• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنتر منتر سے رکاوٹیں ہٹا دی گئیں، ٹریفک بحال

Updated: November 06, 2026, 11:35 AM IST | Agency | New Delhi

۱۹۹۳ء سے احتجاج کے مرکز کے طورپر مشہورجنتر منترکو گزشتہ مہینے احتجاج کی فہرست سے ہٹایا گیا تھا، آمدورفت کے اعتبار سے شہریو ں کوسہولت ہوگی۔

Barricades set up at Jantar Mantar are being loaded onto a truck. Photo: PTI
جنترمنتر پر لگائے گئے بیریکیڈز ٹرک میں رکھے جا رہے ہیں۔ تصویر: پی ٹی آئی

دارالحکومت دہلی کے تاریخی جنتر منتر کا تذکرہ جب ہوتا ہے تو احتجاج، مظاہروں اور رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ وہاں تعینات سیکوریٹی فورسیز کی تصویریں ذہن میں آتی ہیں۔حالیہ مہینوںمیںجنتر منتر تاریخی مظاہروں کا گواہ رہا ہے۔گزشتہ کئی برسوں سے اس جگہ کی شناخت احتجاج کے مقام کے طورپرہی بنی ہوئی ہے۔ اسی سبب اس علاقےکے اطراف راستےیعنی جنتر منتر روڈ دہائیوں سے ٹریفک کیلئے بندتھا۔ اب تقریباً۳۳؍ سال بعد جنتر منتر روڈ سے حفاظتی رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں اور سڑک کو عوامی ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ہے۔اس سے نہ صرف عوامی نقل و حرکت میں سہولت ہو گی بلکہ توقع ہے کہ کناٹ پلیس، پارلیمنٹ اسٹریٹ اور آس پاس کے علاقوں میں روزانہ کے ٹریفک جام سے بھی نجات ملے گی۔

پورا علاقہ سخت حفاظتی حصار میں تھا

ماضی میں جنتر منتر روڈ پرمتعدد لیئرز میں سیکوریٹی تعینات کی گئی تھی۔ سڑک کے دونوں طرف مضبوط رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ دہلی پولیس کے اہلکار، نیم فوجی دستے، کوئیک ریسپانس ٹیمیںاور فسادات پر قابو پانے والی گاڑیاں تعینات کی گئیں ۔ ان اقدامات نے طویل عرصے سے عام شہریوں کی گاڑیوں کی نقل و حرکت میں خلل ڈالا تھا۔ سڑک بند ہونے سے آس پاس کی سڑکیں براہ راست متاثر ہوئیں۔ اب رکاوٹیں ہٹانے کے بعد گاڑی چلانے والوں کو اس علاقے سے گزرنے کیلئے متبادل راستوں پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھئے: وہ ایران میں رِجیم چینج کرنا چاہتے تھے لیکن یہ امریکہ اور اسرائیل میں ہوگیا!

جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹانے کی وجہ؟

اکتوبر میں رونما ہونے والے واقعات نے جنتر منتر کو سرکاری احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دراصل، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور دیگر تنظیموں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کیا۔ اس احتجاج کے دوران دہلی پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہوا۔اس کے بعد، دہلی پولیس نے۱۱؍ اکتوبر کو وزارت داخلہ کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی کی سفارشات پر ایک حکم جاری کیا جس کے تحت جنتر منتر کو سرکاری احتجاج کے مقام کی فہرست سے ہٹا دیا گیا۔یعنی اب جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت نہیں ہے اور وہاں مظاہرین جمع نہیں ہوسکتے۔ جنتر منتر روڈ کھلنے کے بعد کناٹ پلیس اور پارلیمنٹ اسٹریٹ آنے جانے والوں کیلئے سہولت ہوگی۔

چندمنٹ کا راستہ طے کرنے میںآدھا گھنٹہ لگ جاتا تھا

جنتر منتر روڈ کی بندش کا اثر صرف اسی علاقے تک محدود نہیں تھا۔ اس کی وجہ سے پارلیمنٹ اسٹریٹ، کناٹ پلیس، اشوکا روڈ اور ٹالسٹائی مارگ کے بیرونی اور اندرونی حصوںتک ٹریفک کا مسئلہ ہوجاتا تھا ۔ چند منٹوں کا راستہ طےکرنے میں ۲۰؍ سے۳۰؍ منٹ لگ جاتے تھے۔ اس راستے سے روزانہ سفر کرنے والے مزدور اور ڈرائیوروں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ اب، سڑک کے دوبارہ کھلنے سے، کناٹ پلیس اور آس پاس کے دفاتر تک رسائی پہلے سے زیادہ آسان ہو جائے گی۔جنتر منتر روڈ کے کھلنے سے ان بڑی سڑکوں کے درمیان براہ راست رابطہ بھی بحال ہو گیا ہے۔ رکاوٹیں ہٹانے کے بعد ٹریفک حکام نے ٹریفک کی روانی کو ہموار رکھنے کیلئے ضروری ہدایات جاری کی ہیں۔ 

جنتر منترکئی تحریکوں اور مظاہروں کا گواہ رہا

قابل ذکر ہے کہ جنتر منتر کئی تحریکوں اور احتجاجی مظاہروں کا گواہ رہا ہے۔ جنتر منتر۱۹۹۳ء میں دہلی میں دھرنے اور احتجاج کے مقررہ مقام کے طور پر سامنے آیا تھا۔ دراصل۱۹۸۸ء میں کسان لیڈر مہندر سنگھ ٹکیت کی قیادت میں کسانوں نے دہلی کے بوٹ کلب علاقے میں بڑا احتجاج کیا تھا۔ اس کے بعد وہاں مظاہروں پر پابندیاں سخت کر دی گئی تھیں۔ بوٹ کلب پر پابندیوں کے بعد۱۹۹۳ء میں جنتر منتر روڈ احتجاجی مظاہروں کا بنیادی مرکز بن گیا۔ حالانکہ اس کی شروعات کسی باضابطہ سرکاری اعلان کے بجائے انتظامی اقدامات کے تحت ہوئی تھی۔

۱۱؍ اکتوبر کا پولیس نوٹیفکیشن 
دہلی پولیس نے ۱۱؍ اکتوبر کو ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے  جنتر منتر کواحتجاج کے مقام کی فہرست سے ہٹا دیا تھا ۔ اس کی وجہ دہلی پولیس کمشنرانوراگ کمارکا سپریم کورٹ میں داخل کیاگیا وہ حلف نامہ تھا جس میں انہوں نے عدالت کوبتایا تھا کہ جنتر منتر ایک پبلک روڈ ہے اوراحتجاج کیلئے کوئی متعین مقام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا تھاجنترمنتر پرصرف ۱۵۰۰؍ افراد کے رہنے کی گنجائش ہے جبکہ یہاں سال بھر میں۱۳۰۰؍ سے زائد احتجاجی مظاہرےدیکھے گئے ہیں۔ واضح رہےکہ۲۰۱۱ء میں انا ہزارے کی بدعنوانی مخالف تحریک جنتر منتر سے شروع ہوئی اور بعد میں رام لیلا میدان منتقل ہوگئی۔۲۰۱۲ءکے نربھیا سانحہ کے خلاف احتجاج بھی جنتر منتر پر ہوا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK