آئندہ روز تمل ناڈو کے رائے دہندگان اگلے ۵؍ سال کیلئے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرینگے۔ ایک ہی دن میں پوری ریاست پولنگ سے فارغ ہوجائے گی مگر اسی دن مغربی بنگال کی ۲۹۴؍ میں سے ۱۵۲؍ اسمبلی حلقوں کے رائے دہندگان اپنے نمائندوں کا فیصلہ کرینگے۔
ممتا بنرجی ۔ تصویر:آئی این این
آئندہ روز تمل ناڈو کے رائے دہندگان اگلے ۵؍ سال کیلئے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرینگے۔ ایک ہی دن میں پوری ریاست پولنگ سے فارغ ہوجائے گی مگر اسی دن مغربی بنگال کی ۲۹۴؍ میں سے ۱۵۲؍ اسمبلی حلقوں کے رائے دہندگان اپنے نمائندوں کا فیصلہ کرینگے۔ اِس ریاست میں پولنگ کا یہ پہلا مرحلہ ہوگا۔ دوسرا ۲۹؍ اپریل کو منعقد ہوگا۔اس سے قبل آسام، کیرالا اور پڈوچیری میں ایک ہی مرحلے کی پولنگ ۹؍ اپریل کو پایہ تکمیل تک پہنچ چکی ہے۔
تمل ناڈو میں اسٹالن کی قیادت میں ڈی ایم کے کو برتری حاصل ہے اس لئے کہ اُن کے مد مقابل انا ّ ڈی ایم کے پارٹی، جو اپنے وقت کی مقبول لیڈر جے للتا کی پارٹی کے طور پر جانی جاتی ہے، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کے بعد کافی سیاسی زمین کھو چکی ہے۔ ڈی ایم کے کو اس کا فائدہ ملنا یقینی ہے۔اداکار وجے کی پارٹی ٹی وی کے نئی سیاسی جماعت ہے جسے ابھی اپنی سیاسی زمین تلاش کرنی ہے۔ لوک پول کے سروے میں بتایا گیا ہے کہ ڈی ایم کے کی مقبولیت کے آگے دیگر پارٹیوں کا کچھ اثر نہیں ہے۔ اس سروے کے مطابق اسٹالن کی پارٹی ڈی ایم کے ۴۰ء۱؍ فیصد ووٹوں کے ساتھ ریاست کے ۲۳۴؍ میں سے ۱۸۱؍ تا ۱۸۹؍ حلقوں میں کامیابی درج کرائیگی۔ اس کے مقابلے میں انا ڈی ایم کے کی قیادت میں این ڈی اے کو ۲۹؍ فیصد ووٹوں کے ساتھ ۳۸؍ تا ۴۱؍ سیٹوں پر اکتفا کرنا ہو گا۔ رہی اداکار وجے کی پارٹی ٹی وی کے، تو اسے ۲۳؍ فیصد ووٹوں کے ساتھ ۸؍ تا ۱۰؍ سیٹیں ہی مل سکتی ہیں۔
اصل لڑائی مغربی بنگال میں ہے جہاں ٹی ایم سی کو اپنا اقتدار بچانے کی جدوجہد کرنی ہے جبکہ بی جے پی پر اقتدار میں آنے کی دھن سوار ہے۔ آخر الذکر کی نگاہ کافی عرصہ سے اس ریاست پر مرکوز ہے بالخصوص گزشتہ پانچ سال میں اس نے یہاں اپنا تنظیمی ڈھانچہ مضبوط کیا اور مخصوص ہندوتوا کی سیاست (نام نہاد گھس پیٹھیوں کے خلاف مہم جس کا حصہ ہے) کو زیادہ طاقت سے جاری کیا۔ اس کے ساتھ ہی آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں بھی سرگرم ہیں۔ انتخابی سیاست کے ماہر بتاتے ہیں کہ بی جے پی کافی توانائی اور وسائل صرف کررہی ہے مگر ٹی ایم سی کی سربراہ ممتا بنرجی کی شخصیت کا جادو، عوامی اسکیمیں، جن میں خواتین کیلئے جاری کی گئی اسکیموں کا خاص دخل ہے، بہت اہم ہیں جن کے پیش نظر ٹی ایم سی کا پلڑا، جو کل بھی بھاری تھا، آج بھی بھاری ہے۔ ممتا کی ۱۵؍ سالہ حکومت کے خلاف اقتدار مخالف لہر فطری ہے مگر ایس آئی آر نامی دھاندلی کے تحت ۹۷؍ لاکھ ووٹروں کے ناموں کا حذف کیا جانا بنگال میں اہم موضوع بن گیا ہے۔ کچھ تو ایس آئی آر کی وجہ سے اور کچھ ریاست میں مرکزی ایجنسیوں کی فعالیت کے سبب بی جے پی کے اثرورسوخ کا اضافہ رُک گیا ہے۔ بعضوں کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کے خلاف برہمی کی وجہ سے اقتدار مخالف لہر کمزور پڑ گئی ہے۔ جو ماقبل انتخابی سروے آئے ہیں، اُن میں ٹی ایم سی ہی کو آگے بتایا گیا ہے مگر ۴؍ مئی کو نتائج کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ ٹی ایم سی کتنی آگے ہے۔ ۲۰۲۱ء کے سروے ٹی ایم سی اور بی جے پی کی سیٹوں میں کوئی بڑا فرق نہیں بتا رہے تھے مگر ٹی ایم سی نے ۱۶۴؍ سیٹوں کی برتری حاصل کی تھی۔ اس بار ایس آئی آر میں ۹۷؍ لاکھ ووٹوں کے حذف ہونے سے اگر فرق پڑا تب بھی ممتا کو ۲۰۰؍ سے زائد سیٹیں تو بہرحال ملنی چاہئیں۔ ممتا کو ستایا تو جاسکتا ہے مگر ڈرایا، دھمکایا اور ہرایا نہیں جاسکتا۔