وطن عزیز میں موبائل اور سوشل میڈیا کا استعمال کس حد تک بڑھ چکا ہے اس پر روشنی ڈالنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ یہ ہر ایک کا مشاہدہ ہے۔ موبائل کے عام ہونے سے قبل طویل مسافتی ٹرینوں کے مسافر اپنا خالی وقت گزارنے کیلئے یا اخبار یا کتاب کا مطالعہ کرتے تھے یا ایک دوسرے سے گفتگو کو ترجیح دیتے تھے۔
وطن عزیز میں موبائل اور سوشل میڈیا کا استعمال کس حد تک بڑھ چکا ہے اس پر روشنی ڈالنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ یہ ہر ایک کا مشاہدہ ہے۔ موبائل کے عام ہونے سے قبل طویل مسافتی ٹرینوں کے مسافر اپنا خالی وقت گزارنے کیلئے یا اخبار یا کتاب کا مطالعہ کرتے تھے یا ایک دوسرے سے گفتگو کو ترجیح دیتے تھے۔ بعض اوقات ساتھی مسافروں کے ساتھ قائم ہونے والا وقتی تعلق تادیر باقی رہنے والی دوستی حتیٰ کہ رشتے داری میں تبدیل ہوجاتا تھا۔ اب نہ تو ایساہوتا ہے نہ ہوسکتا ہے کیونکہ ہر مسافر کی اپنی دُنیا ہے۔ موبائل ہر خاص و عام، مردو زن اور خوردو کلاں کا سچا اور پکا دوست بن چکا ہے۔ ماضی میں ہاتھ کو ہاتھ تب نہیں سوجھتا تھا جب گھپ اندھیرا چھا جاتا تھا، اب خاطرخواہ روشنی میں ہاتھ کو ہاتھ کیا، آدمی کو آدمی نہیں سوجھتا ہے۔کسی نوجوان کو آواز دے کر دیکھئے جو کانوں پر ایئر فون جمائے آپ ہی آپ مسکرا رہا ہو، آپ ہی آپ ہنس رہا ہو اور وقتاً فوقتاً اس کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہورہے ہوں ۔ بہت قریب سے آواز دینے پر بھی وہ متوجہ نہیں ہوتا، جنبش نہیں کرتا۔ بلاشبہ وہ بے حس نہیں ہے مگر بے تعلق ہے۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا دور آئے گا جب پڑوس کی خبر نہیں ہوگی مگر دُور دراز کی خبریں سامنے (اسکرین پر) ہوں گی اور موبائل کا صارف اُن میں اس حد تک مستغرق ہوگا کہ کسی طالب علم کو استغراق کا معنی سمجھانا ہو تو اُسے موبائل صارف دکھا دینا کافی ہوگا، تفہیم میں دشواری نہیں ہوگی۔
اس سے سماج میں لاتعلقی پیدا ہورہی ہے جو ارسطو کو جھٹلا رہی ہے اور اس قول کی نفی کررہی ہے کہ انسان سماجی جانور ہے۔ کیا اب درس گاہوں کے نصاب میں طلبہ کو یہ پڑھایا جائیگا کہ موبائل کی آمد سے پہلے انسان سماجی جانور تھا، اب نہیں ہے ؟ اگر وہ لاتعلقی جو تسلسل کے ساتھ بڑھ رہی ہے اسی طرح جاری رہی اور اس میں اضافہ ہی ہوتا رہا تو انسان کے سماجی جانور ہونے کی بات لغو اور مہمل ثابت ہوکر رہے گی۔ موبائل ضروری ہے، موبائل سے استفادہ ضروری ہے، انٹرنیٹ ضروری ہے، میڈیا اور سوشل میڈیا ضر وری ہے مگر کیا اعتدال ضروری نہیں ہے؟ اس دانشورانہ قول سے کون واقف نہیں کہ ہرچیز کی بہتات یا زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے۔ اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ انسان کو کسی بھی معاملے میں حد اعتدال سے باہر نہیں ہونا چاہئے۔ پھر ایک دوسرے سے لاتعلقی کیوں بڑھ رہی ہے؟ کیا تعلق کی اہمیت، افادیت اور برکت بھی سمجھانی پڑے گی؟ کون سمجھائے گا؟ اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کون سمجھنا چاہے گا؟ پیسوں کا زیاں ، وقت کا زیاں ، توجہ کا زیاں ، جسمانی اور ذہنی صحت کا زیاں ۔ حد اعتدال سے آگے بڑھ جانے میں نقصان ہی نقصان ہے اور نقصان کو نقصان نہ سمجھنے کا نقصان الگ۔ وہ تو بڑا نقصان ہے۔ کیا دور جدید میں اگلے وقتوں سے زیادہ اپنے فائدے نقصان کی سوچنے والا انسان اس نقصان کو نقصان نہیں سمجھتا؟
یہ اور ایسے سوالات غور طلب ہیں ۔ ایک شخص (صارف) اپنے پیسوں ، وقت، توجہ اور جسمانی و ذہنی صحت کی فکر سے بالاتر ہوکر حد اعتدال سے آگے بڑھنے کا عادی ہے تو یہ ایک فرد کا نقصان ہے مگر ہر فرد جب اتنا ہی دیوانہ اور سماج سے بیگانہ ہو جائیگا تو پیدا شدہ لاتعلقی اور بیگانگی سے سماج سماج نہیں رہ جائیگا کہ اس میں انسان کا انسان سے تعلق جیسا تعلق ناپید ہوچکا ہوگا اور سماج کوسماج کہنے میں تامل اور تردد ہوگا۔ تب سماج کی تعریف ہی بدل جائیگی۔ کیا سماج کو ایسا سماج چاہئے؟