یورپی کمیشن کی ترجمان کےمطابق یورپی یونین ملکی حکام سے رابطہ جاری رکھے گی، تاکہ اس کے مفادات اور اصولوں کا تحفظ کیا جاسکے،اتحادیوں کے ساتھ قریبی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
وینزویلا کی نگراں صدر ڈیلسی روڈریگز۔ تصویر: آئی این این
یورپی کمیشن کی ترجمان نے منگل کو کہا ہے کہ یورپی یونین وینزویلا کی نگراں صدر ڈیلسی روڈریگز کو تسلیم نہیں کرے گی البتہ وہ ملکی حکام کے ساتھ رابطہ جاری رکھے گی۔
دوپہر کی پریس بریفنگ میں انیتا ہپر نے یورپی یونین کے دیرینہ موقف کو دہرایا کہ وینزویلا کے حکام اپنا مینڈیٹ ایک ایسے انتخابی عمل سے حاصل کرتے ہیں جس نے عوام کی جمہوری تبدیلی کی خواہش کا احترام نہیں کیا ہے ۔
ہپر نے اس بات پر زور دیا کہ یورپی یونین وینزویلا میں جمہوری منتقلی کے لئے جامع مکالمے کی حمایت کرتی ہے جس میں جمہوریت کے لئے پرعزم تمام فریقین بشمول جمہوری طور پر منتخب اپوزیشن لیڈر بھی شامل ہوں۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین نکولس مادورو یا ڈیلسی روڈریگز کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتی، جبکہ وینزویلا کے حکام کے ساتھ محدود روابط جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ اس کے مفادات اور اصولوں کا تحفظ کیا جاسکے۔
یہ بیانات وینزویلا میں روڈریگز کی تقرری کے بعد سیاسی انتشار اور صدر مادورو کو اغواء کرنے والے امریکی فوجی آپریشن کے دوران سامنے آئے۔ مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورز، اس وقت امریکہ میں قید ہیں جہاں منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گرد گروہوں کے ساتھ مبینہ تعاون سے متعلق الزامات کا سامنا ہے۔
ہپر نے آرکٹک میں سلامتی کے خدشات کو بھی اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ علاقائی سالمیت اور خودمختاری بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصول ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ اصول ہیں جو نہ صرف یورپی یونین کی نظر میں بلکہ پوری دنیا کے ممالک کی نظر میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم ڈنمارک اور گرین لینڈ کے عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بارہا گرین لینڈ، جو ڈنمارک کے اندر خود مختار علاقہ ہے، پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے اور فوجی طاقت کے ذریعے ایسا کرنے کو مسترد نہیں کیا۔ وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے ایک دن بعد جس میں مادورو کو اغواء کیا گیا، ٹرمپ نے اتوار کو امریکی سلامتی کے مفادات کے لئے گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی اپیل دوبارہ کی۔
کئی یورپی ممالک کے ساتھ ساتھ یورپی یونین نے پیر کو ڈنمارک اور گرین لینڈ کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا، اس تجویز کو مسترد کیا کہ جزیرے کا مستقبل بیرونی طاقتوں کے ذریعے طے ہو سکتا ہے اور خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا۔ جب ۶؍ رکن ممالک کے لیڈروں اور برطانیہ کے وزیر اعظم کی جانب سے گرین لینڈ پر حالیہ مشترکہ بیان میں یورپی یونین کے اداروں کی غیر موجودگی کے بارے میں پوچھا گیا تو ترجمان نے کہا کہ یورپی یونین عام طور پر ان بیانات کے اجرا ءکے فوراً بعد تبصرہ نہیں کرتی لیکن اس نے دوبارہ تصدیق کی کہ اس کا کلیدی اصولوں پر موقف واضح ہے۔
ہپر نے آرکٹک خطے میں سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے اتحادیوں کے ساتھ قریبی تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور بلاک کے ساتھ تعاون کو خطے میں استحکام اور حمایت برقرار رکھنے کے لئے ضروری قرار دیا۔