اسرائیلی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ایران کے یورینیم معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی، · اسرائیلی فوج اور موساد مبینہ طور پر ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جبکہ اسرائیل ٹرمپ کے فیصلے کا منتظر ہے۔
EPAPER
Updated: May 10, 2026, 5:09 PM IST | Tel Aviv
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ایران کے یورینیم معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی، · اسرائیلی فوج اور موساد مبینہ طور پر ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جبکہ اسرائیل ٹرمپ کے فیصلے کا منتظر ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے سنیچر کو خبر دی کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو یقین دلایا ہے کہ واشنگٹن ایران کے یورینیم معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، جبکہ اسرائیل امریکہ ایران مذاکرات کے مستقبل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔چینل۱۳؍ نے ایک نامعلوم اسرائیلی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہاسرائیل ایران پر ٹرمپ کے متوقع فیصلے کے حوالے سے ’’مسلسل انتظار‘‘ کی حالت میں ہے۔دریں اثنا اسرائیلی فوجی اور خفیہ اداروں کے افسران نے حالیہ مباحثوں میںنیتن یاہو کو ایران کے خلاف تیزی سے جارحانہ موقف پیش کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا روس اور یوکرین کے درمیان تین روزہ جنگ بندی کا اعلان
خیال کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی فوج ایران کی فوجی صلاحیتوں پر حملے دوبارہ شروع کرنے اور ’’مشن مکمل کرنے‘‘کے لیے ایک ’’آپریشنل موقع‘‘ سمجھتی ہے، جبکہ موساد کا ماننا ہے کہ ایک نئی جنگ ایرانی حکومت کے خاتمے کو تیز کر سکتی ہے۔بعد ازاںاس اہلکار نے مزید بتایا کہ اسرائیلی لیڈروں نے اس بات کا خیال رکھا کہ وہ گھبرائے ہوئے نظر نہ آئیں یا یہ تاثر نہ دیں کہ وہ فوجی کشیدگی پر امریکہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔واضح رہے کہ اس ہفتے کے شروع میں، ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے تعلق سے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گفتگو بہت اچھی رہی ہے اور جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن کو جنگ ختم کرنے کے لیے امریکی تجویز پر ایران کا جواب بہت جلد ملنے کی توقع ہے۔
یاد رہے کہ خطے میں کشیدگی اس وقت شدت سے بڑھ گئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں ایران نے اسرائیل اور خلیج میں امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائی کی اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا۔بعد ازاں پاکستانی ثالثی کے ذریعے ۸؍ اپریل کو جنگ بندی نافذ ہوئی، تاہم اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کوئی مستقل معاہدہ کرنے میں ناکام رہے۔جبکہ ٹرمپ نے بعد میں جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا لیکن کوئی حد بندی مقرر نہیں کی۔ساتھ ہی امریکہ نے۱۳؍ اپریل سے آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری آمد ورفت کو نشانہ بناتے ہوئے بحری ناکہ بندی برقرار رکھی ہے۔