دونوں کی رہائش گاہوں اور ٹی ایم سی کے دفتر پر سی آئی ڈی کا بیک وقت چھاپہ ، ترنمول کانگریس کے ممبران اسمبلی کے جعلی دستخطوں کا معاملہ
EPAPER
Updated: June 09, 2026, 11:00 PM IST | Kolkata
دونوں کی رہائش گاہوں اور ٹی ایم سی کے دفتر پر سی آئی ڈی کا بیک وقت چھاپہ ، ترنمول کانگریس کے ممبران اسمبلی کے جعلی دستخطوں کا معاملہ
مغربی بنگال کی اہم اپوزیشن پارٹی ترنمول کانگریس میں ٹوٹ پھوٹ کے درمیان ایک طرف سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اپنے بھتیجے ابھیشک بنرجی کے ساتھ قومی راجدھانی دہلی میں ہیں تو دوسری طرف ریاستی سی آئی ڈی نے منگل کولکاتا میں ان کی رہائش گاہ پر دھاوابول دیا۔سی آئی ڈی ترنمول کانگریس ممبران اسمبلی کے دستخط کی مبینہ جعلسازی کی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر ممتا کی رہائش گاہ پر پہنچی۔سی آئی ڈی کے عہدیداروں کی ایک ٹیم بیک وقت ترنمول کے قومی جنرل سیکریٹری ، رکن پارلیمنٹ اور ممتا بنرجی کے بھتیجے ابھیشیک بنرجی کی رہائش گاہ پر پہنچی۔ ریاستی تفتیشی ایجنسی کے اہلکار، مقامی پولیس اہلکاروں اور خواتین پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی نفری کے ساتھ دوپہر میں ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی کی رہائش گاہ پر پہنچے۔ حالانکہ سی آئی ڈی کو ممتا کی رہائش گاہ کے باہر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا کیوں کہ پارٹی کارکنوں خاص طور پر خاتون کارکنوں کی بڑی تعداد وہاں پہنچ گئی تھی اور اس نے کافی دیر تک سی آئی ڈی کو روکے رکھا لیکن بعد میں انہیں اندر جانے دے دیا۔
دوسری طرف سی آئی ڈی کی ٹیم کو ابھیشیک بنرجی کی رہائش گاہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ پارٹی کے سابق ایم ایل اے اور اہم لیڈر سبھاشیش چکرورتی نے بتایا کہ جب سی آئی ڈی کی ٹیم پہنچی تو اس وقت ابھیشیک بنرجی دہلی میں تھے۔ اسی لئے ہم نے پولیس کی ٹیم کو احاطےمیں بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ سی آئی ڈی کی ٹیم کو کہہ دیا گیا ہے کہ وہ اس وقت آئیں جب ابھیشیک بنرجی گھر پر ہوں۔ اُس وقت وہ جو چاہے تلاشی لے لیں۔ انہیں روکا نہیں جائے گا لیکن ان کی غیر موجودگی میںکسی ایجنسی کے کسی افسر کو گھسنے بھی نہیں دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ سی آئی ڈی نے پیر کو ابھیشیک بنرجی کو تیسرا نوٹس جاری کیا تھا، جس میں انہیں منگل کی شام۵؍ بجے تک تفتیش کاروں کے سامنے حاضر ہونے کی ہدایت کی تھی ۔ حالانکہ ایجنسی کو معلوم ہے کہ وہ اس وقت دہلی میں انڈیا اتحاد کی میٹنگ میںشامل ہونے گئے ہیں اس کے باوجود انہیں پیش ہونے کی ہدایت دی گئی ۔
قابل ذکر ہے کہ یہ تنازع مغربی بنگال اسمبلی کے اسپیکر کو پیش کی گئی ایک تجویز سے متعلق ہے جس میں ٹی ایم سی کے سینئر ممبراسمبلی سواندیب چٹوپادھیائے کو اپوزیشن لیڈر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس تجویز پر ترنمول کانگریس کے ۷۰؍ممبران اسمبلی کے دستخط تھے اور اسپیکر کو پیش کرنے سے پہلے ابھیشیک بنرجی کے دستخط بھی تھے۔تاہم باغی ممبران اسمبلی نے الزام لگایاکہ ان کے دستخط جعلی ہیںجس کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی اور سی آئی ڈی کی جانچ شروع کی گئی۔ ترنمول کانگریس اپنی ۲۸؍سالہ تاریخ میں سب سے بڑے بحران کا شکارہے۔اسمبلی الیکشن میں بری طرح شکست کے بعد پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ اور بغاوت شروع ہو گئی ہے۔ بی جے پی یہاں بھی وہی کھیل کھیلنے کی کوشش کر رہی ہے جو اس نے مہاراشٹر میںکھیلا تھا ۔