• Fri, 09 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ انتظامیہ: امریکی ویزا بونڈ پالیسی میں مزید ۲۵؍ ممالک شامل

Updated: January 08, 2026, 12:07 PM IST | Washington

ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی ویزا کیلئے قابلِ واپسی بونڈ کی شرط کو مزید سخت کرتے ہوئے ۲۵؍ نئے ممالک کو فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ اس توسیع کے بعد اب ۳۸؍ ممالک کے درخواست دہندگان کو ۵؍ ہزار سے ۱۵؍ ہزار ڈالر تک بونڈ جمع کرانا ہوگا۔ نیا ضابطہ ۲۱؍ جنوری ۲۰۲۶ء سے نافذ ہوگا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امریکی ویزا پالیسی میں ایک اہم توسیع کرتے ہوئے اس نظام کو مزید وسعت دی ہے جس کے تحت بعض ممالک کے ویزا درخواست دہندگان کو امریکہ کا سفر کرنے سے قبل ایک بھاری مگر قابلِ واپسی بونڈ جمع کرانا ہوگا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اس ہفتے اعلان کیا کہ ویزا بونڈ کی فہرست میں مزید ۲۵؍ ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ فیصلہ سات ممالک کو شامل کئے جانے کے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے بعد سامنے آیا ہے۔ تازہ ترین توسیع کے بعد اب مجموعی طور پر ۳۸؍ ممالک کے مسافروں کو امریکی ویزا کیلئے درخواست دیتے وقت ۵؍ ہزار سے ۱۵؍ ہزار امریکی ڈالر تک بونڈ ادا کرنا ہوگا۔ یہ نیا اصول ۲۱؍ جنوری ۲۰۲۶ء سے نافذ العمل ہوگا۔

یہ بی پڑھئے: نیویارک: میئر ظہران ممدانی کا عملی اقدام، پل کے متنازع ’ابھار‘ کی مرمت کی

حکام کے مطابق زیادہ تر متاثرہ ممالک افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم لاطینی امریکہ، کیریبین، ایشیا، وسطی ایشیا اور اوشیانا کے چند ممالک بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے افراد کیلئے اس قدر بھاری بونڈ امریکی ویزا کے حصول کو مشکل یا بعض صورتوں میں ناممکن بنا سکتا ہے، خاص طور پر وہ مسافر جو سیاحت، کاروبار یا خاندانی وجوہات کی بنیاد پر امریکہ جانا چاہتے ہیں۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ بونڈ سسٹم کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ غیر ملکی زائرین اپنے ویزا کی مقررہ مدت سے زیادہ عرصہ امریکہ میں قیام نہ کریں۔ بونڈ کی رقم درخواست گزار کے پروفائل، ویزا کی قسم اور دیگر عوامل کی بنیاد پر ۵؍ ہزار سے ۱۵؍ ہزار ڈالر کے درمیان مقرر کی جائے گی۔ محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ بونڈ کی ادائیگی ویزا کی منظوری کی ضمانت نہیں ہے۔ اگر ویزا مسترد ہو جائے، یا ویزا منظور ہونے کی صورت میں مسافر تمام شرائط کی پابندی کرے اور مقررہ مدت کے اندر امریکہ چھوڑ دے، تو بونڈ کی پوری رقم واپس کر دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے: ایران میں کریک ڈاؤن پر ٹرمپ کی سپریم لیڈر کو قتل کی دھمکی: امریکی سینیٹر

یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن اور داخلے کے قوانین کو سخت بنانے کی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے۔ ان اقدامات میں زیادہ تر ویزا درخواست دہندگان کیلئے ذاتی انٹرویو کو لازمی بنانا، سفری تاریخ، قیام کے انتظامات اور سوشل میڈیا سرگرمیوں سے متعلق تفصیلی معلومات طلب کرنا بھی شامل ہے۔ نئے شامل کئے گئے ممالک میں الجزائر، انگولا، بنگلہ دیش، کیوبا، نائیجیریا، نیپال، وینزویلا، زمبابوے سمیت متعدد دیگر ممالک شامل ہیں، جو پہلے سے فہرست میں موجود بھوٹان، بوتسوانا، تنزانیہ، ترکمانستان اور زامبیا جیسے ممالک کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس توسیع شدہ بونڈ پالیسی سے آئندہ برسوں میں ہزاروں ممکنہ مسافر متاثر ہو سکتے ہیں، جس کا اثر سیاحت، بین الاقوامی کاروباری روابط اور خاندانی ملاقاتوں پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK