آل انڈیا کانگریس پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی منہ بھرائی کا الزام ہمیشہ لگتا رہا ہے۔ مگر منہ بھرائی ہوئی کہاں؟ ہوتی تو الزام ہضم بھی ہوجاتا۔ کانگریس نے اپنے اقتدار کے کسی دور میں اقلیت نوازی یا مسلم نوازی نہیں کی بلکہ منہ بھرائی کے الزام سے بچنے کیلئے اُن کے جائز مطالبات کو بھی نظر انداز کیا۔
کانگریس پارٹی۔ تصویر:آئی این این
آل انڈیا کانگریس پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی منہ بھرائی کا الزام ہمیشہ لگتا رہا ہے۔ مگر منہ بھرائی ہوئی کہاں؟ ہوتی تو الزام ہضم بھی ہوجاتا۔ کانگریس نے اپنے اقتدار کے کسی دور میں اقلیت نوازی یا مسلم نوازی نہیں کی بلکہ منہ بھرائی کے الزام سے بچنے کیلئے اُن کے جائز مطالبات کو بھی نظر انداز کیا۔ اکا دکا یا چند ایک مطالبات اور اقدامات کو استثنیٰ سمجھئے۔ طویل عرصے تک مرکز اور ریاستوں میں برسراقتدار رہنے کے باوجود اس نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو ووٹ بینک سمجھا اور گویا ان کا استحصال کیا، نتیجتاً اُن کی حالت اور حالات میں کوئی فرق نہیں آیا۔ راجندر سچر کمیٹی کی رپورٹ اس کا ناقابل انکار دستاویزی ثبوت ہے۔
۲۰۱۴ء کے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کی بدترین شکست کے بعد پارٹی کے ارباب اقتدار نے شکست کے اسباب جاننے کی غرض سے اے کے انٹونی کمیٹی بنائی تھی جس نے اپنی رپورٹ میں دیگر باتوں کے علاوہ یہ لکھا تھا کہ رائے دہندگان کی بڑی تعداد کانگریس کو مسلم نواز پارٹی سمجھتی ہے۔ اس گمراہ کن انکشاف کے بعد پارٹی غیر ضروری طور پر محتاط ہوگئی اور اس نے مسلمانوںسے خود کو دور کرنا شروع کردیا۔ مسلم مخالف احتیاط اس حد تک بڑھی کہ پارٹی نے مسلم مجاہدین آزادی کا نام لینا ترک کردیا، اُن کی خدمات سے پہلو تہی کرنے لگی اور ملک کی آبادی کے مختلف حصوں کا نام لیتے وقت مسلم لفظ کے استعمال سے بھی بچنے لگی۔ نصابی کتابوں میں ہونے والی دھاندلی پر بھی خاموش رہی۔ اس سے مسلمان دل برداشتہ ہوئے مگر حکمت اور مصلحت کے تحت خاموش رہے۔ نہ تو شکایت کی نہ ہی بددل ہوئے۔
منہ بھرائی کے ہم بھی قائل نہیں ہیں مگر جائز مطالبات پر تو غو ر کیا ہی جانا چاہئے اور جب اُن پر کوئی مصیبت آتی ہے تو اُن کے ساتھ کھڑا رہنا چاہئے مگر کانگریس بچتی ہی رہی اور یہ بھول گئی کہ جنگ آزادی میں مسلمانوں کے کردار کی پوری تاریخ ہے۔ کانگریس پارٹی کیلئے بھی مسلمانوں کی خدمات کچھ کم نہیں ہیں۔ اسی میں اُردو کو بھی شامل کرلیجئے جو صرف مسلمانوں کی زبان نہیں ہے مگر کانگریس کے دور ہی میں اسے مسلمانوں کی زبان بنا دیا گیا تھا۔ اس طرح پارٹی نے نہ صرف مسلمانوں سے دوری اختیار کی بلکہ اُردو زبان کے ساتھ بھی مجرمانہ احتیاط کا مظاہرہ کیا جبکہ پارٹی کے کلیدی لیڈروں میں، جنہوں نے جدوجہد ِآزادی کے دوران اور اس کے بعد ملک کی تعمیر و تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا، اُردو دانوں اور اُردو نوازوں کی خاصی تعداد موجود تھی حتیٰ کہ گاندھی اور جواہر بھی اُردو کے پرستار تھے۔
مگر اب ایسا لگتا ہے کہ کانگریس نے جان لیا ہے کہ اُس نے اے کے انٹونی رپورٹ سے گمراہ ہوکر ملک کے ہر فرقے اور طبقے کا ساتھ دینے کے نظریہ کو بالائے طاق رکھ دیا تھا۔ ہرچند کہ بیانات اور تقریروں میں لفظ ’’مسلم‘‘ اب بھی شاذ و نادر ہی آتا ہے مگر احتیاط کچھ کم ہوئی ہے۔ اس سلسلے کا تازہ اور خوشگوار واقعہ راہل گاندھی کا اُس نوجوان (محمد دیپک) سے ملاقات کرناہے جس نے چند روز پہلے اُتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں ایک مسلم دکاندار کا جرأتمندانہ دفاع کیا تھا۔ راہل گاندھی نے ’’محمد دیپک‘‘ کے اقدام کی پزیرائی کے ذریعہ سیکولر نظریات کی طرف کانگریس کی ’’گھر واپسی‘‘ کا اشارہ دیا ہے۔بھارت جوڑو یاترا کے دوران اُنہوں نے نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کا نعرہ لگایا تھا، اب اُس جانب قدم بڑھایا ہے ۔