Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگ بندی کے اسباب اور خدشات

Updated: April 10, 2026, 1:46 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے کچھ بعید نہیں ۔ وہ سنکی ہیں مگر ’’دیوانہ بکار خویش ہشیار‘‘ کے مصداق ہیں ۔

INN
آئی این این
  امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے کچھ بعید نہیں  ۔ وہ سنکی ہیں   مگر ’’دیوانہ بکار خویش ہشیار‘‘ کے مصداق ہیں   ۔ جنگ سے متعلق بیانات میں    اُن کا اس حد تک آگے جانا کہ جیسے پیچھے ہٹنے کے تمام راستے بند کردیئے ہوں   اور پھر اس حد تک نرم پڑ جانا کہ جیسے پوری دُنیا کے سامنے ایران کو مخاطب کرکے کہہ رہے ہوں   کہ ’’سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں   آئے‘‘ مشکوک لگتا ہے۔ اس جانب ہم نے کل کے خصوصی اداریہ میں   بھی اشارہ کیا تھا۔ جنگ بند کرنے پر رضامند ہوجانا اور ایران کی پیش کردہ فہرست کو مذاکرات کی بنیاد بنانا شکست  تسلیم کرلینے کے مترادف ہے۔ اس صمن میں   یہ جاننے سے پہلے کہ ٹرمپ کے اعلانِ جنگ بندی سے شک و شبہ کیوں   پیدا ہوتا ہے، صدرِ امریکہ کی پریشانیوں   کو سمجھنا ضروری ہے۔ 
امریکہ بھاری معاشی نقصان اُٹھا رہا تھا، ایک ارب ڈالر یومیہ۔ بے شک امریکہ دُنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے اور ایک ارب ڈالر کی رقم اونٹ کے منہ میں   زیرہ جیسی ہے مگر اتنی رقم روزانہ خرچ ہو تو یہ زیرہ اونٹ کو زیرو بنا سکتا ہے۔ اس لئے ہمارا خیال ہے کہ ٹرمپ نے معاشی نقصان کے سبب قدم پیچھے لئے۔ دوسری وجہ: قارئین جانتے ہیں   کہ جب امریکی فوجیوں   کی لاشیں   وطن پہنچتی ہیں   تو وہاں   کے عوام بے قابو ہوجاتے ہیں  ۔ وہ وقت آچکا تھا کہ امریکی فوجیوں   کی لاشیں   وطن واپس جاتیں   اور عوامی رائے نہایت تیزی سے بدلتی۔ ٹرمپ نے اس کو بھانپ لیا اور پیچھے ہٹنا گوارا کرلیا۔ تیسری وجہ: آبنائے ہرمز بند ہونے سے عالمی معیشت کا ڈگمگانا طے تھا۔ معیشت کو جتنا نقصان ہوتا امریکہ اور اسرائیل کیخلاف بدظنی بڑھتی۔ ٹرمپ اپنی ٹیرف پالیسی کے سبب بہت سے ملکوں   کو ناراض کرچکے تھے لہٰذا مزید ناراضگی مول نہیں   لے سکتے تھے۔ دیگر ممالک اُن کو بوجھ سمجھنے لگے ہیں  ۔ ناٹو نے تو ایران جنگ میں   شرکت سے صاف انکار کردیا تھا۔ اس طرح ٹرمپ کو اپنی ساکھ داؤ پر لگتی اور امریکی برتری کی ناؤ ڈوبتی نظر آئی۔ چوتھی وجہ: جنگ میں   اگر ہزار دھمکیوں   کی کوئی ایک دھمکی ہوسکتی ہے تو وہ بھی ٹرمپ دے چکے تھے (پو ری تہذیب مٹا دینگے)۔ اس سے مبصرین کو اشارہ ملا کہ ٹرمپ نیوکلیائی ہتھیار کے درپے ہیں  ۔ ظاہر ہے کہ اس کے اثرات پورے کرۂ ارض پر مرتب ہوتے مگر ٹرمپ کے سامنے ایک دشواری اور تھی۔ جن فوجی افسران کو خطرناک ترین اسلحہ استعمال کرنے کی ذمہ داری سونپی جاتی اُنہیں   امریکی قانون سے ایسی ہدایت ماننے سے انکار کا اختیار حاصل تھا۔ اگر فوج انکار کر دیتی تو ٹرمپ کہیں   کے نہ رہتے، تاریخی بے عزتی ہوجاتی۔ پانچویں   وجہ: میک امریکہ گریٹ اگین (ماگا) حامیوں   میں   دراڑ پڑگئی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ صدر نے پرائی جنگ نہ لڑنے کا جو وعدہ کیا تھا اُس کا کیا؟ ٹرمپ اس کی وجہ سے بھی سٹپٹائے۔ہماری نظر میں   یہ پانچ بڑی وجوہات ہیں  ۔ 
اِن کی بناء پر وہ پیچھے ہٹے مگر کیا اُنہیں   اپنی بدترین رُسوائی منظور ہوسکتی ہے؟ نہیں  ۔ اسی لئے ہمیں   شک ہے کہ مشیروں   نے اُنہیں   کوئی ایسی پٹی ّ ضرور پڑھائی ہے جو ابھی مخفی ہے۔ ہوسکتا ہے ٹرمپ خود پیچھے ہٹ کر اسرائیل کو آگے بڑھا ئیں  ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ عرصہ خاموش رہیں   اور پھر زیادہ تیاری کے ساتھ دوبارہ جنگ شروع کریں  ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ایران کو ’’اندر سے نقصان‘‘ پہنچانے کیلئے کوئی نئی چال چلیں  ۔ انہی خدشات کے سبب اُن کی جنگ بندی پر یقین نہیں   آتا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK