معاشرہ میں دو طرح کے افراد ملتے ہیں ۔ ایک وہ جن کے بچے اسکول یا کالج میں پڑھ رہے ہیں ۔ دوسرے وہ جن کے بچے اسکول یا کالج کی تعلیم سے فارغ ہوچکے ہیں ۔
EPAPER
Updated: August 03, 2025, 1:38 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
معاشرہ میں دو طرح کے افراد ملتے ہیں ۔ ایک وہ جن کے بچے اسکول یا کالج میں پڑھ رہے ہیں ۔ دوسرے وہ جن کے بچے اسکول یا کالج کی تعلیم سے فارغ ہوچکے ہیں ۔
معاشرہ میں دو طرح کے افراد ملتے ہیں ۔ ایک وہ جن کے بچے اسکول یا کالج میں پڑھ رہے ہیں ۔ دوسرے وہ جن کے بچے اسکول یا کالج کی تعلیم سے فارغ ہوچکے ہیں ۔جن کے بچے ابھی پڑھ رہے ہیں اُنہیں تعلیم کی فکر ہوتی ہے (یاہوسکتی ہے)، وہ اساتذہ کے رابطے میں رہتے ہیں ، اپنے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں سے واقف رہنا چاہتے ہیں اور پی ٹی اے کی میٹنگ کے بہانے ہی سہی اسکول کا دورہ کرآتے ہیں ۔اس کے برخلاف، جن کےبچے اسکول یا کالج کی تعلیم سے آگے نکل چکے ہیں اُنہیں اب نہ اسکول اور اساتذہ کی فکر ہے نہ ہی کبھی وہ کسی تعلیم گاہ کا دورہ کرتے ہیں ۔اگر دونوں طرح کے افراد کی تعداد پچاس پچاس فیصد مان لی جائے تو اس کا معنی یہ ہے کہ معاشرہ کی صرف آدھی آبادی کو اسکول کالج یا تعلیم کی فکر ہے بقیہ کو نہیں ہے۔ جس پچاس فیصد آبادی کو فکر ہے اُس میں بھی پچیس فیصد ایسے نکل آئینگے جو یہ سوچتے ہیں کہ بچوں نے پڑھ لیا تو بھی ٹھیک ہے اور نہ پڑھا تو بھی ٹھیک ہے۔ اگر انہیں منہا کردیا جائے تو صرف پچیس فیصد بچتے ہیں ۔
موٹے طور پر یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط نہ ہوگا کہ معاشرہ میں صرف پچیس فیصد لوگ ایسے ہیں جنہیں اسکول یا کالج کی فکر ہے، بچوں کی تعلیم کی فکر ہے اور وہ تعلیم کے معیار کے بارے میں بھی کبھی سوچتے ہونگے یا اسکول اور کالج کی ضرورتوں کا خیال اُن کے ذہن میں آتا ہوگا۔ عملی مظاہر کو سامنے رکھئے تو یہ پچیس فیصد کی تعداد بھی زیادہ معلوم ہوتی ہے جس کے بارے میں خوش گمانی کا مظاہرہ اس کالم میں کیا جارہا ہے جبکہ قوم کی تعلیم کیلئے لازم ہے کہ معاشرہ کا ہر فرد تعلیم کی فکر کرے خواہ اُس کے بچے اسکول کالج جاتے ہوں یا اس مرحلہ سے گزر چکے ہوں ، خواہ وہ کاروباری ہوں یا ملازمت پیشہ، خواہ وہ خود تعلیم یافتہ ہوں یا نہ ہو، خواہ مرد ہوں یا خاتون، خواہ معاشی طور پر طاقتور ہوں یا بے حد کمزور۔ سوال یہ ہے کہ ہر فرد تعلیم کی فکر کیسے کریگا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اُس کے بچے اسکول کالج میں نہ ہوں تو کیا ہوا، جس عمارت میں وہ رہتا ہے وہاں کے بچے تو اسکول کالج جاتے ہونگے؟ کیا وہ ان کے بارے میں جانتا ہے کہ کس جماعت اور اسکول میں ہیں یا کون سا کورس کررہے ہیں ؟ پہلے تو وہ معلوم کرے اور جب اُسے علم ہو کہ فلاں اور فلاں فلیٹ کے بچے اسکول کالج جاتے ہیں تو اُسے اپنے آپ سے سوال کرنا چاہئے کہ وہ ان کی کیا مدد کرسکتا ہے؟ اُسے یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ اطراف کی دُنیا میں کون ہے جو اسکول نہیں جارہا ہے۔ کیا ، وہاں اس کی مدد دکار ہوسکتی ہے؟ یہ محض ایک مثال ہے۔ ایسی درجنوں مثالیں ہوسکتی ہیں ۔ تعلیم گاہوں سے بے اعتنائی کا عالم یہ ہے کہ معاشرہ کے جو افراد علاقے یا محلے کے اسکول سے پڑھ لکھ کر آگے بڑھتے ہیں وہ کسی منصب پر پہنچنے کے بعد کبھی پلٹ کر نہیں دیکھتے کہ اُن کا اسکول کس حال میں ہے اور جن اساتذہ نے اُنہیں کسی قابل بنایا وہ اب کہاں ہیں اور کیا کررہے ہیں ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ معاشرہ کا ہر فرد فکر کریگا تو تعلیم کے تئیں جو بیداری ازخود پیدا ہوگی وہ نہ تو جلسے جلوس سے ہوسکتی ہے نہ پوسٹر اور بینر سے۔سب کا جڑنا اسلئے ضروری ہے کہ قوم تعلیم یافتہ ہوتی ہے تو اس کا فائدہ سب کو پہنچتا ہے۔ قوم کی سماجی و معاشی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کی قدرومنزلت بڑھتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ایسا ہو اور ہم اپنا کھویا ہوا وقار بحال کریں تو تعلیم کی فکر ہر ایک کو کرنی ہوگی ۔