دہی (Curd) اور یوگٹ (Yogurt) دونوں ہی دودھ سے بننے والی خمیر شدہ غذائیں ہیں جو اپنی بے شمار صحت بخش خصوصیات کے باعث دنیا بھر میں مقبول ہیں۔
EPAPER
Updated: April 20, 2026, 4:17 PM IST | Odhani Desk | Mumbai
دہی (Curd) اور یوگٹ (Yogurt) دونوں ہی دودھ سے بننے والی خمیر شدہ غذائیں ہیں جو اپنی بے شمار صحت بخش خصوصیات کے باعث دنیا بھر میں مقبول ہیں۔
دہی (Curd) اور یوگٹ (Yogurt) دونوں ہی دودھ سے بننے والی خمیر شدہ غذائیں ہیں جو اپنی بے شمار صحت بخش خصوصیات کے باعث دنیا بھر میں مقبول ہیں۔ خاص طور پر نظام ِ ہاضمہ (گٹ ہیلتھ) کو بہتر بنانے میں ان کا کردار نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ ان دونوں میں موجود پروبائیوٹکس (Probiotics) یعنی مفید بیکٹیریا انسانی جسم میں آنتوں کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں، ہاضمہ بہتر بناتے ہیں، غذائی اجزاء کے انجذاب کو بڑھاتے ہیں اور مدافعتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں۔ اگرچہ عام گفتگو میں دہی اور یوگٹ کو ایک ہی سمجھ لیا جاتا ہے، مگر حقیقت میں ان دونوں کے درمیان کئی اہم فرق موجود ہیں خاص طور پر بیکٹیریا کی اقسام، بنانے کے طریقے اور غذائی خصوصیات کے حوالے سے۔
یہ بھی پڑھئے: بالوں کی افزائش سے لے کر ان کی مجموعی صحت تک اِن کی چوٹی بنانا مفید
دہی کیا ہے؟
دہی برصغیر (خاص طور پر ہندوستان اور پاکستان) میں صدیوں سے استعمال ہونے والی ایک روایتی غذا ہے۔ اسے عام طور پر گھر میں بنایا جاتا ہے۔ اس کے لئے اُبلے ہوئے دودھ کو نیم گرم کرکے اس میں تھوڑی سی پرانی دہی شامل کی جاتی ہے، اور پھر اسے گرم جگہ پر ۶؍ سے ۸؍ گھنٹے کے لئے رکھ دیا جاتا ہے۔ دہی کی خاص بات اس کا قدرتی خمیر ہے جو ماحول اور استعمال شدہ بیکٹیریا کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر گھر کی دہی کا ذائقہ، گاڑھا پن اور غذائی خصوصیات تھوڑی مختلف ہوسکتی ہیں۔
یوگٹ کیا ہے؟
یوگٹ ایک سائنسی اور کنٹرولڈ طریقے سے تیار کیا جانے والا دودھ کا خمیر شدہ پروڈکٹ ہے۔ اسے خاص بیکٹیریا (اسٹارٹر کلچرز) کے ذریعے ایک مخصوص درجۂ حرارت پر تیار کیا جاتا ہے تاکہ ایک جیسا ذائقہ اور ساخت حاصل ہو۔ بازار میں ملنے والا یوگٹ عموماً اسموتھ، یکساں اور بعض اوقات ذائقہ دار (فلیورڈ) ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: موجودہ دور میں سادہ طرزِ زندگی اپنانا کیوں ضروری؟
دہی اور یوگٹ میں فرق
بیکٹیریا کا فرق یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو دہی اور یوگٹ کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے۔ یوگٹ میں مخصوص اور انڈسٹری کے لحاظ سے معیاری بیکٹیریا استعمال ہوتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا کنٹرولڈ ماحول میں افزائش پاتے ہیں، جس سے یوگٹ میں پروبائیوٹکس کی مقدار زیادہ مستحکم اور یکساں ہوتی ہے۔ دہی میں قدرتی طور پر موجود لیکٹو بائی کیلس اقسام کے بیکٹیریا استعمال ہوتے ہیں، جو ہر گھر میں مختلف ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہی میں بیکٹیریا کی اقسام زیادہ متنوع ہوسکتی ہیں، جو بعض اوقات اسے زیادہ فائدہ مند بھی بنا دیتی ہیں۔ بنانے کے طریقے میں فرق سے بھی یہ دونوں الگ ہوتے ہیں۔ دہی کو بنانے کیلئے دودھ کو ابال کر تھوڑا ٹھنڈا کیا جاتا ہے اور پھراس میں تھوڑی سی پرانی دہی شامل کی جاتی ہے جبکہ یوگٹ کو بنانے کیلئے دودھ کو ’’پاسچرائز‘‘ کیا جاتا ہے اور اس میں مخصوص بیکٹیریا شامل کئے جاتے ہیں اور پھر ایک خاص درجۂ حرارت پر خمیرآنے کیلئے رکھ دیا جاتا ہے۔ یہ کنٹرولڈ عمل یوگٹ کو زیادہ اسموتھ بناتا ہے جبکہ دہی زیادہ قدرتی انداز میں بنتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شدید گرمی اور صحت: یہ تدابیر اپنائی جاسکتی ہیں
صحت کے لحاظ سے کون بہتر ہے؟
یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے، مگر اس کا جواب مکمل طور پر آپ کی ضرورت پر منحصر ہے۔ ہاضمے کیلئے لحاظ سے دہی بہتر سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس میں قدرتی اور مختلف اقسام کے بیکٹیریا ہوتے ہیں جو خوراک کو بہتر طریقے سے ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ پروٹین کیلئے یوگٹ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ خاص طور پر گریک یوگٹ زیادہ پروٹین فراہم کرتا ہے کیونکہ یہ زیادہ گاڑھا ہوتا ہے۔ لیکٹوز عدم برداشت والوں کیلئے یوگٹ زیادہ موزوں ہے کیونکہ اس کے مخصوص بیکٹیریا دودھ کی شکر کو بہتر طریقے سے توڑتے ہیں۔ روزمرہ استعمال کے لحاظ سے دہی ایک سستا، قدرتی اور آسان آپشن ہے، خاص طور پر جنوبی ایشیائی گھروں میں۔ سہولت اور ذائقہ کے لحاظ سے یوگٹ مختلف فلیورز میں آتا ہے جو بچوں اور نوجوانوں کیلئے زیادہ پسندیدہ ہوسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دہی اور یوگٹ دونوں ہی صحت کیلئے مفید ہیں، خاص طور پر آنتوں کی صحت کیلئے۔ اگر آپ قدرتی، گھریلو اور روایتی غذا کو ترجیح دیتے ہیں تو دہی بہترین انتخاب ہے۔ اگر آپ زیادہ پروٹین یا آسانی چاہتے ہیں تو یوگٹ بہتر ہے۔