زہریلے دھوئیں سے شہریوں کو شدید دشواریاں، خاطیوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر’افسر ہٹاؤ، میونسپل کارپوریشن کو تالا لگاؤ‘ تحریک کا انتباہ
EPAPER
Updated: June 09, 2026, 10:34 PM IST | Mumbai
زہریلے دھوئیں سے شہریوں کو شدید دشواریاں، خاطیوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر’افسر ہٹاؤ، میونسپل کارپوریشن کو تالا لگاؤ‘ تحریک کا انتباہ
صنعتی شہر میں فضائی آلودگی کے سنگین ہوتے مسئلے پر کارپوریٹر اسنیہا پاٹل نے ریاستی حکومت، میونسپل انتظامیہ اور پولیوشن کنٹرول بورڈ کے ذمہ دار اداروں کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے آلودگی پھیلانے والے صنعتی یونٹوں اور مبینہ طور پر لاپروائی برتنے والے افسران کیخلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔اس سلسلے میں اسنیہا پاٹل نے ممبئی میں مہاراشٹر آلودگی کنٹرول بورڈ (ایم پی سی بی) کے چیئرمین سدیش رام داس کدم سے ملاقات کرکے ایک تفصیلی میمو رنڈم پیش کیا، جس میں بھیونڈی میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی، صنعتی یونٹوں کی مبینہ بے ضابطگیوں اور متعلقہ محکموں کی غفلت کی نشاندہی کرتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
میمورنڈم میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شہر کے ڈائنگ اورسائزنگ کارخانوں کی چمنیوں سے ۲۴؍ گھنٹے زہریلا دھواں خارج ہو رہا ہے جبکہ بعض صنعتی یونٹوں میں ایندھن کے طور پر کوئلے کے بجائے پلاسٹک، پلائی ووڈ اور کیمیکل ملا کچرا جلایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ان سرگرمیوں کے باعث شہر کا فضائی معیار (اے کیو آئی) ۳۳۳؍ سے تجاوز کر گیا ہے، جو انسانی صحت کیلئے نہایت خطرناک سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آلودگی کی اس صورتحال کے سبب بچوں، بزرگوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اسنیہا پاٹل نے الزام عائد کیا کہ پولیوشن کنٹرول بورڈ کے مقامی افسران کی ناک کے نیچے یہ تمام غیر قانونی سرگرمیاں جاری ہیں لیکن ان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والے بعض صنعتی یونٹوں کو اب بھی گرین کیٹیگری میں رکھا گیا ہے جبکہ انہیں فوری طور پر ریڈ کیٹیگری میں شامل کرکے سیٖل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے میونسپل انتظامیہ پر بھی سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں روزانہ ۷۵؍میٹرک ٹن کچرے کی پروسیسنگ کی صلاحیت رکھنے والا منصوبہ عملاً بند پڑا ہے اور صرف کاغذی ریکارڈ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ۲۰۲۲ءسے ۲۰۲۶ء تک میونسپل کارپوریشن کی جانب سے ایک بھی ماحولیاتی صورتحال پر رپورٹ جاری نہیں کی گئی، جس سے شہریوں کو شہر کی اصل ماحولیاتی کیفیت سے آگاہ نہیں کیا جا سکا۔
میمورنڈم میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ فضائی آلودگی کی نگرانی کیلئے نصب آلات اور ہوا کے معیار کی پیمائش کرنے والی مشینیں مؤثر انداز میں استعمال نہیں کی جا رہیں۔ ان کے مطابق بعض مقامات پر یہ مشینیں بند ہیں جس کے باعث آلودگی کی حقیقی صورتحال عوام کے سامنے نہیں آ پا رہی۔ انہوں نے کہا کہ افسران صرف کاغذی کارروائیوں کے ذریعے اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ عوام صاف ہوا کیلئے ترس رہے ہیں۔
بی جے پی کارپوریٹر اسنیہاپاٹل نے مطالبہ کیا کہ آلودگی پھیلانے والے صنعتی یونٹوں کے خلاف فوری فوجداری مقدمات درج کئے جائیں، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور شہر میں بڑھتی ہوئی آلودگی پر قابو پانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر آنے والے دنوں میں آلودگی پھیلانے والوںکے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہ کی گئی اور بدعنوان یا لاپروا افسران کے خلاف کارروائی عمل میں نہ آئی تو وہ بھیونڈی کے شہریوں کو ساتھ لے کر ’افسر ہٹاؤ، میونسپل کارپوریشن کو تالا لگاؤ‘ تحریک شروع کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ بھیونڈی کے عوام کو زہریلی فضا میں گھٹ گھٹ کر مرنے کے لئے نہیں چھوڑا جا سکتا اور شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول فراہم کرنا انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔