم کیرالا اسٹوری ۲؍مبینہ طور پر مختلف ریاستوں کی ہندو خواتین کو مسلم مردوں کے ساتھ تعلقات میں دکھانے اور انہیں اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنے کی کہانی پیش کرتی ہے۔ ۱۷؍ فروری کو جاری ہونے والے ٹیزر میں ایک منظر شامل ہے جس میں ایک ہندو عورت کو بیف کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
۲۶؍ فروری کو، تھامس نے کہا کہ فلم کمیونل ہم آہنگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن نے فلموں کی کلیئرنس کے لیے رہنما اصولوں کو نظرانداز کیا ہے، اور متعلقہ اتھاریٹی سے کہا کہ معاملے کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔ اس حکم کو فلم کے پروڈیوسر وِپل امرت لال شاہ  نے چیلنج کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی فلم کی ریلیز روکنا جو پہلے ہی سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن سے کلیئر ہو چکی ہو، انتہائی قدم ہے اور یہ صرف استثنائی حالات میں لیا جانا چاہیے۔
تازہ درخواست  چندرموہنن کے سی ، ایک ریٹائرڈ سوشل سائنس استاد اور سماجی کارکن، نے وکیل مہناز پی محمد کے ساتھ دائر کی، جیسا کہ بار اینڈ بینچ نے رپورٹ کیا۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان کی جیت میں کئی کھلاڑیوں کا مشترکہ کردار

درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ فلم کے پروڈیوسر کی درخواست اس وقت سنی گئی تھی جب سنگل جج کے عارضی پابندی کے حکم کو ابھی عدالت کی ویب سائٹ پر شائع نہیں کیا گیا تھا۔عدالت نے درخواست گزاروں سے کہاکہ ’’آپ ججز پر کیسے الزام تراشی کر سکتے ہیں؟ آپ کو یہ مٹانا ہوگا۔ اگر آپ کو اعتراض ہے تو آپ سپریم کورٹ جا سکتے ہیں۔ لیکن بطور ڈویژن بینچ، میں کسی دوسرے ہم مرتبہ بینچ کی رائے پر فیصلہ نہیں کر سکتا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:روی کشن کا شو ’’معاملہ لیگل ہے‘‘ سیزن ۳، اپریل کو نیٹ فلکس پر ریلیز ہوگا

درخواست گزاروں نے فلم کے عنوان پر اعتراض کیا، مبینہ طور پر یہ کہتے ہوئے کہ فلم کیرالا کو’’دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مرکز‘‘ ظاہر کرتی ہے اور اسے بغیر کسی مستند ڈیٹا کے ’’دہشت گردوں کی نرسری‘‘ کے طور پر پیش کرتی ہے، جیسا کہ بار اینڈ بینچ  نے رپورٹ کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK