ایران جنگ اوراس کی وجہ سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا اثر، روزمرہ کی اشیائےضروریہ کی مہنگائی کی شرح بڑھ کر ۶ء۳۶؍ ہوگئی ۔
مارچ میں تھوک قیمتوں کے اشاریہ(ڈبلیو پی آئی) پر مبنی مہنگائی مسلسل پانچویں مہینے بڑھی ہے۔تصویر:آئی این این
ایران جنگ اوراس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں تناؤ کے نتیجے میں مارچ ۲۶ء میں تھوک قیمتوں پر مبنی مہنگائی کی شرح ۳ء۸۸؍ فیصد ہوگئی جو ۳۸؍مہینوں کی بلند ترین سطح ہے۔ اس کی بنیادی وجہ مغربی ایشیا کے بحران کے درمیان ایندھن، بجلی اور تیار شدہ اشیا کی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والا اضافہ ہے۔
بدھ کووزارت تجارت و صنعت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں تھوک قیمتوں کے اشاریہ(ڈبلیو پی آئی) پر مبنی مہنگائی مسلسل پانچویں مہینے بڑھی کیونکہ اس وقفہ میں کھانے پینے کی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں نرمی کے درمیان افراد زر کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ۔
گزشتہ سال مارچ میں تھوک مہنگائی کی شرح ۲ء۲۵؍ فیصد تھی جبکہ اس سال فروری میں یہ۲ء۱۳ فیصد رہی ۔ وزارت تجارت و صنعت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں خام تیل کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر۵۱ء۵۷؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ خام تیل میں زبردست اضافہ کی بنا پر بنیادی اشیاء کے زمرے میں تھوک مہنگائی کی شرح ۶ء۳۶؍ فیصد ریکارڈ کی گئی۔ تھوک مہنگائی میں سب سے زیادہ۶۴؍ فیصد حصہ رکھنے والے تیار شدہ مصنوعات کے زمرہ میں بھی مہنگائی ایک سال پہلے کے۳ء۲۱؍فیصد سے بڑھ کر ۳ء۳۹؍ فیصد ہو گئی ہے۔
تلہن کی تھوک قیمتیں بھی سالانہ بنیاد پر ۲۲ء۸۱؍ فیصد بڑھیں، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب۲ء۵۰؍ فیصد اور۳ء۲۶؍ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایل پی جی کی تھوک قیمت ایک سال پہلے کے مقابلے میں۱ء۵۴؍ فیصد کم رہی۔ خوراک کی اشیاء میں اناج کی قیمتوں میں ۲ء۵۱؍ فیصد کمی آئی ہے۔ سبزیوں کی مہنگائی ۱ء۴۵؍ فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ پھلوں کی قیمتیں ۲ء۱۱؍ فیصد اور دودھ کی قیمتیں۲ء۶۲؍ فیصد بڑھی ہیں۔ انڈا، گوشت اور مچھلی کی مہنگائی کی شرح ۶ء۶۳؍ فیصد رہی۔
۲۸؍ فروری کو ایران پر امریکہ اوراسرائیل کے حملے کے بعد شروع ہونےوالے مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی سطح پر کچے تیل کی قیمتوں میں تیز اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس بحران سے پہلے عالمی بازار میں کچے تیل کی قیمت تقریباً۷۰؍ ڈالر فی بیرل تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہو گئی ہے۔ اس کا اثر ملک میں تھوک مہنگائی پر بھی پڑا ہے۔ مرکزی وزارت برائے صنعت وتجارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ مارچ۲۶ء میں مہنگائی کی مثبت شرح بنیادی طور پر خام تیل ،گیس، دیگر مینوفیکچرنگ، غیر غذائی اشیا، بنیادی دھاتوں کی تیاری اور غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہے۔‘‘