Inquilab Logo Happiest Places to Work

آدھارکس مرض کی دوا ہے؟

Updated: May 16, 2026, 1:35 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

گزشتہ دنوں ملک میں ’آدھارکارڈ‘ جاری کرنےوالے ادارے ’یو آئی ڈی اے آئی‘ نےاپنا پرانا وضاحتی بیان ایک بار پھر جاری کیا۔ اس بیان کے مطابق ’’آدھار ایک درست شناختی ثبوت ضرور ہے، لیکن تاریخ پیدائش کا ثبوت نہیں ہے۔‘‘

INN
آئی این این
گزشتہ دنوں ملک میں  ’آدھارکارڈ‘ جاری کرنےوالے ادارے ’یو آئی ڈی اے آئی‘ نےاپنا پرانا وضاحتی بیان ایک بار پھر جاری کیا۔ اس بیان کے مطابق ’’آدھار ایک درست شناختی ثبوت ضرور ہے، لیکن تاریخ پیدائش کا ثبوت نہیں  ہے۔‘‘ سوال یہ ہے کہ اس وضاحت کی ضرورت بار بار کیوں  پیش آرہی ہے؟
آج سے ۱۷؍ سال قبل ۲۸؍ جنوری ۲۰۰۹ء کو اُس وقت کی مرکزی حکومت نےجب ملک کے سامنے ’آدھار‘ کو متعارف کرایا تھا تو اپوزیشن جماعتوں  کےساتھ ہی ملک کے مختلف شعبوں  اور تنظیموں  نے اس کی ’ضرورت‘ پر اعتراض کیا تھا اور اس کی اہمیت و افادیت اور اس کی حیثیت پر سوال اٹھایا تھا۔ اُس وقت اور بعد کے برسوں  میں  عوامی تشویش کے پیش نظر عدالتی، حکومتی اورانتظامی سطح پر بار بار یہ واضح کیا گیا کہ یہ لازمی نہیں  بلکہ اختیاری ہے۔لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ باقاعدہ اعلان کئے بغیر آدھار کارڈ کو ہر سطح پر لازمی بنا دیا گیا۔ صورتحال یہ ہے کہ اس کے بغیر اسکول میں  داخلہ نہیں  ملتا، طلبہ کو اسکالر شپ نہیں  ملتی، بینک میں  اکاؤنٹس نہیں  کھلتے، سرکاری راشن نہیں  ملتا، انکم سرٹیفکیٹ اور ڈومیسائل نہیں  بنتے، گھر کیلئے ایل پی جی کنکشن نہیں  ملتا، پاسپورٹ نہیں  بنتا، انکم ٹیکس ریٹرن داخل نہیں  ہوتا،الیکشن کارڈ نہیں  بنتا، پی ایف اکاؤنٹس کا ’کے وائی سی‘ نہیں  ہوتا، یہاں  تک کہ موبائل کا سم کارڈ تک نہیں  ملتا اور آدھار سے لنک کئے بغیر پین کارڈ بھی ’ویلڈ‘ نہیں  رہتا۔ 
اس کے لازمی ہونے ہی کا نتیجہ ہے کہ ملک میں  ہر خاص و عام کو اپنا آدھار کارڈ بنوانے پر مجبور ہونا پڑا۔ ایک رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ء کے اختتام تک ملک کی آبادی ۱۴۶؍ کروڑ تھی جبکہ تب تک ملک میں ۱۴۴؍ کروڑ آدھار جاری کئے جاچکے تھے جن میں  سے ۱۳۴؍ کروڑ آدھار فعال تھے۔اب ہرسطح پر اسے لازم کردینے کے بعد وقفے وقفے سے حکومت کو اس طرح کی وضاحت پیش کرنی پڑتی ہے کہ (۱) آدھار شہریت کا ثبوت نہیں  ہے (۲) آدھار تاریخ پیدائش کا ثبوت نہیں  ہے (۳)آدھار رہائش کا ثبوت نہیں  ہے اور (۴) آدھار ڈومیسائل کا ثبوت نہیں  ہے۔ ایسے میں  آدھار کی تعریف اس طرح ہوسکتی ہے کہ یہ ایسی دستاویز ہے جس کا ’’بنوانا‘‘ لازم مگر ’’منوانا‘‘ لازم نہیں  اور اس کے حامل کی بابت یہ ضروری نہیں  کہ اس کی تاریخ پیدائش، شہریت، مستقل رہائش یا آدھار پردرج دیگر تفصیل کی قانونی حیثیت بھی ہو۔‘‘کوئی سوچ بھی نہیں  سکتا تھا کہ جس آدھار کو زوروں  سے منوایا گیا ہے وہ اتنا ’’ نِرادھار‘‘ نکلے گا۔ 
سوال یہ ہے کہ جب یہ سب کچھ نہیں  ہے تو پھر آدھارکس مرض کی دوا ہے؟ اور اس نعرے ’میرا آدھار، میری پہچان‘ کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ ایک شہری اپنی شہریت، تاریخ پیدائش، رہائش ، ووٹرآئی ڈی اور ڈومیسائل کیلئےکتنے سرٹیفکیٹس بنوائے اور کیوں  بنوائے؟ ایک رپورٹ کے مطابق ۲۰۰۹ء میں جب آدھار کو متعارف کرایا گیا تھا تو اس کا بجٹ ۱۱؍ ہزار ۳۳۶؍ کروڑ روپے کا تھاجبکہ ۲۷۔۲۰۲۶ء میں  اس پر ۲۲۷۲؍ کروڑ روپے کے خرچ کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ سمجھنا بہرحال مشکل ہے کہ آدھار اگر ان ساری ضرورتوں  اور تقاضوں  کو پورا نہیں  کرسکتا تو حکومت نے اس پر اتنا خرچ کیوں  کیا اوراس کی اتنی تشہیر کیوں  کی؟ کیا حکومت اپنے شہریوں  کو کوئی ایک ایسا شناختی کارڈ فراہم نہیں  کرسکتی جو آسانی سے بن سکے اور جس میں  ان تمام سوالوں  کے جواب بھی ہوں ؟ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK