• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’جنتر منتر چلو‘ : طنزیہ ویڈیو گیم کے ذریعے دنیا بھر کے صارفین کو دہلی کے مظاہروں کا تجربہ

Updated: October 17, 2026, 12:02 PM IST | New Delhi

چیف الیکشن کمیشن گیانیش کما ر اور ایس آئی آر کے خلاف ہورہے مظاہروں کے دوران ایک نوجوان نے ’جنتر منتر چلو ‘ کے نام سے ایک طنزیہ ویڈیو گیم بنا دیا ہے۔ اس گیم میں بالخصوص جنتر منتر پر مظاہرین کے پہنچ نہ پانے سے متعلق منظر کشی کی گئی ہے۔ گیم میں دہلی پولیس اور مظاہرین دونوں کا آپشن رکھا گیا ہے، آپ جو چاہیں اس متبادل کا انتخاب کرکے گیم کھیل سکتے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

 چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ایس آئی آر کے خلاف جاری مظاہروں کو روکنے کیلئے نئی دہلی میں ۲۵؍ ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ اس تمام تر صورتحال کے درمیان ایک ۲۷؍ سالہ انجینئر نے جنتر منتر پہنچنے کی کوشش کے دوران حراست سے بچنے کیلئے مظاہرین کو درپیش مشکلات کو ایک طنزیہ ویڈیو گیم میں تبدیل کر دیا ہے۔ سورج کشواہا نے ۲؍ اکتوبر کو احتجاجی مظاہروں کے آغاز کے بعد ’جنتر منتر چلو‘نامی گیم تیار کیا۔ انہوں نے اسکرول سے بات کرتے ہوئے بتایا، ’’میں نیوز پر مظاہروں کی کوریج دیکھ رہا تھا اور میں نے سوچا کہ اسے ۲ڈی گیم کی شکل کیسے دی جا سکتی ہے۔‘‘

اس گیم میں کھلاڑی یا تو مظاہرین بننے کا انتخاب کر سکتے ہیں یا پھر دہلی پولیس کے افسر کے طور پر اسے کھیل سکتے ہیں۔ اگر کھلاڑی مظاہرین بنتے ہیں تو انہیں اپنے قافلے میں مزید لوگوں کو شامل کرنا ہوتا ہے اور رکاوٹوں ، بیری کیڈزوغیرہ کو توڑ کر جنتر منترپر دھرنا دینا ہوتا ہےجو کہ پیر تک ایک نامزد احتجاجی مقام تھا جسے بعد میں ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: اسی ماہ پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا جاسکتا ہے

دوسری طرف، جو کھلاڑی پولیس افسر بننے کا انتخاب کرتے ہیں، وہ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کر سکتے ہیں، مظاہرین کو حراست میں لے کر بسوں میں بھر سکتے ہیں۔ کشواہا نے بتایا کہ کھلاڑیوں کو اپنی پسند کا فریق منتخب کرنے کے اس آپشن نے گیم کو کافی مقبول بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’حکومت کی حمایت کرنے والے لوگ بھی خوش ہیں کیونکہ وہ گیم میںمظاہرین کی پٹائی کر سکتے ہیں۔‘‘

یہ گیم نہ صرف مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کو پیش کرتا ہے، بلکہ وسطی دہلی میں لگائی جانے والی انٹرنیٹ بلاک ڈاؤن اور مظاہرین کو قید رکھنے کیلئے قائم کی گئی عارضی حراستی گاہوں (ڈیٹینشن سینٹرز) کو بھی گیم کا حصہ بناتا ہے۔ کشواہا نے کہا، ’’میں چاہتا تھا کہ یہ ایک دم سادہ گیم ہو جسے کوئی بھی کھیل سکے، لیکن ساتھ ہی میں اسے حقیقت کے قریب اور تفصیلی رکھنا چاہتا تھا۔‘‘

گیم کے اندر جب انٹرنیٹ سروس غائب ہوتی ہے تو منی میپ کام کرنا بند کر دیتا ہے۔ حراست میں لئے گئے کھلاڑیوں کو اچانک نریلااسٹیڈیم یا کپاشیرا بارڈر پر بھیج دیا جاتا ہے، جودہلی کے بیرونی علاقوں میں بنائی گئی عارضی حراستگاہیں ہیں۔ گیم کے دوران وقفے وقفے سے پاپ اپ نوٹیفیکیشنز آتے ہیں جن میں بتایا جاتاہے کہ میٹرو اسٹیشن کے دروازے بند کر دئیے گئے ہیں یا لاٹھی چارج ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پابندی دھری رہ گئی، ترنگا مارچ نکالا گیا

اس منظر نامے میں میڈیا اداروں کا کردار بھی شامل ہے۔ آزاد میڈیا سے سامنا ہونے پر قافلے میں مزید لوگ شامل ہو جاتے ہیں، جبکہ ’’گودی میڈیا‘‘ کے سامنے آنے پر کچھ مظاہرین ’’برین واش‘‘ ہو کر قافلہ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ کشواہا نے بتایا کہ جمعرات کو ایک وقت میں گیم پر ۲؍ ہزار آن لائن کھلاڑی موجود تھے، اور تکنیکی حدود کی وجہ سے ایک وقت میں کھیلنے والے لوگوں کی تعداد محدود تھی۔ انہوں نے مزید کہا، ’’بہت سے صارفین اسے آف لائن بھی کھیل رہے ہیں جن کا حساب میں نہیں رکھ سکا ہوں۔‘‘

’جنتر منتر چلو‘ ان مظاہروں پر مبنی واحد ویڈیو گیم نہیں ہے۔ طلباء لیڈر نیہا بوراکی چستی اور دوڑ بھاگ کو دیکھ کر بنایا گیا گیم ’بھاگ نیہا بھاگ ‘بھی کافی مقبول ہو رہا ہے۔ اس گیم میں کھلاڑیوں کو دہلی پولیس اور ہندو توا حامیوں سے بچتے ہوئے ’’ڈیموکریسی کوائنز‘‘ (جمہوریت کے سکے) جمع کرنے ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK