اپنے مفاد کو دوسروں کے مفاد پر قربان کرنے کا نام ایثار ہے۔ ایثار ایک اعلیٰ صفت، بلند مرتبے کی پہچان اور مومن کی شان ہے۔ معاشرہ جن عوامل سے بہتر بنتا ہے ان میں جذبۂ ایثار بلا مبالغہ سرِ فہرست ہے۔
نئی نسل میں جذبۂ ایثار پیدا کرنے کے لئے اسے سیرتِ النبیؐ سے روشناس کروانے کی ضرورت ہے-تصویر:آئی این این
اپنے مفاد کو دوسروں کے مفاد پر قربان کرنے کا نام ایثار ہے۔ ایثار ایک اعلیٰ صفت، بلند مرتبے کی پہچان اور مومن کی شان ہے۔ معاشرہ جن عوامل سے بہتر بنتا ہے ان میں جذبۂ ایثار بلا مبالغہ سرِ فہرست ہے۔ مگر افسوس آج کل کے معاشی حالات اور نفسیاتی و اخلاقی ترجیحات اس نہج پر ہیں کہ انسانی زندگی میں ایثار و قربانی کا جذبہ اب فوقیت نہیں رکھتا۔ خود غرضی و مفاد پرستی نے معاشرہ میں تباہی پھیلا رکھی ہے۔ اخلاقی و معاشرتی قدریں روز بہ روز بدل رہی ہیں۔ اس معاشرتی بدلاؤ کے متعدد اسباب میں چند اسباب یہ بھی ہیں:
شدید مادّہ پرستی: دنیاوی اسباب مال و دولت جمع کرنے کی شدید طلب اور مادّی ترقی کی خواہش نے انسانوں کے دل اور ہاتھ اتنے تنگ کردئیے ہیں کہ وہ اپنے مال و متاع میں اپنے اہل و عیال کے علاوہ کسی غیر کو شریک کرنا ہی نہیں چاہتا۔
خود غرضی: ذاتی مفاد کے بغیر کسی کے کام آنے کا جذبہ اب مفقود ہوتا جا رہا ہے۔ جس کام کے بدلے میں اپنا کوئی مادّی نفع دکھائی نہ دے یا نام و نمود و ستائش کی کوئی صورت نظر نہ آئے وہاں مدد کا ہاتھ بڑھانا نقصان میں شمار ہونے لگا ہے۔
اخلاقی اور مذہبی اقدار سے دوری: مذہبی تعلیمات اور اخلاقی تربیت ہی وہ نسخہ ہے جو معاشرے کو بہتر بناتا ہے، ان دونوں اوصاف کی کمی انسانوں کو نہ صرف خود غرض بناتی ہے بلکہ جذبۂ ایثار اور حقوق العباد سمیت ہر جذبۂ خیر سے غافل کر دیتی ہے۔
مستقبل کا خوف: دنیا پر چھائے ہوئے معاشی مندی کے رجحان نے سب کے دلوں میں اپنے اور اپنے اہل و عیال کے محفوظ اور آسودہ مستقبل کے بارے میں متعدد قسم کے اتنےخوف و خدشات پیدا کر دیئے ہیں کہ اپنا مال و زر اور وسائل ختم ہو جانے کا خوف ہمیں دوسروں پر خرچ کرنے یا ان کی مدد کرنے سے روکتا ہے۔
مشترکہ خاندانی نظام کا اختتام: خاندانی نظام میں ایک دوسرے کی حاجتیں اور ضرورتیں غیر محسوس طور پر پوری کرنے کا رواج تھا مگر اب گھر اور خاندان انفرادی اکائیاں ہوگئے ہیں، جہاں ہم سب صرف اپنی ضرورتوں کے کفیل ہیں۔ بچوں کی تربیت بھی اسی نہج پر ہو رہی ہے جس کی وجہ سے نئی نسل میں بھی اب دوسروں کا خیال رکھنا یا بوقت ِ ضرورت کسی کی بے لوث مدد کرنا ایک غیر ضروری امر بن گیا ہے۔
چونکہ ایثاروقربانی جیسے آفاقی جذبے کے معاشرے سے معدوم ہونے کے اسباب ہمارے ہی پیدا کردہ ہیں لہٰذا اس کا تدارک اور حل بھی ہمیں ہی تلاش کرنا ہے۔ کچھ امکانات ایسے ہوسکتے ہیں جن کی بدولت ہم معاشرے کی اس خرابی کو درست کرسکتے ہیں جیسے:
مذہبی و اخلاقی تعلیم و تربیت: نئی نسلوں کو ایثار و قربانی کی اہمیت سمجھانے کیلئے سیرتِ النبیؐ سے آگاہی، حقوق العباد کی تعلیم اور نیکیوں کی رغبت دلانے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔ رسولِ پاکؐ کی پوری حیاتِ طیبہ اسی جذبۂ ایثار، قربانی و خوش خلقی سے عبارت ہے نیز شریعت میں بھی بندوں کے حقوق اور غمگساری کو عبادت کا درجہ حاصل ہے۔ لہٰذا بحیثیت خیر امت کوئی بھی مسلمان اس وصف سے خالی نہیں ہوسکتا۔ اسکول، مدرسہ اور مذہبی و اخلاقی اجتماعات کے پلیٹ فارم سے ایثار و غمخواری کی افادیت و اہمیت اجاگر کرنا بھی اس سلسلے میں معاون ہوگا۔
گھریلو تربیت: بچوں میں نو عمری سے ہی یہ عادت ڈالیں کہ وہ اپنی چیزیں اپنے بھائی بہنوں اور دوستوں سے بانٹیں، مل جل کر رہیں اور بوقت ِ ضرورت ایک دوسرے کی مدد کریں۔
عملی نمونہ پیش کرنا: گھر اور سماج کے بڑے بزرگ افراد اپنا ظرف وسیع رکھیں۔ ایثار و امداد کی صرف تلقین کارآمد نہیں اس کا عملی مظاہرہ بھی معمولات میں شامل ہو تاکہ انہیں دیکھ کر نئی نسل بھی یہ اوصاف سیکھ سکے۔
فلاحی اداروں کا قیام اور سرپرستی: وسیع پیمانے پر انسانیت کی خدمت کرنے کی خاطر علاقائی اور ملکی سطح پر فلاحی ادارے بنائے جائیں۔ ان کے قیام اور انتظامات کی دیکھ بھال میں اپنی استطاعت کے مطابق ہر فرد اپنا تعاون پیش کرے۔انسانوں کے ساتھ ساتھ بے زبان جانور، چرند پرند نباتات بھی ہماری جانب سے ایثار و ہمدردی کے مستحق ہیں ان کا خیال رکھنا بھی نیکی میں شامل ہے۔اس طرح روز مرہ کے بھی کئی امور ہیں جو ایثار کے زمرے میں آتے ہیں اگر ہم ان تمام معاملات میں تھوڑی سی توجہ اور تحمل سے کام لیں تو یقیناً ایثار کے اجر کے حقدار ہوسکتے ہیں۔