• Wed, 11 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی ہائی کورٹ برہم؛ مساجد، درگاہوں پر ’بے بنیاد‘ عرضیوں پر این جی او کو سخت تنبیہ

Updated: February 11, 2026, 10:15 PM IST | New Delhi

دہلی ہائی کورٹ نے ’’سیو انڈیا فاؤنڈیشن‘‘ کو مساجد اور درگاہوں کے خلاف بار بار بے بنیاد اور فضول مفاد عامہ کی عرضیاں (پی آئی ایل) دائر کرنے پر سخت الفاظ میں سرزنش کی۔ عدالت نے کہا کہ پی آئی ایل عدالتی نظام کو مفلوج کرنے یا مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

دہلی ہائی کورٹ نے ایک بار پھر ’’سیو انڈیا فاؤنڈیشن‘‘ کو مساجد اور درگاہوں کے خلاف بار بار مفاد عامہ کی عرضی دائر کرنے پر کڑی تنبیہ کی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسی درخواستیں بے بنیاد یا غیر سنجیدہ ہوں تو وہ عدالتی وقت اور وسائل کا ضیاع ہیں اور پی آئی ایل کے مقصد کو مجروح کرتی ہیں۔واضح رہے کہ این جی او کی جانب سے مختلف مساجد اور درگاہوں کے خلاف پی آئی ایلز دائر کی گئی تھیں، جن میں مبینہ خلاف ورزیوں یا قانونی نکات کی بنیاد پر کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔ سماعت کے دوران عدالت نے مشاہدہ کیا کہ پیش کی گئی درخواستیں مضبوط قانونی بنیاد اور ٹھوس شواہد سے محروم دکھائی دیتی ہیں، جس پر بنچ نے تنظیم کے رویے پر سوال اٹھایا۔

یہ بھی پڑھئے: مودی کا طنزیہ کارٹون ویڈیو سوشل میڈیا سے ہٹا دیا گیا؛ ’دی وائر‘ نے اسے ’طنزیہ مواد پر ایمرجنسی‘ کہا

عدالت نے کہا کہ پی آئی ایل کا دائرہ عوامی مفاد کے سنجیدہ اور حقیقی معاملات تک محدود ہونا چاہیے، نہ کہ اسے مذہبی مقامات کے خلاف عمومی یا غیر ثابت شدہ الزامات کے لیے استعمال کیا جائے۔ بنچ نے ریمارکس دیے کہ عدالت کا فورم کسی مخصوص کمیونٹی یا مذہبی ادارے کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ سماعت کے دوران ججوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر اسی نوعیت کی بے بنیاد درخواستیں مستقبل میں دائر کی گئیں تو عدالت سخت اقدام، بشمول جرمانہ عائد کرنے، پر غور کر سکتی ہے۔ عدالت نے تنظیم کو خبردار کیا کہ وہ پی آئی ایل کے دائرہ کار اور قانونی ذمہ داری کو سنجیدگی سے سمجھے۔ رپورٹ کے مطابق عدالت اس سے قبل بھی اسی این جی او کو متنبہ کر چکی ہے کہ وہ بغیر معقول قانونی بنیاد کی پی آئی ایلز داخل نہ کرے۔ اس تازہ سماعت میں عدالت نے دوبارہ واضح کیا کہ پی آئی ایل ایک غیر معمولی قانونی علاج ہے جسے ذاتی، نظریاتی یا غیر سنجیدہ مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھئے: صحافی روی نائر کو اڈانی ہتک عزت کیس میں ایک سال قید کی سزا

ماہرین کے مطابق ہائی کورٹ کا یہ موقف اس وسیع تر عدالتی رجحان کا حصہ ہے جس میں عدالتیں ’’بے بنیاد اور فضول‘‘ کے خلاف سختی اختیار کر رہی ہیں تاکہ عدالتی نظام پر غیر ضروری بوجھ کم کیا جا سکے۔ عدالتوں نے بارہا کہا ہے کہ پی آئی ایل کو عوامی مفاد کے نام پر سیاسی یا فرقہ وارانہ مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ فی الحال عدالت نے متعلقہ درخواستوں پر کارروائی کرتے ہوئے تنظیم کو محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے۔ کیس کی آئندہ سماعت اور ممکنہ عدالتی ہدایات کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK