Updated: April 16, 2026, 12:02 PM IST
| Washington
امریکی سینیٹ نے ایران پر مزید حملوں کے لیے کانگریس کی پیشگی اجازت سے متعلق قرارداد کو مسترد کر دیا ہے۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینیٹ میں یہ قرارداد ۴۷؍ کے مقابلے ۵۲؍ ووٹوں سے مسترد کی گئی، جس سے حکومت کو مزید فوجی کارروائیوں کے لیے پیشگی منظوری لینے کی شرط عائد نہ ہو سکی۔
وہائٹ ہاؤس۔ تصویر:آئی این این
امریکی سینیٹ نے ایران پر مزید حملوں کے لیے کانگریس کی پیشگی اجازت سے متعلق قرارداد کو مسترد کر دیا ہے۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینیٹ میں یہ قرارداد ۴۷؍ کے مقابلے ۵۲؍ ووٹوں سے مسترد کی گئی، جس سے حکومت کو مزید فوجی کارروائیوں کے لیے پیشگی منظوری لینے کی شرط عائد نہ ہو سکی۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور سفارتی سرگرمیاں دونوں جاری ہیں۔اس سے قبل ایک امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے اور ایران شدت سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ دو دنوں میں ایک حیران کن پیش رفت دیکھنے کو مل سکتی ہے اور امریکہ کی اولین ترجیح معاہدہ کرنا ہے۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے حالیہ حملوں نے خلیجی ممالک کو شدید دھچکا پہنچایا کیونکہ انہیں اس نوعیت کی کارروائی کی توقع نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھئے:مذاکرات کے باوجود اسرائیل کے لبنان پر حملے
باقر قالیباف کا امریکہ سے مطالبہ، لبنان جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ لبنان سمیت جاری جنگ بندی کے معاہدے کی مکمل پابندی کو یقینی بنایا جائے۔ محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ لبنان میں جامع جنگ بندی کی کامیابی بنیادی طور پر حزب اللہ کی مسلسل جدوجہد پر منحصر ہے، جو ایران کی حمایت یافتہ ایک اہم تنظیم ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اکشے پہلے’’کھلاڑی کمار‘‘ پھر بنے کامیڈی کے کنگ
انہوں نے کہا کہ ایران اور اس کے زیر اثر محورِ مزاحمت، جس میں حماس، یمن کے حوثی اور عراقی شیعہ ملیشیائیں شامل ہیں، ہر حال میں متحد ہیں اور ایک ہی نظریاتی سمت رکھتے ہیں، چاہے وہ میدان جنگ ہو یا امن معاہدہ۔ قالیباف نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسرائیل فرسٹ‘‘ پالیسی سے پیچھے ہٹنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ خطے میں حقیقی اور پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں امریکہ کا کردار نہایت اہم ہے اور اسے جنگ بندی معاہدوں پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔