Updated: January 08, 2026, 3:17 PM IST
| New York
منیاپولس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایک ایجنٹ کی فائرنگ سے ۳۷؍سالہ امریکی شہری رینی نکول گُڈ کی ہلاکت نے ملک بھر میں شدید سیاسی اور عوامی ردِعمل کو جنم دیا ہے۔ وفاقی حکومت واقعے کو دفاعِ ذات قرار دے رہی ہے، جبکہ مقامی حکام اسے طاقت کے غیر ضروری اور لاپروا استعمال کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
ایجنٹ کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والی خاتون اسی گاڑی میں سوار تھی۔ تصویر: ایکس
بدھ کو امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایک ایجنٹ کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والی خاتون کی شناخت رینی نکول گُڈ کے نام سے ہوئی ہے۔ محکمۂ ہوم لینڈسیکوریٹی (DHS) کے مطابق، ۳۷؍سالہ گُڈ نے مبینہ طور پر اپنی گاڑی سے افسران کو ٹکر مارنے کی کوشش کی، جس کے بعد ایک ایجنٹ نے ’’اپنے دفاع‘‘ میں فائرنگ کی۔ تاہم، مقامی حکام نے اس بیان کو مسترد کر دیا۔ منیاپولس کے میئر جیکب فرے نے کہا کہ انہوں نے واقعے کی ویڈیو فوٹیج دیکھی ہے اور یہ دعویٰ رد کیا کہ فائرنگ جائز تھی۔ انہوں نے اسے طاقت کا لاپرواہ استعمال قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وفاقی امیگریشن ایجنٹس شہر چھوڑ دیں۔ واقعے پر مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے منیاپولس سٹی کونسل نے کہا کہ گُڈ ایک مقامی رہائشی تھیں جن کی ’’زندگی آج وفاقی حکومت کے ہاتھوں چھین لی گئی‘‘۔
کونسل نے کہا:’’جو کوئی بھی ہمارے شہر میں کسی کو قتل کرے، اسے قانون کے مطابق گرفتار، تفتیش اور مکمل طور پر سزا دی جانی چاہئے۔ ‘‘انہوں نے آئی سی ای سے مطالبہ کیا کہ وہ ’’فوراً ہمارا شہر چھوڑ دے تاکہ ہم اس افراتفری اور تشدد سے نجات پا سکیں جس نے آج ہمارے ایک ہمسائے کی جان لے لی۔ ‘‘
’گھریلو دہشت گردی کا عمل‘
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی فوٹیج میں ایک آئی سی ای ایجنٹ کو گُڈ کی SUV کے سامنے کھڑا دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ گاڑی آگے بڑھ رہی تھی اور ایجنٹ متعدد فائر کرتا ہے۔ ہوم لینڈ سیکوریٹی کی وزیر کرسٹی نوم نے بیان میں کہا: ’’ہمارے ایک افسر نے تیزی اور دفاعی انداز میں کارروائی کی، اپنے اور اردگرد کے لوگوں کے تحفظ کیلئے فائرنگ کی۔ ‘‘ انہوں نے اس واقعے کو ’’گھریلو دہشت گردی کا عمل‘‘ قرار دیا اور تصدیق کی کہ خاتون گولی لگنے سے ہلاک ہو گئیں۔
ڈی ایچ ایس کی ترجمان ٹریشیا میک لافلن نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا کہ آئی سی ای افسران مخصوص کارروائیاں کر رہے تھے جب ’’فسادیوں ‘‘ نے انہیں روکنا شروع کیا اور ’’ان میں سے ایک پرتشدد فرد نے اپنی گاڑی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ ‘‘ان کے مطابق، آئی سی ای افسر نے اپنی تربیت کے مطابق کارروائی کی اور اپنی اور ساتھی افسران کی جان بچائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ واقعے میں زخمی ہونے والے افسران مکمل صحت یاب ہو جائیں گے۔
لیکن منی سوٹا کے گورنر ٹِم والز نے میئر کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے ڈی ایچ ایس کے بیان کو ’’پروپیگنڈہ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا:’’ریاست اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مکمل، منصفانہ اور تیز رفتار تحقیقات ہوں تاکہ جواب دہی اور انصاف ممکن ہو سکے۔ ‘‘
میئر کا امیگریشن حکام کے انخلا کا مطالبہ
میئر فرے نے کہا کہ وہ فائرنگ کے واقعے سے آگاہ ہیں اور انہوں نے وفاقی امیگریشن ایجنٹس پر منیاپولس میں ’’افراتفری‘‘ پھیلانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا:’’ہم آئی سی ای سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر شہر چھوڑ دے۔ ہم اپنی مہاجر اور پناہ گزین برادریوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ ‘‘منیاپولس پولیس چیف برائن اوہارا نے کہا کہ گُڈ کسی بھی انفورسمنٹ کارروائی کا ہدف نہیں تھیں اور وہ سڑک بلاک کر رہی تھیں۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ جب ایک افسر پیدل ان کے پاس پہنچا اور گاڑی چلنے لگی تو کم از کم دو گولیاں چلائی گئیں۔ اوہارا کے مطابق، اب جائے وقوعہ منیاپولس پولیس کے کنٹرول میں ہے اور تحقیقات ایف بی آئی اور منی سوٹا بیورو آف کرمنل اپریہنشن مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے غیر دستاویزی امیگریشن کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے تحت تقریباً۲؍ ہزار وفاقی ایجنٹس منی سوٹا میں تعینات کئے ہیں۔ یہ کارروائیاں کچھ چائلڈ کیئر مراکز پر مبینہ فراڈ کے الزامات کے بعد کی گئیں، جو ایک غیر مصدقہ ویڈیو کے بعد سامنے آئے تھے۔ منی سوٹا کے حکام نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سہولیات کا معائنہ ہو چکا ہے اور وہ ریاستی قوانین کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا:’’میں ہر آئی سی ای افسر کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان کا صدر، نائب صدر اور پوری انتظامیہ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ جو لوگ ان پر حملے، ڈاکسنگ اور دھمکیاں دے رہے ہیں : مبارک ہو، ہم قانون نافذ کرنے کیلئے اور بھی زیادہ محنت کریں گے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ انتظامیہ: امریکی ویزا بونڈ پالیسی میں مزید ۲۵؍ ممالک شامل
ٹرمپ کا دفاع اور سیاسی تنازع
ٹرمپ نے فائرنگ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مقتول خاتون نے ’’جان بوجھ کر، پرتشدد اور وحشیانہ انداز میں ‘‘ افسر کو کچلنے کی کوشش کی، جبکہ ڈی ایچ ایس نے اسے ’’گھریلو دہشت گردی‘‘ قرار دیا۔ منیاپولس میں آئی سی ای ایجنٹ کی فائرنگ سے ہونے والی اس ہلاکت نے پورے امریکہ میں سیاسی طوفان برپا کر دیا ہے۔ ۳۷؍ سالہ رینی نکول گُڈ کی موت نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اور اس کے حامی ایجنٹ کے دفاع میں ڈٹے ہوئے ہیں، جبکہ مقامی لیڈران اور کمیونٹی انصاف اور جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر’’آئی اسٹینڈ ود آئی سی ای‘‘ہیش ٹیگ وائرل ہو گیا ہے۔
’IStandWithICE‘ کا رجحان
آئی سی ای کے خلاف غم و غصہ بڑھنے پر، ڈی ایچ ایس اور وہائٹ ہاؤس کے ایکس اکاؤنٹ Rapid Response 47 نے آئی سی ای کے حق میں پیغامات پوسٹ کئے۔ Rapid Response 47 نے دوپہر ۲؍ بجکر۳۴؍ منٹ پر(ای ٹی) ’’I STAND WITH ICE‘‘ کا گرافک شیئر کیا، جس کے فوراً بعد ڈی ایچ ایس نے آل کیپس میں ’’اسٹینڈ ود آئی سی ای‘‘ ٹویٹ کیا۔ ہیش ٹیگ ٹرینڈ ہونے کے چند منٹ بعد ہی ردِعمل تقسیم ہو گیا۔ ٹرمپ اور ڈی ایچ ایس کے حامیوں نے ایجنٹ کے اقدام کا دفاع کیا، یہ کہتے ہوئے کہ ڈرائیور نے اپنی گاڑی کو ’’ہتھیار‘‘ بنایا اور افسران کو خطرے میں ڈالا۔ ایک صارف نے لکھا:’’رینی نکول گُڈ کی موت افسوسناک ہے، لیکن اس نے غلط فیصلہ کیا۔ میں آئی سی ای کے ساتھ کھڑا ہوں۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: نیویارک شہر کے میئر ممدانی نے ۱۸؍ویں صدی کے عثمانی دور میں نقل شدہ قرآن مجید کے نسخے پر حلف لیا تھا
ایک اور نے کہا:’’میں منیاپولس میں اپنے دفاع میں کارروائی کرنے والے آئی سی ای ایجنٹ کے ساتھ کھڑا ہوں۔ ‘‘ دوسری جانب ناقدین جن میں مقامی حکام، شہری حقوق کے کارکن اور عوام شامل ہیں نے اسی ہیش ٹیگ کو طنزیہ انداز میں استعمال کیا اور قتل کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مقتولہ ایک امریکی شہری تھیں اور فائرنگ کو ’’لاپرواہ اور غیر ضروری‘‘ قرار دیا۔ ناقدین کے مطابق ویڈیوز ڈی ایچ ایس کے ’’گھریلو دہشت گردی‘‘ کے دعوے کی تائید نہیں کرتیں۔ ایک صارف نے لکھا:’’نہیں، میں آئی سی ای کے ساتھ نہیں کھڑا۔ وہ امریکی شہریوں کو قتل کرتے ہیں۔ ‘‘ایک اور نے کہا:’’ٹرمپ آج دن دہاڑے ایک۳۷؍ سالہ امریکی خاتون کے قتل پر آئی سی ای ایجنٹ کا دفاع کر رہے ہیں ۔ یہ ایک انتہائی بے شرمانہ اور جھوٹا بیان ہے، لیکن مجھے حیرت نہیں۔ ‘‘
ظہران ممدانی کا بیان
نیو یارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے کہا:’’منیاپولس سے آنے والی خبریں ہولناک ہیں۔ یہ اس سال کی مسلسل سفاکیوں کا ایک اور حصہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جب آئی سی ای ایجنٹس مہاجرین پر حملہ کرتے ہیں تو وہ پورے ملک میں ہم سب پر حملہ کرتے ہیں۔ ہم اپنی سینکچوری سٹی پالیسیوں کو برقرار رکھیں گے۔ ‘‘