ہائی کورٹ نے پولیس اور نگر نگم کے اعلیٰ افسران کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا اورمعائنہ کر کے مسئلے کا ٹھوس حل پیش کرنے کی ہدایت دی ، آئندہ سماعت یکم مئی کو۔
ججوں نے بھی اس بات کااعتراف کیا کہ لکھنؤ میںبرسوں سے ٹریفک جام ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے، لیکن اب تک اس کا کوئی مؤثر حل تلاش نہیں کیا جا سکا- تصویر:آئی این این
تہذیبوں کے شہر لکھنؤ میں بڑھتے ہوئے ٹریفک جام کے مسئلے پر الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے پولیس اور نگر نگم کے اعلیٰ افسران کو ذاتی طور پر عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو موقع کا معائنہ کر کے مسئلے کا ٹھوس حل پیش کرنے کی ہدایت دی ہے، آئندہ سماعت یکم مئی کو مقرر کی گئی ہے۔
لکھنؤ شہر میں مسلسل بڑھتی ہوئی ٹریفک جام کی پریشانی پر الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے سنجیدگی کا اظہار کرتے ہوئے سخت اقدامات کئے ہیں۔ عدالت نے اس معاملے میں دائر مفادِ عامہ کی عرضی پر سماعت کے دوران متعلقہ محکموں کے سینئر افسران کو طلب کر لیا ہے۔یہ عرضی سماجی کارکن اور وکیل سورج سنگھ بسیَن کی جانب سے داخل کی گئی تھی، جس میں وکیل پرشانت شرما نے پولی ٹیکنک چوراہے سے کسان پتھ تک کے راستے پر طویل عرصے سے جاری ٹریفک جام اور اس سے عوام کو ہونے والی شدید دشواریوں کا معاملہ اٹھایا تھا۔
جسٹس راجن رائے اور جسٹس منجیو شکلا کی دو رکنی بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ اس راستے پر برسوں سے ٹریفک جام ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے، لیکن اب تک اس کا کوئی مؤثر حل تلاش نہیں کیا جا سکا۔ عدالت نے اس صورتحال پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ روزانہ ہزاروں افراد کو اس مسئلے کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عدالت نے ڈی سی پی (ٹریفک)، ڈی سی پی (ایسٹ)، پولیس کمشنر لکھنؤ اور نگر نگم کے ایک گزیٹڈ افسر کو آئندہ سماعت پر ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہدایت بھی دی گئی ہے کہ یہ افسران پیشی سے قبل پورے راستے کا تفصیلی معائنہ کریں، ٹریفک جام کی اصل وجوہات کی نشاندہی کریں اور اس کے حل کے لئے عملی اور قابلِ عمل تجاویز تیار کر کے عدالت کے سامنے پیش کریں۔
دوران سماعت بنچ نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ اس سے قبل بھی اس مسئلے پر کئی مفادِ عامہ کی عرضیوں میں سماعت ہو چکی ہے، مگر اب تک کوئی قابلِ ذکر پیش رفت سامنے نہیں آسکی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر اس بار بھی تسلی بخش منصوبہ پیش نہیں کیا گیا تو ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی پر غور کیا جائے گا۔عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ ناقص ٹریفک نظام، سڑکوں کی غیر منظم حالت اور مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی اس مسئلے کی بنیادی وجوہات ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کو روزانہ شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی آئندہ سماعت یکم مئی کو مقرر کی ہے، جہاں متعلقہ افسران سے پیش رفت رپورٹ طلب کی جائے گی۔