یورپی ادارے ایک نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ڈبلیو ‘‘ لانچ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جسے ایلون مسک کی ملکیت والے پلیٹ فارم ایکس کے یورپی متبادل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 10:15 PM IST | New York
یورپی ادارے ایک نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ڈبلیو ‘‘ لانچ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جسے ایلون مسک کی ملکیت والے پلیٹ فارم ایکس کے یورپی متبادل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
یورپی ادارے ایک نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ڈبلیو ‘‘ لانچ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جسے ایلون مسک کی ملکیت والے پلیٹ فارم ایکس کے یورپی متبادل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا جا رہا ہے جب یورپ اور امریکہ کے درمیان سیاسی، ضابطہ جاتی اور ڈیجیٹل کشیدگیاں بڑھ رہی ہیں۔
ڈنمارک کے ایک میڈیا ادارے کے مطابق ڈبلیو میں صرف تصدیق شدہ انسانی صارفین کو شامل کیا جائے گا، ڈیٹا کے مضبوط تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور غلط معلومات (ڈس انفارمیشن) کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ اس پلیٹ فارم کی نگرانی ایک مشاورتی بورڈ کرے گا جس میں زیادہ تر سویڈن سے تعلق رکھنے والے سابق وزرا اور کاروباری لیڈر شامل ہیں۔
ڈبلیو کیا ہے؟
ڈبلیو کو ایک ایسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے جہاں صارفین کو تصویر اور شناختی دستاویز کے ذریعے اپنی شناخت کی تصدیق کرنا ہوگی۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ صارفین حقیقی انسان ہوں، نہ کہ بوٹس یا جعلی اکاؤنٹس، جو موجودہ پلیٹ فارمز پر ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بن چکا ہے۔
ڈبلیو کی سی ای او آنا زائٹر نے سوئس میڈیا ادارےبلانز ڈاٹ سی ایچ ( Bilanz.ch) کو بتایا کہ اس نام کا مطلب ڈبلیو (ہم) ہے جبکہ اس میں چھپے ہوئے دو الفاظ Values (اقدار) اورVerified (تصدیق شدہ) کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حروفِ تہجی میں ڈبلیو کا ایکس سے پہلے آنا ایک خوشگوار اتفاق ہے۔
دیگر عالمی پلیٹ فارمز کے برعکس،ڈبلیو کا ڈیٹا یورپ ہی میں یورپی کمپنیوں کے ذریعے محفوظ کیا جائے گا۔ یہ پلیٹ فارم یورپی یونین کے سخت ڈیٹا تحفظ قوانین، بشمول جی ڈی پی آر ، پر عمل کرے گا جس سے صارفین کو اپنی ذاتی معلومات پر زیادہ کنٹرول حاصل ہوگا۔
یورپ کوایکس کا متبادل کیوں چاہیے؟
ڈبلیو کی حمایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپ اور امریکہ کے تعلقات کشیدہ ہو چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کچھ یورپی ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا، جس سے سفارتی تناؤ میں اضافہ ہوا۔ اسی دوران، ایلون مسک کا پلیٹ فارم ایکس یورپی ریگولیٹرز کے ساتھ تنازعات کا شکار رہا ہے۔ یورپی یونین کے ڈیجیٹل سروسیز ایکٹ کے تحت شفافیت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر ایکس پر۱۲۰؍ملین یوروجرمانہ عائد کیا گیا۔ اس پر مسک نے یورپی یونین پر کھلے عام تنقید کی۔
یورپی پارلیمنٹ کے ۵۴؍ اراکین کے ایک گروپ نے بھی بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے یورپی متبادل کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈر لاین کو لکھے گئے ایک کھلے خط میں انہوں نے کہا کہ ایکس اب سیاسی رابطے یا صحافت کے لیے ایک کھلا اور متوازن ذریعہ نہیں رہا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پلیٹ فارم اب عوامی مباحثے کا مؤثر فورم نہیں رہا اور اس کا تعلق بڑھتی ہوئی غلط معلومات اور نقصان دہ اے آئی سے تیار کردہ مواد سے جوڑا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:رنجی ٹرافی: سرفراز خان کی شاندار ڈبل سنچری، ممبئی نے حیدرآباد پر شکنجہ کسا
غلط معلومات اور اے آئی مواد پر خدشات
ڈبلیو کے اعلان کے موقع پر لنکڈ اِن پر اپنی پوسٹ میں آنا زائٹر نے خبردار کیا کہ منظم غلط معلومات عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور جمہوری فیصلوں کو کمزور کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق، یورپ کو ایک ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جو مقامی طور پر تیار اور چلایا جائے، اور جس کی بنیاد انسانی تصدیق، آزادیِ اظہار اور رازداری پر ہو۔