Inquilab Logo Happiest Places to Work

بورڈ امتحان کے نتائج اور والدین کا فرض

Updated: May 03, 2026, 3:09 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

بارہویں کے نتائج ظاہر ہوچکے ہیں ۔ عنقریب دسویں کے نتائج بھی ظاہر کردیئے جائینگے۔ دسویں اور بارہویں کے امتحان طالب علم کی زندگی کے اولین اہم مراحل ہوتے ہیں جن میں بہتر کارکردگی کی ضرورت ہوتی ہے مگر ان دو امتحانات کے نتائج کو ’’کرو یا مرو‘‘ کے نظریہ سے جوڑ دینا ٹھیک نہیں ہے۔

INN
آئی این این
بارہویں  کے نتائج ظاہر ہوچکے ہیں ۔ عنقریب دسویں  کے نتائج بھی ظاہر کردیئے جائینگے۔ دسویں  اور بارہویں  کے امتحان طالب علم کی زندگی کے اولین اہم مراحل ہوتے ہیں  جن میں  بہتر کارکردگی کی ضرورت ہوتی ہے مگر ان دو امتحانات کے نتائج کو ’’کرو یا مرو‘‘ کے نظریہ سے جوڑ دینا ٹھیک نہیں  ہے۔ طالب علم کو تحریک یا ترغیب دینے کیلئے اُس کے سامنے ایک ہدف رکھنا تو اچھی بات ہے مگر ہدف طے کرتے وقت طالب علم کی استطاعت اور گھر کے ماحول کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے۔ عموماً یہ نہیں  ہوتا اور طالب علم سے اُمید کی جاتی ہے کہ وہ بہر صورت اُس ہدف کو پالے جو طے کردیا گیا ہے۔ ایک طالب علم جو نویں  میں  ۷۰؍ فیصد کے آس پاس تھا، کوشش کرے اور ہر طرح کے حالات موافق ہوں  تو ۸۰؍ فیصد تک جاسکتا ہے مگر اُس سے ۹۰؍ فیصد کی اُمید کرنا زیادتی ہے۔ کئی خاندانوں  میں  پڑھائی کیلئے سازگار ماحول نہیں  ہوتا اس کے باوجود طالب علم کے سر پر ’’ہدف‘‘ کی تلوار لٹکی رہتی ہے۔ ہونا یہ چاہئے کہ طالب علم سے کہا جائے کہ ہم آپ سے اتنے فیصد کی اُمید کرتے ہیں  مگر آپ یہ نہ کرسکیں  تو ایسا نہیں  ہے کہ کچھ اور نہیں  کرپائینگے۔ والدین، رشتہ داروں  اور معاشرہ کو طلبہ کیلئے بوجھ نہیں ، اُن کی حوصلہ افزائی کا سبب بننا چاہئے۔ انہیں  یاد رکھنا چاہئے کہ دسویں  میں  ۵۵؍ فیصد والے طالب علم کی حوصلہ افزائی اُسے بارہویں  میں  ۷۵؍ فیصد تک لے جاسکتی ہے اور بارہویں  میں  ۷۵؍ فیصد کا اسکور اعلیٰ و پیشہ جاتی تعلیم کے داخلہ امتحان میں  اعلیٰ رینک تک پہنچا سکتا ہے۔ زندگی نشیب و فراز کا نام ہے۔ یہ نہ تو نشیب ہی نشیب ہے نہ ہی فراز ہی فراز۔ جو ایک بار گرا وہ آئندہ بھی گرتا رہے گا ایسا نہیں  ہوتا۔ وہ سنبھلتا بھی ہے اور سنبھل کر نئی رفتار کے ذریعہ اپنی پہچان بھی بناتا ہے۔ اس لئے کم مارکس لانے والوں  کو نہ تو سزا دینی چاہئے نہ اُن کی ڈانٹ ڈپٹ کرتے وقت ایسے الفاظ کا استعمال کرنا چاہئے جو اُنہیں  اندر سے توڑ دے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ محنت طالب علم کو کرنی ہوتی ہے مگر ہدف گھر کے یا آس پاس کے لوگ طے کرتے ہیں ۔ ان میں  وہ بھی ہوتے ہیں  جو تبصرہ کرنے سے باز نہیں  آتے۔ فوراً رائےزنی کرتے ہیں ، مثلاً کسی نے کہہ دیا کہ ’’صرف ۸۰؍ فیصد آیا؟ ہم تو سمجھتے تھے کہ ۹۰؍ کراس کرے گا!‘‘ یہ جملہ سنتے ہی والدین گویا جل بھن جاتے ہیں ۔ اب کون سمجھائے کہ کہنے سننے والوں  سے نمٹنے کیلئے اپنے بچوں  سے انتقام نہیں  لیا جاسکتا۔ جو لوگ تبصرہ کرنے میں  ماہر ہیں  وہ کبھی نہیں  چوکتے۔ جس نے یہ تبصرہ کیا کہ ’’ہم تو سمجھتے تھے نائنٹی کراس کریگا‘‘ وہ تب بھی چپ نہ بیٹھتے جب بچہ نائنٹی کراس کرلیتا۔ اسلئے والدین کو ’’کون کیاکہے گا‘‘ کی سوچ سے باہر آجانا چاہئے۔
بہت سے والدین دو سال پہلے بارہویں  میں  ۹۲؍ فیصد لانے والے اپنے پہلے بیٹے سے ۸۵؍ لانے والے دوسرے بیٹے کا موازنہ کرتے ہیں  کہ تم تو جگ ہنسائی کا سبب بن گئے! یہ بھی غلط طریقہ ہے جس سے حوصلہ افزائی نہیں  ہوتی بلکہ حوصلہ ٹوٹتا ہے۔ آخر یہ کیوں  نہیں  سوچا جاتا کہ پانچوں  اُنگلیاں  برابر نہیں  ہوتیں ؟
یہا ں ایک سوال یہ بھی ہے کہ آخر کب ہمارا معاشرہ منفی طرز فکر کو ترک کرے گا اور مثبت طرز فکر اپنائے گا؟ مثبت طرز فکر حوصلہ افزائی کا سبب بنتا ہے ۔ اس کا ایک تقاضا یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں  کا جائزہ لیں  کہ اگر اُن کا نتیجہ خراب آیا ہے تو کہیں  وہ اسے دل پر تو نہیں  لے رہے ہیں ؟ اُن کی ڈھارس بندھانا والدین کا فرض ہے ۔ 
education Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK