مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے درمیان حکومت اب فلیکس فیول گاڑیوں (ایف ایف وی) کو فروغ دینے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہی ہے۔
EPAPER
Updated: April 20, 2026, 4:01 PM IST | New Delhi
مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے درمیان حکومت اب فلیکس فیول گاڑیوں (ایف ایف وی) کو فروغ دینے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے درمیان حکومت اب فلیکس فیول گاڑیوں (ایف ایف وی) کو فروغ دینے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت کا مقصد ٹرانسپورٹ سیکٹر میں ایتھنول کے استعمال کو بڑھانا اور تیل کی درآمد پر انحصار کم کرنا ہے۔
معتبر ذرائع کے مطابق پیٹرولیم و قدرتی گیس کی وزارت (ایم او پی این جی) اس معاملے پر ایک اہم میٹنگ کرنے جا رہی ہے، جس میں ہندوستان میں ایف ایف وی کو اپنانے کے لیے روڈ میپ تیار کیا جائے گا۔پیٹرولیم و قدرتی گیس کی وزارت کے ایڈیشنل سیکریٹری کی صدارت میں ہونے والی اس میٹنگ میں انڈین آئل، بھارت پیٹرولیم اور ہندوستان پیٹرولیم جیسی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی)، آٹوموبائل کمپنیوں اور دیگر متعلقہ فریقین کے نمائندے شامل ہوں گے۔
میٹنگ میں موجودہ قواعد سے آگے بڑھ کر ایندھن میں ایتھنول کی ملاوٹ (بلینڈنگ) بڑھانے کے لیے ضروری پالیسیوں پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔اس وقت ہندوستان میں ای ۲۰؍ پروگرام نافذ ہے، جس کے تحت پیٹرول میں ۲۰؍ فیصد ایتھنول ملایا جاتا ہے۔ اب حکومت ایسے فلیکس فیول گاڑیوں کو فروغ دینے پر غور کر رہی ہے جو ۸۵؍ فیصد تک ایتھنول کے مرکب پر بھی چل سکیں۔
حکومت کا یہ قدم توانائی کی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے، کیونکہ ہندوستان اپنی ضرورت کا۸۵؍ فیصد سے زیادہ خام تیل درآمد کرتا ہے۔ ایسی صورتحال میں عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا براہِ راست اثر ملک کی معیشت پر پڑتا ہے۔اسی دوران حکومت نے پیٹرول میں ۲۰؍ فیصد ایتھنول ملاوٹ کا ہدف پہلے ۲۰۳۰ء تک مقرر کیا تھا، جسے اب آگے بڑھا کر ۲۶۔۲۰۲۵ءکر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:پنجاب کنگزلکھنؤ سپر جائنٹس کو شکست دے کر پوائنٹس ٹیبل میں سرفہرست
حکومت ایتھنول بلینڈڈ پیٹرول (ای بی پی) پروگرام کے تحت پیٹرول میں ایتھنول ملا کر فروخت کو فروغ دے رہی ہے، جس میں سرکاری تیل کمپنیاں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ایتھنول کی پیداوار بڑھانے کے لیے حکومت نے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں خام مال (فیڈ اسٹاک) کے دائرہ کار کو بڑھانا اور ایتھنول پلانٹس کے اطراف مکئی کی پیداوار بڑھانے کے لیے کلسٹر تیار کرنا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اکشے پہلے’’کھلاڑی کمار‘‘ پھر بنے کامیڈی کے کنگ
اس کے علاوہ، حکومت نے فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) کے اضافی چاول میں سے ۵۲؍ لاکھ میٹرک ٹن چاول ایتھنول کی پیداوار کے لیے دینے کی منظوری دی ہے۔ ساتھ ہی ۲۵۔۲۰۲۴ء کے لیے ۴۰؍ لاکھ میٹرک ٹن چینی کو بھی ایتھنول کی پیداوار کے لیے مختص کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ایتھنول کی پیداوار اور سپلائی کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے ایتھنول بلینڈڈ پیٹرول (ای بی پی) پروگرام کے تحت ایتھنول کی خریداری کے لیے مقررہ قیمت نافذ کی ہے اور ایتھنول پر جی ایس ٹی کی شرح کو کم کر کے ۵؍ فیصد کر دیا ہے۔