ایسا لگتا ہے کہ ایپسٹین فائلز کے انکشافات کا الگ الگ ملکوں میں الگ الگ اثر ہوگا۔کہاں اثر ہوگا اور جب ہوگا تو کتنا ہوگا اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کسی ملک میں اجتماعی غیرت و شرم کا معیار کیا ہے۔ دُنیا مختلف ملکوں کو مختلف وجوہات کی بناء پر پسند اور ناپسند کرتی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ ایپسٹین فائلز کے انکشافات کا الگ الگ ملکوں میں الگ الگ اثر ہوگا۔کہاں اثر ہوگا اور جب ہوگا تو کتنا ہوگا اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کسی ملک میں اجتماعی غیرت و شرم کا معیار کیا ہے۔ دُنیا مختلف ملکوں کو مختلف وجوہات کی بناء پر پسند اور ناپسند کرتی ہے۔ جن معیارات پر انہیں پرکھا جاتا ہے اُن میں تہذیبی بالخصوص سیاسی اخلاقیات کی کسوٹی کو کتنی اہمیت حاصل ہے ۔ یہ سوال اس لئے اہم ہے کہ جیسے جیسے دُنیا اکیسویں صدی سے گزر رہی ہے، ویسے ویسے مادّیت کا اس پر غلبہ بڑھا ہے۔ مادی مفادات پورے ہوں تو باقی تمام باتوں کو پس پشت ڈالا جاسکتا ہے۔ مغرب نے ایک منظم معاشرہ کو یقینی بنانے کیلئے اور پوری دُنیا پر اس کے اطلاق کیلئے کئی اداروں کو قائم ہونے کی اجازت دی جو مختلف ملکوں کو جمہوریت، انسانی حقوق، سیاسی جوابدہی، شفافیت، بدعنوانی و بے ضابطگی کے معیارات پر پرکھتے ہیں اور ہر سال اپنی رپورٹ منظر عام پر لاتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ جن ممالک میں جمہوریت غیر مستحکم یا کمزور ہے یا جہا ں جرائم زیادہ ہیں ، اُن ملکوں سے معاشی تعلقات منقطع کرلئے جائینگے۔ ایسا نہیں ہوتا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہیں دکھانے کے اور ہیں ۔ اس کے باوجود امریکہ کے منقابلے میں یورپی ملکوں نے ایسپٹین فائلز کے انکشافات کا سخت نوٹس لیا ہے۔ ایک شہزادہ، ایک سفیر، کئی اعلیٰ سیاستداں اور ایک سینئر سفارتکار اس کی زد پر آئے ہیں ۔ سابق برطانوی سفیر برائے امریکہ پیٹر منڈیلسن کو ہٹا دیا گیا اور اب اُنہیں جیل ہو سکتی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر سے جواب دیتے نہیں بن پڑ رہا ہے کہ اُنہوں نے منڈیلسن کو سفیر کیوں بنایا۔ منڈیلسن کی جانچ یہ جاننے کیلئے ہورہی ہے کہ کیا اُنہوں نے ایپسٹین کو حساس معلومات فراہم کی تھیں ۔
اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کو، جو کنگ چارلس سوئم کے بھائی ہیں ، شہزادہ ہونے کے اعزاز، دیگر اعزازات اور ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے حاصل رہائش گاہ سے محروم ہونا پڑا ہے۔ ناروے، سویڈن اور سلوواکیہ میں بھی کئی لوگوں پر گاج گری ہے۔ سوائے اینڈریو ماؤنٹ بیٹن کے، ان میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس کے خلاف جنسی غلط کاریوں کا ثبوت منظر عام پر آیا ہو مگر ان کے خلاف کارروائی ہوچکی یا ہورہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایپسٹین مجرم ثابت ہوگیا تب بھی ان لوگوں کے اُس سے تعلقات تھے۔ برطانیہ میں صورت حال یہ ہے کہ اگر کسی برطانوی شخصیت کا نام ایپسٹین فائل میں آگیا تو آناً فاناً وہ میڈیا میں آجاتی ہے اور اس پر بحث شروع ہوجاتی ہے۔ سمجھ لیجئے اس کی چھٹی ہوگئی۔
اس معاملے میں برطانیہ اور امریکہ میں اتنافرق کیوں ہے؟ اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ ایپسٹین فائلز میں خود ٹرمپ کا نام ہے اور مختلف حوالوں سے ہے اور جب اعلیٰ قیادت ہی ملوث ہوتی ہے تو دیگر کے خلاف کارروائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ٹرمپ نہ تو اپنے خلاف الزامات کو مانیں گے نہ ہی کسی اور پر کارروائی ہونے دینگے۔ نیویارک ٹائمس کی ایک رپورٹ کے مطابق ایپسٹین کی ۵؍ ہزار ۳؍ سو فائلز میں ٹرمپ کا نام کسی نہ کسی زاویئے اور حوالے سے موجود ہے، اس کے باوجود وہ نہ تو پریشان ہیں نہ اسے اپنی رسوائی سمجھتے ہیں ۔