Inquilab Logo Happiest Places to Work

دروازے کے اس پار

Updated: May 28, 2026, 12:42 PM IST | Ghazala Rizwan Shah Ji | Mumbai

وہ تھکا ہارا، پسینے کی بوندیں بار بار اپنے رومال سے پونچھتا ہوا، ایک دروازے سے دوسرے دروازے پر دستک دے رہا تھا۔

Darwaza.Photo:INN
دروازہ۔ تصویر:آئی این این
وہ تھکا ہارا، پسینے کی بوندیں بار بار اپنے رومال سے پونچھتا ہوا، ایک دروازے سے دوسرے دروازے پر دستک دے رہا تھا۔ سورج کی تیز روشنی اس کے چہرے کو جھلسا رہی تھی، مگر وہ دھوپ کی پروا کئے بغیر اپنے کام میں مشغول تھا۔ اس دوران اس کا واسطہ طرح طرح کے لوگوں سے پڑ رہا تھا۔ کسی کے ماتھے پر شکن تھی تو کوئی مسکراتے ہوئے اس کا استقبال کرتا۔
ماتھے کی شکن ہو یا محبت بھرے رویے وہ ان سب کا جواب مسکرا کر ہی دیتا۔ اس کے ذہن میں بس ایک ہی دھن سوار تھی کہ اپنا کام جلد از جلد اور پوری ایمانداری کے ساتھ مکمل کرے۔
جیسے ہی اس نے ایک دروازے پر دستک دی، سامنے ایک آدمی آ کھڑا ہوا۔
’’جی کہئے، کون ہیں آپ؟‘‘ اس آدمی نے قدرے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا۔ وہ بڑے غور سے اس مسلم نوجوان کو دیکھ رہا تھا، جس کے کاندھے پر ایک بیگ لٹکا، سر پر ٹوپی اور ہاتھوں میں کچھ سامان لئے منتظر کھٹرا تھا۔
’’سر، ہم مردم شماری کے لئے آئے ہے۔ آپ سے اس سلسلے میں کچھ معلومات لینی ہے۔‘‘ نوجوان نے نہایت شائستگی سے جواب دیا۔
اس آدمی کی عمر تقریباً ستر سے اسّی سال کے درمیان لگ رہی تھی۔
نوجوان نے ایک بار پھر نرمی سے کہا ’’سر، ہمیں صرف کچھ معلومات چاہئے۔‘‘
آدمی نے رک کر کہا ’’جی بہتر، مَیں پہلے اپنے بیٹے کو فون کر لیتا ہوں پھر آپ کو بتاتا ہوں۔‘‘
اس نے فوراً اپنے بیٹے کو فون ملایا اور اس افسر کے بارے میں بتانے لگا کہ ایک شخص آیا ہوا ہے جو مردم شماری کیلئے کچھ معلومات مانگ رہا ہے۔
فون پر اس شخص کا بیٹا نہ جانے کیا کچھ سمجھارہا تھا، اور وہ اپنے بیٹے کی باتیں بڑے تحمل سے سنتا رہا۔ پھر اس نے جھجکتے ہوئے کہا ’’سوری سر! مَیں آپ سے یہ سب نہیں پوچھتا، لیکن میرا بیٹا کہہ رہا ہےکہ آپ اپنی آئی ڈی دکھا دیں.... اور اگر ممکن ہو تو اس کی ایک تصویر بھی لے لوں۔ بات یہ ہے کی سر! جنریشن کا فرق ہے۔ ہماری جنریشن میں ایسا کچھ نہیں ہوتا تھا، لیکن نئی جنریشن سوشل میڈیا کا شکار ہوئی ہے، شاید اسی کا اثر ہے۔ آپ پریشان نہ ہوں۔ اگر آپ کو برا لگا ہو تو سوری۔‘‘
افسر نے مسکرا تے ہوئےجواب دیا ’’کوئی بات نہیں سر۔ آپ بے فکر ہو کر میری آئی ڈی کی تصویر لے لیجئے۔‘‘
اسی درمیان افسر سوچنے لگا کہ! اس قسم کے رویے اور سوالات کی اب تو عادت سی ہو چکی ہیں۔
اس شخص نے اطمینان کی سانس لی، پھر دروازہ پورا کھول کر اسے اندر آنے کی دعوت دی۔
’’آئیے سر، اندر آ جائیے۔‘‘
افسر نے اندر آنے سے انکار کیا اور کہا ’’آپ یہی سے مجھے معلومات دیجئے۔‘‘
لیکن دروازے کے اس پار کھڑے شخص نے بڑے خلوص سے کہا ’’سر آئیے ناں!‘‘
اس مرتبہ آفسر منع نہیں کرسکا۔
اس نے افسر کو صوفے پر بیٹھنے کے لئے کہا اور فریج سے ٹھنڈا پانی نکال کر گلاس میں ڈال کر اس کے سامنے رکھ دیا۔ شدید گرمی اور مسلسل تھکن میں وہ ٹھنڈا پانی اس نوجوان کے لئے کسی نعمت سے کم نہ تھا۔
افسر نے جو معلومات مانگی تھیں، اس شخص نے سب بتا دیں۔
جیسے ہی کام مکمل ہوا، افسر اٹھنے لگا تو اس آدمی نے فوراً اسے روک لیا۔
’’ارے سر، ایسے کیسے؟ ہمارے آبا و اجداد سے ہمارے گھر کی یہ رسم ہے کہ یہاں سے کوئی کچھ میٹھا کھائے بغیر نہیں جاتا۔‘‘
افسر نے وقت کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا ’’نہیں سر، آپ کا بہت شکریہ۔ میرے پاس وقت بہت کم ہے اور کام زیادہ۔‘‘
مگر وہ شخص بضد تھا۔
افسر نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پھر منع کرنا چاہا، مگر وہ آدمی کہاں ماننے والا تھا۔
وہ فوراً اندر گیا اور میٹھے آم لا کر اس کے سامنے رکھ دئیے۔
نوجوان مسلسل انکار کرتا رہا، مگر اس نے اس کی ایک نہ سنی۔ اس نے آم صاف پانی سے دھوئے، احتیاط سے کاٹے اور پلیٹ میں سجا کر افسر کے سامنے رکھ دئیے۔
چند لمحے پہلے جو دروازہ شک اور احتیاط کے ساتھ کھلا تھا، اب وہی گھر اپنائیت اور محبت سے بھر چکا تھا۔
اسی دوران دونوں کی گفتگو طویل ہوتی چلی گئی۔ رسمی باتوں کا سلسلہ آہستہ آہستہ بے تکلفی میں بدلنے لگا۔
اس شخص نے مسکراتے ہوئے کہا ’’سر، آپ کی مراٹھی کافی اچھی ہے۔‘‘
افسر ہلکا سا مسکرایا ’’جی! ہمارے گاؤں میں مراٹھی زیادہ بولی جاتی ہے۔‘‘
’’اچھا! آپ کس گاؤں سے ہیں؟‘‘
افسر نے جیسے ہی اپنے گاؤں کا نام بتایا، وہ شخص حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔
’’ارے! میں بھی اسی گاؤں سے ہوں۔ میرے آبا و اجداد سب وہیں کے تھے۔ فکرِ معاش نے یہاں آکر بسنے پر مجبور کر دیا۔‘‘
یہ جان کر دونوں کے چہروں پر بے ساختہ مسکراہٹ پھیل گئی کہ ان دونوں کا تعلق ایک ہی گاؤں سے ہے۔
اجنبیت کی جو دیوار چند لمحے پہلے ان کے درمیان کھڑی تھی، اب شاید مکمل طور پر گر چکی تھی۔
اس شخص نے بے تکلفی سے مسلم افسر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ’’کچھ دیر پہلے آپ مجھے صرف ایک مسلم افسر لگ رہے تھے لیکن اب آپ مجھے اپنے گاؤں کے بیٹے جیسے محسوس ہو رہے ہیں۔‘‘
افسر سر ہلا کر خوشی کا اظہار کیا۔
اب اسے بھی اس گھر میں ایک عجیب سی اپنائیت محسوس ہونے لگی تھی۔ کہتے ہیں نا، اپنے گاؤں کی ہر چیز اپنی سی لگتی ہے۔
وہ شخص چند لمحے خاموش رہا، پھر دھیرے سے بولا ’’آج کل سوشل میڈیا نے لوگوں کے ذہنوں میں شک کے بیج بو دیئے ہیں۔ لوگ اب ایک دوسرے کو انسانیت اور اپنائیت کی نظر سے کم اور شک کی نگاہ سے زیادہ دیکھنے لگے ہیں۔‘‘
اس نے مزید آم کی پلیٹ آفسر کے آگے بڑھاتے ہوئے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا ’’ہمارا بھی ایک زمانہ تھا جب ہم سب محبت سے رہا کرتے تھے۔ وہاں مذہب، نسل، زبان یا مقام ہمارے درمیان کبھی دیوار نہیں بنتے۔ ہم صرف محبت اور انسانیت کی زبان جانتے تھے۔‘‘
’’مجھے بس اس بات کی فکر ہے کہ آنے والا زمانہ کیسا ہوگا؟‘‘ اس شخص نے گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے کہا۔
افسر خاموشی سے اس کی ساری باتیں سنتا رہا، پھر اپنی چیزیں سمیٹ کر انہیں بیگ میں رکھنے لگا۔
دونوں اٹھ کھڑے ہوئے اور ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا۔
افسر وہاں سے رخصت ہونے لگا تو دروازے کے قریب پہنچ کر وہ رکا۔ اس نے مڑ کر اس شخص کی طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا ’’انسانیت کی بقا کے لئے، انسانیت کا باقی رہنا ضروری ہے۔‘‘
وہ گھر کے اندر خاموش کھڑا اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا۔
ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس افسر کی موجودگی اب بھی اس کمرے میں باقی ہو اور اس کے الفاظ دیواروں سے ٹکرا کر مسلسل گونج رہے ہوں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK