خواتین ریزرویشن بل ستمبر ۲۰۲۳ء میں منظور کیا گیا تھا۔ اُس وقت یہ بھی طے ہوچکا تھا کہ اس کا نفاذ کب اور کیسے ہوگا۔ ساری باتیں شفافیت کے ساتھ ترمیمی بل میں موجود ہیں جو ایکٹ بن چکا ہے۔
پارلیمنٹ ۔ تصویر:آئی این این
خواتین ریزرویشن بل ستمبر ۲۰۲۳ء میں منظور کیا گیا تھا۔ اُس وقت یہ بھی طے ہوچکا تھا کہ اس کا نفاذ کب اور کیسے ہوگا۔ ساری باتیں شفافیت کے ساتھ ترمیمی بل میں موجود ہیں جو ایکٹ بن چکا ہے۔ اس کے باوجود حکومت کا نہایت عجلت میں ایک نیا بل لے کر آنا اور یہ تاثر دینا کہ وہ خواتین ریزرویشن کے سلسلے میں بہت سنجیدہ ہے، موجودہ حکومت کے طرز عمل کا ایک اور ثبوت ہے جو کسی معاملے میں اچانک دلچسپی لے کر اُسے اتنا اہم بنا دیتی ہے گویا دوسرے سارے کام غیر اہم ہیں اور یہی ایک معاملہ فوری توجہ کا مستحق ہے۔
اس نئے بل کیلئے خصوصی اجلاس کا طلب کیا جانا ، جو آج سے شروع ہورہا ہے، افسوسناک ضرور ہے مگر حیرت انگیز نہیں ہے۔ یہ بل بجٹ سیشن میں نہیں لایا گیا اور اس کیلئے آئندہ اجلاس کا انتظار بھی نہیں کیا گیا۔ کیوں؟ تاکہ بل کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو۔ اس بل کی منظوری کیلئے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس ایسے وقت میں بلایا گیا ہے جب تین ریاستوں کے انتخابات کا عمل جاری ہے جسے ۴؍ مئی کو مکمل ہونا ہے۔ اول تو یہ عجلت سمجھ میں نہیں آتی، دوئم یہ کہ پارلیمانی حلقوں کی نئی حد بندی کو خواتین ریزرویشن بل سے جوڑ کر پیش کرنا یہ سمجھاتا ہے کہ حکمراں جماعت ایک تیر سے کئی شکار کرنا چاہتی ہے۔ اس کا مقصد عوام بالخصوص مغربی بنگال، جہاں ابھی پولنگ ہونی ہے، کے رائے دہندگان کو یہ سمجھانا ہے کہ موجودہ حکومت کے نزدیک خواتین کی نمائندگی کا معاملہ اس قدر اہم ہے کہ وہ اس کے نفاذ کیلئے مزید انتظار نہیں کرنا چاہتی جیسا کہ طے کیا گیا تھا۔ دو سرا مقصد ممکن ہے یہ ہو کہ ملک کی توجہ تین ریاستوں کے انتخابات سے ہٹ کر زیر بحث بل پر مرکوز ہوجائے۔ تیسرا مقصد عالمی حالات کی طرف سے توجہ ہٹانا بھی ہوسکتا ہے جس میں ہمارا جتنا کردار ہونا چاہئے تھا، عملاً نہیں ہے۔ چوتھا مقصد آئندہ پارلیمانی انتخابات سے قبل کوئی ایسا جوڑ توڑ کرنا ہوسکتا ہے جس سے حکمراں جماعت کو مسابقت کا موقع ملے۔
نئے حد بندی قانون کے ذریعہ پارلیمانی نشستوں کی تعداد ۵۴۳؍ سے بڑھا کر کم و بیش ۸۵۰؍ کرنے کی تجویز ہے۔ اِس موضوع کیلئے ملک کی تمام ریاستوں اور سیاسی جماعتوں کو بل کے مطالعہ کا بھرپور وقت ملنا چاہئے تھا جو اس طرح آناً فاناً پارلیمانی اجلاس طلب کئے جانے سے نہیں مل رہا ہے۔ اگر آبادی کے حساب سے ریاستوں کے پارلیمانی حلقوں کی ازسرنو تشکیل ہونی ہے تو جنوبی ہند کی ریاستوں کی آبادی کم ہے اور شمالی ہند کی ریاستوں کی آبادی زیادہ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنوبی ریاستوں کو اضافی سیٹیں اُتنی نہیں ملیں گی جتنی شمالی ہند کی ریاستو ںکو ملیں گی۔ بعض ماہرین کے مطابق فی الحال شمالی ہند کی ریاستوں کی مجموعی نشستیں ۲۰۷؍ ہیں جو بڑھ کر ۳۶۶؍ ہوسکتی ہیں جبکہ جنوبی ریاستوں کی مجموعی نشستیں ۱۳۲؍ ہیں جو بڑھ کر ۱۷۶؍ ہوسکتی ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ جنوبی ہند کے حصے میں آنے والی نشستیں شمالی ہند کو ملنے والی نشستو ں سے فیصد کے اعتبار سے کم ہوں گی۔ کیا یہ ناانصافی اسلئے ہوگی کہ جنوبی ریاستوں کی آبادی کم ہے؟ کیا آبادی کا اضافہ روکنے کی کوشش گناہ ہے جس کا ارتکاب ان ریاستوں نے کیا ہے؟
اس پس منظر میں اپوزیشن کا یہ موقف درست ہے کہ خواتین ریزرویشن پر حکومت کو تعاون دیا جائیگا مگر نئی حدبندی کے معاملے میں مخالفت کی جائیگی۔