Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کی ’’دیر تک اور دور تک‘‘ کی پالیسی

Updated: March 05, 2026, 10:43 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

جنگ ۲۸؍ فروری کو شروع ہوئی اور آج اس کا محض چھٹا دن ہے مگر ایسا لگ رہا ہے کہ جنگ کئی ہفتوں سے جاری ہے۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے اس کی خوفناکی بڑھ رہی ہے۔ اب تک کے چند دنوں میں ایران نے اسرائیل کے مختلف شہروں میں جو صورت حال پیدا کی اور اُس سے زیادہ خلیجی ملکوں میں جس طرح امریکی مفادات کو نشانہ بنایا اُس کاٹرمپ اور نیتن یاہو کو گمان تک نہ رہا ہوگا۔

Iran War.Photo:PTI
ایران جنگ۔ تصویر:پی ٹی آئی
جنگ ۲۸؍ فروری کو شروع ہوئی اور آج اس کا محض چھٹا دن ہے مگر ایسا لگ رہا ہے کہ جنگ کئی ہفتوں سے جاری ہے۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے اس کی خوفناکی بڑھ رہی ہے۔ اب تک کے چند دنوں میں ایران نے اسرائیل کے مختلف شہروں میں جو صورت حال پیدا کی اور اُس سے زیادہ خلیجی ملکوں میں جس طرح امریکی مفادات کو نشانہ بنایا اُس کاٹرمپ اور نیتن یاہو کو گمان تک نہ رہا ہوگا حالانکہ اسرائیل اور امریکہ نے اس کی ایک جھلک جون ۲۵ء کی بارہ روزہ جنگ میں دیکھ لی تھی مگر کوئی سبق نہیں لیا۔ گزشتہ چند دنوں میں بلاشبہ، ایران کا بھی نقصان ہوا ہے۔ سب سے بڑا نقصان تو امام آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت ہی ہے۔ دوسرا بڑا نقصان ایرانی شہر میناب کے اسکول برائے طالبات پر میزائل حملہ ہے جس میں متوفی طالبات کی تعداد ۱۵۳؍ تک پہنچ چکی ہے۔ علاوہ ازیں اب تک ایران کے کم و بیش ۵۵۰؍ شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔ املاک کا جو نقصان ہورہا ہے وہ الگ ہے۔ ٹرمپ نے چار ہفتوں کا دعویٰ کیا اور یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اسرائیل کی مدد کیلئے چھیڑی گئی جنگ ’’میعاد بند‘‘ ہے مگر ایران کی غیر معمولی جرأت کے پیش نظر ممکن ہے کہ اسرائیل و امریکہ کو زیادہ عرصہ تک جنگ لڑنی پڑے۔
گمان غالب ہے کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ نے سوچا ہوگا کہ ایران جوابی کارروائی میں جن ملکوں پر حملے کریگا ان کو اپنے تحفظ کی فکر ستائے گی اور وہ ایران سے بد دِل ہوں گے اور لامحالہ نمٹنا چاہیں گے، اس طرح جنگ کا رُخ پلٹ جائیگا اور خلیجی ممالک آپس میں لڑنے لگیں گے۔ یہ نہیں کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے مگر اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ خلیجی ممالک کا یہ ایقان ہے، جس کا اظہار اُنہوں نے بھلے ہی کبھی نہ کیا ہو، کہ جب اسرائیل و امریکہ مشکل میں آئینگے اور اُن کے مفادات پر ضرب پڑیگی تو وہ تمام مراسم بھول جائینگے۔ خلیجی ملکوں سے یہ بھی چھپا ہوا نہیں ہے کہ نتین یاہو نے ٹرمپ کو جھانسے میں لیا اور جنگ میں کودنے پر آمادہ کیا ہے۔ خلیجی ممالک کو یہ بھی احساس ہے کہ خواہی نخواہی اُنہوں نے اپنے ملک میں امریکہ کو موقع دے کر بڑی مصیبت مول لی ہے۔ وہ کہیں گے نہیں مگر چاہیں گے ضرور کہ امریکہ پر اُن کا انحصار کم ہو۔ نیتن یاہو کے نزدیک ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا نام نہاد ہدف ضرور ہے مگر اُن کا فوری ہدف اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات ہیں۔ وہ جنگ جیت کر انتخابات جیتنا چاہتے ہیں تاکہ بدعنوانی کے سنگین الزامات پر جیل کی ہوا کھانے سے بچے رہیں۔ ٹرمپ کا مسئلہ الیکشن نہیں ہے کیونکہ وہ تیسری مرتبہ صدارتی الیکشن نہیں لڑ سکتے مگر امریکہ کو خلیجی ملکوں میں جتنا نقصان اُٹھانا پڑیگا اُن کے عوام اُتنا اُن کے خلاف ہونگے اور اُن سے سوال کرینگے کہ تم نے کسی جنگ میں نہ کودنے کا وعدہ کیا تھا پھر یہ کیوں کیا؟ 
اگر صرف اسرائیل، امریکہ اور ایران تو آپ کو آخر الذکر (ایران) حالت ِجنگ میں ہونے کے باوجود مطمئن دکھائی دیگا۔ اُسے جس جنگ میں دھکیلا گیا ہے اُس کی تیاری اُس نے بہت پہلے کرلی تھی۔ عوام کے بعض حلقوں میں جو بے چینی چند ماہ قبل تھی وہ خامنہ ای کی شہادت کی وجہ سے اتحاد میں بدل گئی ہے۔ خامنہ ای کے جانشین کا اعلان ہوچکا ہےاور محاذ جنگ سے روزانہ اُسے اچھی خبریں مل رہی ہیں۔وہ چاہے گا کہ جنگ دیر تک چلے اور اس کے اثرات دور تک پہنچیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK