• Thu, 08 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مذمت، ملامت اور تجارت

Updated: January 07, 2026, 1:50 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

امریکہ کے ذریعہ وینزویلا کے صدر اور اُن کی اہلیہ کے اغواء کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ہنگامی میٹنگ میں جو ہوا وہ ’’جتنا ہوسکتا تھا‘‘ سے تھوڑا زیادہ مگر نتیجہ کے اعتبار سے بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس میں دیگر ملکوں کے علاوہ امریکہ کے حلیفوں نے بھی ٹرمپ کی کارروائی کی مذمت کی۔

INN
آئی این این
امریکہ کے ذریعہ وینزویلا کے صدر اور اُن کی اہلیہ کے اغواء کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ہنگامی میٹنگ میں   جو ہوا وہ ’’جتنا ہوسکتا تھا‘‘ سے تھوڑا زیادہ مگر نتیجہ کے اعتبار سے بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس میں   دیگر ملکوں   کے علاوہ امریکہ کے حلیفوں   نے بھی ٹرمپ کی کارروائی کی مذمت کی۔ بلاشبہ ٹرمپ جانتے رہے ہوں   گے کہ اُن کے اقدام کی مذمت ہوگی اس کے باوجود کارروائی کا مطلب تھا کہ وہ مذمت کو نہیں   مانتے۔ چونکہ کارروائی بڑی تھی اور ایک ملک کی سالمیت اور خود مختاری پر حملہ تھا اس لئے مذمت کے الفاظ سخت تھے اور بس۔ کیا سخت مذمت کافی ہے امریکہ کو مستقبل میں   ایسے اقدام سے باز رکھنے کیلئے؟
سلامتی کونسل کو اس اقدام کاغیر معمولی نوٹس لینا چاہئے تھا۔ اس ادارہ کو امریکہ سے مطالبہ کرنا چاہئے تھا کہ وینزویلا کے عوام سے معافی مانگے، وہاں   کے صدر اور خاتونِ اول کو وطن واپس بھیجے اور اُن کے خلاف اپنی شکایتوں   کو عالمی فورموں   میں   رکھے جہاں   گفت و شنید کے بعد مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ہم نکولاس مادورو کے ہمدرد اور بہی خواہ نہیں   ہیں  ۔ اُن کےخلاف بدعنوانی اور منشیات کی تجارت کے بے حد سنگین الزامات ہیں  ۔ ان الزامات کے خلاف ثبوت پیش کرکے انہیں   قانونی طور پر ماخوذ کیا جانا چاہئے مگر یہ کام کسی دیگر ملک کے صدر کا نہیں   ہے۔ اقوام متحدہ جیسا عالمی ادارہ یا انٹرنیشنل کورٹ ہی مقدمہ چلا کر اُنہیں   کیفر کردار تک پہنچانے کا استحقاق رکھتے ہیں  ۔ امریکہ یا امریکی صدر کو اس کا حق ہے نہ اختیار۔
دیگر ملکوں   کیلئے یہ ’’ویک اَپ کال‘‘ ہونا چاہئے تھا کیونکہ اگر یہ وینزویلا کے ساتھ ہوا ہے تو کسی دوسرے ملک کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ اس سے پہلے بھی ایسا ہوا ہے۔  امریکہ کے صدر جارج بش سینئر یا ماضی کے صدور میں   سے کوئی اور ہو یا یا ڈونالڈ ٹرمپ ہوں  ، اِن کے عزائم میں   کوئی خاص فرق دیکھنے کو نہیں   ملتا۔ پنامہ کے مینوئل نوریگا، عراق کے صدام حسین، ہونڈوراس کے جوآن آرلینڈو اَور ہیتی کے جین برٹرینڈ ارسٹائیڈ (جن کی تفصیل یہ اخبار ۵؍ جنوری کو شائع کرچکا ہے) کے ساتھ یہی یا کچھ ایسا ہی ہوچکا ہے۔ اس کے باوجود اگر عالمی اداروں   نے ان کارروائیوں   کا نوٹس نہیں   لیا تو کم از کم اب کچھ کرنا چاہئے تھا۔ عالمی داروغہ بننے اور بنے رہنے کے امریکی منصوبے پر دُنیا کے باقی ماندہ ممالک خاموش رہے تو اس سے واشنگٹن کے عزائم مزید بلند ہونگے۔ وہ بین الاقوامی قوانین کی ویسے بھی پروا نہیں   کرتا، اس کارروائی سے تو ایسا لگتا ہے کہ رہا سہا احترام بھی ختم ہوگیا۔ 
سلامتی کونسل کو ایسا ماحول بنانا چاہئے تھا کہ امریکہ پر پابندی لگانے پر غور کیا جاسکے۔ مگر یہ اُصولی تقاضا ہے اور آج کے حریصانہ اور مفاد پرستانہ ماحول میں   اُصول پسندی کی اُمیدخود کو دھوکہ دینا ہے۔ دُنیا تو یہ دیکھ رہی ہے کہ وینزویلا میں   قیادت کی تبدیلی سے ہمیں   کتنا فائدہ ہوگا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یورپ، امریکہ، چین اور دیگر ملکوں   کے شیئر بازار پر مادوروکی گرفتاری کا منفی اثر نہیں   پڑا بلکہ ٹرمپ کی اس اپیل کے بعد کہ امریکی سرمایہ کار وینزویلا کی تیل کمپنیوں   میں   اربوں   ڈالر کی سرمایہ کاری کریں  ، ایک طرح سے معاشی اُچھال آگیا ہے۔ متعلقہ ممالک سوچ رہے ہیں   کہ وینزویلا کے تیل ذخائر پر امریکہ نے کنٹرول کرلیا تو تیل کی سپلائی بڑھے گی کیونکہ اس ملک کے پاس دُنیا کے تیل ذخائر کا ۱۸؍ فیصد ہے مگر پروڈکشن صرف ۰ء۸؍ فیصد۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK