Inquilab Logo Happiest Places to Work

چھٹیاں اور کرنے کے کام

Updated: April 19, 2026, 2:38 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

چھٹیوں میں بچوں کو مسلسل گھر میں دیکھ کر والدین کبھی کبھی پریشان ہوجاتے ہیں ، زیادہ نہیں تو تھوڑا بہت ضرور ہوتے ہیں ۔ چھوٹے بچوں کی مائیں تو کہہ بھی دیتی ہیں جس کا مفہوم کچھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ ’’جلدی سے اسکول کھل جائیں تو کسی حد تک سکون ملے‘‘۔

INN
آئی این این
چھٹیوں  میں  بچوں  کو مسلسل گھر میں  دیکھ کر والدین کبھی کبھی پریشان ہوجاتے ہیں ، زیادہ نہیں  تو تھوڑا بہت ضرور ہوتے ہیں ۔ چھوٹے بچوں  کی مائیں  تو کہہ بھی دیتی ہیں  جس کا مفہوم کچھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ ’’جلدی سے اسکول کھل جائیں  تو کسی حد تک سکون ملے‘‘۔ چھٹیوں  میں  والدین دراصل بچوں  کو ’’کچھ نہ کرتا‘‘ دیکھ کر پریشان ہوتے ہیں  جبکہ ماضی میں  اُنہیں  ’’کچھ نہ کچھ کرتا‘‘ دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ ماضی کے بچوں  کی سرگرمیوں  میں  کھیل کو تو تھا ہی، وہ کچھ نہ کچھ جوڑنے، بنانے، تیار کرنے اور اس عمل سے سیکھنے میں  بھی مصروف رہتے تھے۔ بعض اوقات، اگر والدینکچھ کررہے ہوتے تھے تو وہ اُنہیں  بھی اپنے ساتھ لے لیتے تھے تاکہ وہ اُن کا ہاتھ بھی بٹائیں  اور سیکھیں  بھی۔اب بچوں  کو جوڑنے، بنانے، تیار کرنے اور سیکھنے سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ۔ والدین بھی اُنہیں  شامل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں  کرتے۔ اس لئے چھٹیوں  میں  بچے بالکل چھٹی پر ہوتے ہیں  اور اس دوران نہ تو کچھ کرتے ہیں  نہ کچھ سیکھتے ہیں ۔ یہ بات ہم اپنی طرف سے نہیں  کہہ رہے ہیں  بلکہ کئی والدین سے گفتگو کے دوران اِس کا انکشاف ہوا۔ تو پھر وہ کیا کرتے ہیں ؟ اس سوال کے جواب میں  اُن کا کہنا تھا کہ موبائل پر گیم کھیلتے ہیں ۔ آپ اُنہیں  اجازت کیوں  دیتے ہیں ؟ جواب تھا: تو کیا وہ مان جائیں  گے؟ 
مسئلہ تو ہے مگر حل تلاش کرنے کی کوشش کون کرتا ہے؟ شاید ہی کوئی کرتا ہو۔ بچوں  کو مصروف کیا جانا چاہئے، کوئی سرگرمی دینی چاہئے۔مثلاً: اُن سے کہا جاسکتا ہے کہ آئندہ ماہ میں  شادیاں  بہت ہوں  گی۔ ہم تمہیں  کاغذ لا دیتے ہیں ، تم اُنہیں  کاٹ کر لفافہ بناؤ اور اُس پر نہایت خوبصورتی سے نام لکھو تاکہ جب ہم شادیوں  میں  جائیں  تو باہر سے لفافہ نہ خریدنا پڑے اور ہم گھر کا بنا ہوا اسپیشل کوالیٹی کا یونیک لفافہ شادی میں  دیں ، ایسا کرنا ہمیں  بھی اچھا لگے گا اور شادی والوں  کو بھی۔ مگر کیا کوئی ایسا کرتا ہے؟ ہمیں  تو لگتا ہے کہ یہ آئیڈیا ہی اُنہیں  دو کوڑی کا معلوم ہوگا۔ 
گھر میں  کوئی درستی یا مرمت کا کام ہو اُس میں  بھی بچوں  کو چھوٹی چھوٹی سی ذمہ داری دی جاسکتی ہے تاکہ کام بھی آسان ہو اور اُن کا سیکھنے کا عمل بھی جاری رہے۔ اس کا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ جب وہ بڑے ہوں  گے تو گھر کے چھوٹے چھوٹے کاموں  سے اُن کی دلچسپی برقرار رہے گی اور وہ ان کاموں  پر مزدور لگانے سے گریز کرینگے۔ 
اب مائیں  بچیوں  کو مسالہ پیسنے، روٹی بیلنے، چاول چننے، آٹا چھاننے، برتن دھونے، وغیرہ کیلئے آواز نہیں  دیتیں ۔ اگر خادمہ ہو تب بھی اُنہیں  ایسے کاموں  کی مشق کروانی چاہئے۔ ہم تو کہتے ہیں  اِنہیں  صرف لڑکیوں  کا کام نہ سمجھا جائے بلکہ اس میں  لڑکوں  کو بھی شامل کیا جائے۔ گھر کے کام کی ذمہ داری سب کی ہوتی ہے۔ 
چھٹیوں  میں  مدرسہ پڑھانے والے مولویوں  کی قلت ہونی چاہئے۔ یہ تب ہوگا جب ہر خاندان یہ محسوس کریگا کہ مولوی صاحب کو مہینہ پندرہ دن کیلئے زحمت دیں  گے تاکہ وہ بچوں  کی قرأت کا جائزہ لیں  کہ مخرج درست ہے یا نہیں  اور اس کے ساتھ ہی اُن کی نماز کو بھی سمجھ لیں  کہ وہ نماز میں  کوئی غلطی تو نہیں  کرتے۔مگر افسوس کہ مولویوں  کو کوئی پوچھتا نہیں  ہے اور اکثر لو گ یہ جانتے بھی نہ ہوں  گے کہ اُن کے بچوں  کا مخرج اور نماز درست ہے یا نہیں ۔ شکایت کرنا کہ بچے موبائل میں  گھسے رہتے ہیں  اس لئے بے معنی ہے کہ والدین بچوں  کو انگیج نہیں  کرتے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK