Inquilab Logo Happiest Places to Work

زمین کی بڑھتی حدت بڑا چیلنج ہے!

Updated: March 26, 2026, 10:59 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

زمین کی بڑھتی حدت سے سب واقف ہیں مگر اس تفصیل سے اکثر لوگ واقف نہیں کہ متعلقہ حدت کا ۹۱؍ فیصد سمندر، ۵؍ فیصد زمین (برّی حصہ) اور ایک فیصد ماحول جذب کرتا ہے جبکہ ۳؍ فیصد سے برف پگھلتی ہے۔ برّی حصہ بہت کم یعنی صرف ۵؍ فیصد جذب کرتا ہے اس کے باوجود انسانی بستیوں میں ہاہاکار مچ جاتی ہے تو سوچئے کہ سمندر جو ۹۱؍ فیصد جذب کرتے ہیں اُن میں حرارت کی کتنی مقدار پہنچتی ہے اور سمندری پانی کی حدت کس حد تک چلی جاتی ہے، ہم چاہیں بھی تو اس کا احساس نہیں کرسکتے۔

Earth.Photo:INN
زمین۔ تصویر:آئی این این
زمین کی بڑھتی حدت سے سب واقف ہیں مگر اس تفصیل سے اکثر لوگ واقف نہیں کہ متعلقہ حدت کا ۹۱؍ فیصد سمندر، ۵؍ فیصد زمین (برّی حصہ) اور ایک فیصد ماحول جذب کرتا ہے جبکہ ۳؍ فیصد سے برف پگھلتی ہے۔ برّی حصہ بہت کم یعنی صرف ۵؍ فیصد جذب کرتا ہے اس کے باوجود انسانی بستیوں میں ہاہاکار مچ جاتی ہے تو سوچئے کہ سمندر جو ۹۱؍ فیصد جذب کرتے ہیں اُن میں حرارت کی کتنی مقدار پہنچتی ہے اور سمندری پانی کی حدت کس حد تک چلی جاتی ہے، ہم چاہیں بھی تو اس کا احساس نہیں کرسکتے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ ’’ورلڈ میٹیریالوجیکل آگنائزیشن‘‘ (ڈبلیو ایم او) کا کہنا ہے ۲۰۱۵ء سے ۲۰۱۵ء تک کے گیارہ سال کرۂ ارض کیلئے گرم ترین سال تھے۔ صنعتی انقلاب سے قبل زمین کا جو درجہ حرارت رہا کرتا تھا اس میں ۱ء۵۵؍ ڈگری سیلسئس تک کا اضافہ ۲۰۲۴ء تک ہوا جس میں گرین ہاؤس گیسوں (میتھین، کاربن اور نائٹرس آکسائڈ) کا ارتکاز سب سے زیادہ ہوا جس کی وجہ سے گرمی بڑھتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رواں سال بھی اتنا ہی گرم ہوسکتا ہے جتنا کہ ۲۰۲۵ء تھا یا اس سے قبل ۲۰۲۳ء اور ۲۰۲۴۔ 
 
 
خبروں میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ ۱۷۶؍ سالہ تاریخ کا سب سے زیادہ گرم سال ۲۰۲۴ء تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ۱۵ء سے ۲۵ء تک کے گیارہ سال میں زمینی حدت کا اضافہ کسی ناگہانی واقعہ یا سلسلۂ واقعات کا نتیجہ نہیں بلکہ انسانی خرافات کا نتیجہ ہے۔ دُنیا کی با اثر طاقتیں زمین کی حدت کے خلاف تشویش کے اظہار اور نیا لائحہ عمل بنانے کیلئے چوٹی کانفرنسیں ضرور کرتی ہیں مگر جو کچھ بھی طے پاتا ہے اُن پر عملدر آمد کے معاملے میں اکثر ممالک ناکام ثابت ہوتے ہیں۔
 
 
جو ملک جتنی بڑی معاشی طاقت ہے وہ ماحولیات کو اُتنا زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ جاننے سے قبل کہ وہ کون سے ممالک ہیں جہاں کاربن کا اخراج سب سے زیادہ ہے، یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ آخر فضا میں کاربن کی سالانہ کتنی مقدار جمع ہوتی ہے۔ بعض مطالعات کے مطابق ہر سال ۵۰؍ ارب میٹرک ٹن کاربن (سی او ۲۔CO2)ماحول میں جگہ بناتی ہے جو کرۂ ارض کی حدت میں زبردست اضافے کا سبب بنتی ہے۔ وہ دس ممالک جہاں کاربن کا اخراج سب سے زیادہ ہے اُن میں اوپر سے نیچے یہ ممالک ہیں: چین، امریکہ، ہندوستان، یورپی یونین (کے ۲۷؍ ممالک)، روس، جاپان، برازیل، ایران، انڈونیشیا اور میکسیکو ہیں۔ جن ملکوںمیں کاربن کا اخراج بہت کم ہے اُن میں اکثر ایسے ہیں جن کے نام سے بھی زیادہ لوگوں کی واقفیت نہیں مثلاً زامبیا، برونئی، شمالی مقدونیہ، ایل سلواڈور، کانگو، لاتویہ، آرمینیا وغیرہ۔ ایسا نہیں کہ کاربن کے زیادہ اخراج کے خاطی ملکوں نے کوئی قدم نہیں اُٹھایا۔ اُٹھایا ہے مگر جب معاشی سرگرمیوں اور مادّی مفادات کی بات آتی ہے تو سب اپنے عہد کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔ تب یہ بھی ہوتا ہے کہ جنگلات میں اچانک آگ ’’لگ‘‘ جاتی ہے، اسی میں عہد اور عزم اور قرارداد اور چارٹر وغیرہ کی بلی چڑھا دی جاتی ہے۔ یہ معلومات ہمارے ناقص مطالعہ کا نتیجہ ہیں مگر ان سے اتنا تو اندازہ ہو ہی جائیگا کہ ہمیں سخت گرمی کے مقابلے کیلئے تیار رہنا چاہئے، حکومت پر ضروری ماحولیاتی اقدامات کرنے کیلئے دباؤ ڈالنا چاہئے اور انفرادی طور پر کچھ بھی زمینی حدت کم کرنے کیلئے ممکن ہوسکتا ہے، اسے ممکن بنانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK