• Wed, 11 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگلہ دیش: محمد یونس کی عوام سے عام انتخاب میں ووٹ دینے کی اپیل

Updated: February 11, 2026, 9:03 PM IST | Dhaka

بنگلہ دیش حکومت کے عبوری سربراہ محمد یونس نے عام انتخابات سے قبل عوام سے بڑی تعداد میں ووٹ دینے کی اپیل کی ہے، ساتھ ہی کہا کہ یہ انتخابات شیخ حسینہ کے دور کے محدود حقوق کے دور کا خاتمہ کردیں گے۔

Bangladesh Chief Advisor Muhammad Yunus. Photo: XPhoto: INN
بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس۔ تصویر: ایکس

بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے منگل کو ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے عوام سے عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا  یہ انتخابات شیخ حسینہ کے دور کے محدود حقوق کے دور کا خاتمہ کردیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’میں صرف درخواست نہیں کر رہا، بلکہ مطالبہ کر رہا ہوں۔ خوف کو ایک طرف رکھیں اور ہمت کے ساتھ پولنگ اسٹیشنوں کی طرف بڑھیں۔ آپ کا ووٹ نہ صرف حکومت کا انتخاب کرے گا بلکہ۱۷؍ سال کی خاموشی کا جواب بھی ہوگا، بے لگام فسطائیت کو چیلنج کرے گا، قوم کی نئی تشکیل کرے گا اور یہ ثابت کرے گا کہ اس ملک میں نوجوانوں، خواتین اور بہادر عوام کی آواز کو کبھی خاموش نہیں کیا جا سکتا۔‘‘انہوں نے کہا کہ انتخابات اور آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم کے ذریعے ریاست کا مستقبل کا ڈھانچہ اور سمت طے ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے ہندوستان پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی تھی: روسی وزیر خارجہ کا الزام

واضح رہے کہ یہ انتخابات۵؍اگست ۲۰۲۴ء کو حسینہ حکومت کے خلاف عوامی بغاوت کے بعد پہلے انتخابات ہیں۔یونس نے انتخابات میں خلل ڈالنے یا تشدد کی کسی بھی کوشش کو سخت کارروائی  کی وارننگ دی۔دریں اثناء سرکاری اعدادوشمار کے مطابق دسمبر میں انتخابی نظام الاوقات کے اعلان کے بعد سے اب تک پانچ افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تاہم ماضی کے انتخابات میں اس سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ بعد ازاں یونس نے حریف سیاسی جماعتوں اور امیدواروں سے انتخابی نتائج قبول کرنے کی اپیل کی اور ان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتخابی ماحول کو بڑی حد تک پرامن رکھا۔
تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ان کی حکومت انتخابات کے بعد جلد از جلد اقتدار منتقل کر دے گی۔یاد رہے کہ اس عام انتخاب میں ۱۲؍کروڑ۷۰؍ لاکھ سے زائد رائے دہندگان اپنا ووٹ ڈالیں گے، جبکہ سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔الیکشن کمشنر ابو الفضل محمد ثناء اللہ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ۲۹۹؍ حلقوں میں سے۹۰؍ فیصد سے زائد میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کردیے گئے ہیں اور۹؍ لاکھ ۵۸؍ہزار اہلکار امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تعینات ہیں۔جبکہ ایک امیدوار کی وفات کے باعث۳۰۰؍ حلقوں میں سے ایک میں رائے دہی معطل کردی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: امیگریشن عدالت نے فلسطین حامی رومیسا اورترک کی جلاوطنی کا مقدمہ خارج کیا

علاوہ ازیں عبوری حکومت نے شدیداحتجاج کے بعد باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر سے شریف عثمان ہادی کے قتل کی تحقیقات میں مدد مانگی ہے۔ ہادی جولائی ۲۰۲۴ء کی بغاوت کے دوران قومی شہرت حاصل کرنے والے نوجوان لیڈرتھے۔یونس کے دفتر نے اتوار کو بتایا کہ۶؍ فروری کوزبانی درخواست  بھیجی گئی ہے، جس میں او ایچ سی ایچ آر سے تحقیقات میں تکنیکی اور ادارہ جاتی معاونت کی درخواست کی گئی۔
ذہن نشین رہے کہ ہادی، جو قومی انتخابات میں ڈھاکہ،۸؍ حلقے سے آزاد امیدوار تھے،۱۲؍ دسمبر کو ڈھاکہ کے پلٹن علاقے میں مسجد سے نکلتے ہی موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ وہ ۱۸؍ دسمبر کو سنگاپور کے اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔پولیس نے ایک عوامی لیگ کارکن سمیت۱۷؍ افراد کے خلاف مقدمہ درئر کردیا ہے۔حملے سے قبل ہادی نے عوامی طور پر کہا تھا کہ انہیں شیخ حسینہ کے حامیوں کی جانب سے درجنوں دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ جبکہ شیخ حسینہ  ۵؍ اگست ۲۰۲۴ء سے ہندوستان میں جلاوطن ہیں۔ان کے خلاف بغاوت میں تقریباً ۱۴۰۰؍افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK