Inquilab Logo Happiest Places to Work

بارہویں کے نتائج کے بعد فوری توجہ کی حامل کچھ باتیں طلبہ ذہن نشین کرلیں

Updated: May 03, 2026, 3:52 PM IST | Aamir Ansari | Mumbai

یہ بھی یاد رکھیںکہ آج جو طلبہ نیٹ کا امتحان دینے والے ہیں،وہ اسے پوری توجہ کے ساتھ دیںکیونکہ میڈیکل فیلڈ میں داخلہ زیادہ تر ا نٹرنس امتحان پر منحصر ہوتا ہے۔

For students who want to improve their marks, there are also opportunities like class improvement scheme and re-checking and revaluation. Photo: INN
جن طلبہ کو اپنے مارکس بہتر کرنے ہیں، ان کیلئے کلاس امپروومنٹ اسکیم اور ری چیکنگ اور ری ویلیوایشن جیسے مواقع بھی ہیں۔ تصویر: آئی این این

الحمد للہ مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ کے  بارہویں جماعت کے نتائج کا اعلان ہو چکا ہے جس کیلئے تمام کامیاب طلبہ کو دلی مبارکباد۔ اس موقع پر خصوصاً سائنس کے طلبہ کے لیے ایک اہم پیغام ہے کہ بارہویں کے مارکس یقیناً اہم ہوتے ہیں، لیکن اعلیٰ تعلیم خصوصاً میڈیکل فیلڈ میں داخلہ زیادہ تر انٹرنس امتحانات پر منحصر ہوتا ہے۔آج یعنی۳؍مئی این ای ای ٹی (نیٹ )  امتحان منعقد ہونے والا ہے، اس لیے وہ تمام طلبہ جن کے مارکس توقع سے کم آئے ہیں، وہ ہرگز مایوس نہ ہوں اور نہ ہی اپنے حوصلے کو کمزور ہونے دیں۔ یاد رکھیں کہ ایم بی بی ایس ، بی ڈی ایس ،بی اے ایم ایس اور بی یو ایم ایس  جیسے کورسیزکیلئے اگرچہ پی سی بی میں ۵۰؍ فیصد مارکس ضروری ہیں، لیکن اس کے علاوہ بی ایچ ایم ایس ، فیزیوتھیراپی، آکیوپیشنل تھیراپی اور دیگر کئی کورسیز ایسے ہیں جہاں داخلہ نیٹ اسکور کی بنیاد پر ممکن ہے، چاہے بارہویں کے مارکس کم ہی کیوں نہ ہوں۔ لہٰذا اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ طلبہ اپنے رزلٹ کو ایک طرف رکھ کر پوری توجہ نیٹ  امتحان پر مرکوز کریں اور ہر حال میں امتحان میں شرکت کریں۔ مزید یہ کہ جن طلبہ کو اپنے مارکس بہتر کرنے ہیں، ان کے لیے کلاس امپروومنٹ اسکیم اور ری چیکنگ  اور ری ویلیوایشن جیسے مواقع بھی موجود ہیں لیکن یہ تمام اقدامات بعد میں کیے جا سکتے ہیں۔ فی الحال کامیابی کا اصل راستہ آپ کی محنت، توجہ اور آج کے امتحان میں بہترین کارکردگی سے طے ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کی جین زی کو اے آئی ٹولز پر مہارت حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے: سیم آلٹ مین کا مشورہ

مہاراشٹر اسٹیٹ  بورڈ میں کلاس امپروومنٹ اسکیم اُن طلبہ کیلئے ایک اہم موقع ہے جنہوں نے بارہویں (سائنس، کامرس یا آرٹس)  میںکامیابی حاصل کر لی ہے لیکن اپنے حاصل کردہ مارکس سے مطمئن نہیں ہیں۔ ایسے طلبہ کو حکومت مہاراشٹر کی جانب سے تین مواقع دیے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنے نتائج کو بہتر بنا سکیں۔ اس اسکیم کے تحت سب سے پہلا مرحلہ یہ ہے کہ طالب علم کو اسی کالج کے ذریعے دوبارہ فارم بھرنا ہوگا جہاں سے اس نے بارہویں کا امتحانی فارم جمع کیا تھا۔ دوسرا اہم اصول یہ ہے کہ کلاس امپروومنٹ اسکیم میں صرف ایک یا دو مضامین کا انتخاب ممکن نہیں ہوتا، بلکہ طالب علم کو اپنے تمام مضامین دوبارہ دینے ہوتے ہیں یعنی اگر کسی نے ۶؍ مضامین لیے تھے تو ۶؍ کے ۶؍ اور اگر بائی فوکل کورس کے تحت ۵؍مضامین تھے تو پانچوں مضامین کے امتحانات دوبارہ دینے ہوں گے، ان میں کسی قسم کی تبدیلی کی اجازت نہیں ہوتی۔ 

مثال کے طور پر اگر کسی سائنس کے طالب علم کے فزکس یا بائیولوجی میں مارکس کم آئے ہیں تو وہ صرف انہی مضامین کا امتحان نہیں دے سکتا بلکہ اسے انگلش، آئی ٹی، فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی اور میتھس سمیت تمام مضامین کے امتحانات میں دوبارہ شرکت کرنی ہوگی۔ اس اسکیم کے تحت تین مواقع فراہم کیے جاتے ہیں: پہلا جون-جولائی۲۰۲۶ءکے امتحانات میں، دوسرا فروری-مارچ۲۰۲۷ءکے امتحانات میں اور تیسرا جون- جولائی ۲۰۲۷ء کے امتحانات میں۔

یہ بھی پڑھئے: ’اے آئی‘ ۲۰۳۰ء تک ان سیکٹر میں روزگار کےبھرپور مواقع دے گاا

آخر میں یہ بات ذہن نشین رہے کہ ان تمام مواقع میں سے طالب علم کا جو بہترین نتیجہ ہوگا، وہی حتمی طور پر منظور کیا جائے گا اور سابقہ نتیجہ بورڈ کو واپس کرنا ہوگا۔مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ کے تحت بارہویں کے نتائج کے بعد ایک اور اہم مرحلہ مارکس کی ری چیکنگ  اور ری ویلیوایشن کا ہوتا ہے، جسے طلبہ کو اچھی طرح سمجھنا ضروری ہے۔ ری چیکنگ کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ آپ کے حاصل کردہ مارکس کی دوبارہ گنتی (Recounting) کی جاتی ہے یعنی اگر کہیں نمبر جوڑنے میں غلطی ہوئی ہو تو اسے درست کیا جاتا ہے۔ یہ پورا عمل بورڈ کے اندر ہی سرکاری طور پر انجام پاتا ہے اور طالب علم کو اس کی تفصیلات نہیں دی جاتیں، صرف نتیجہ اپڈیٹ ہو جاتا ہے۔

اس کے برعکس ری ویلیوایشن ایک تفصیلی عمل ہے، جس میں پورے پیپر کو دوبارہ چیک کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی طالب علم اپنے مارکس سے مطمئن نہ ہو تو سب سے پہلے اسے اپنے متعلقہ مضمون کی  آنسر شیٹ کی فوٹو کاپی حاصل کرنی ہوتی ہے۔ یہ درخواست عام طور پر۳؍ مئی سے۱۷؍ مئی کے درمیان بورڈ کی آفیشل ویب سائٹ کے ذریعے دی جا سکتی ہے جس کیلئے فی پیپر تقریباً۴۰۰؍ روپے فیس ادا کرنی ہوتی ہے۔ درخواست دینے کے بعد۸؍ سے۱۵؍ دن کے اندر آنسر شیٹ کی کاپی طالب علم کے پتے پر موصول ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایک سوال سے سیکوریٹی گارڈ کی زندگی میں انقلاب، ویڈیو ٹیم کا ’پروڈکشن لیڈر‘ بنا

اس کے بعد طالب علم اپنے اساتذہ کی مدد سے اس کا بغور جائزہ لے سکتا ہے کہ کہیں نمبر دینے میں کوئی غلطی یا کمی تو نہیں ہوئی۔ اگر جانچ کے بعد بھی طالب علم مطمئن نہ ہو تو جس دن آنسر شیٹ موصول ہو، اس کے پانچ دن کے اندر اندر متعلقہ کالج کے ذریعے ری ویلیوایشن کا فارم جمع کروانا ضروری ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں پورے پیپر کی دوبارہ جانچ کی جاتی ہے۔ یہ مکمل عمل عموماً ڈیڑھ سے دو ماہ تک جاری رہتا ہے، اس لیے جو طلبہ اس عمل سے گزرنا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ مقررہ وقت کے اندر جلد از جلد درخواست دیں تاکہ اپنے حق میں بہتر نتیجہ حاصل کر سکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK