• Sun, 22 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

محدود تعلیم اور لامحدود علم

Updated: February 22, 2026, 1:57 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

اگر دنیوی اور دینی تعلیم کی تخصیص کے بغیر علم کو علم کی حیثیت سے دیکھا جائے اور اس کے حصول کے ذرائع پر غور کیا جائے تو غور و خوض کی کنجی سے علم کے دَر خود بخود وا ہونے لگتے ہیں ۔ پھر یہ تخصیص باقی نہیں رہتی کہ جو دروازے کھلے وہ دنیوی علم کے ہیں یا دینی علم کے۔

INN
آئی این این
  اگر دنیوی اور دینی تعلیم کی تخصیص کے بغیر علم کو علم کی حیثیت سے دیکھا جائے اور اس کے حصول کے ذرائع پر غور کیا جائے تو غور و خوض کی کنجی سے علم کے دَر خود بخود وا ہونے لگتے ہیں ۔ پھر یہ تخصیص باقی نہیں  رہتی کہ جو دروازے کھلے وہ دنیوی علم کے ہیں  یا دینی علم کے۔ مثال کے طور پر جب انسان غور کرتا ہے کہ جسم کیا ہے تو خارجی جسم سے زیادہ جسم کا داخلی نظام اسے حیران کرتا ہے۔ پھر وہ مزید حیرانیوں  میں  ڈوبتا ہے کہ وہ اپنا چہرا تو دن میں  دس مرتبہ دیکھتا ہے مگر جسم کا اندرون کبھی نہیں  دیکھ سکا نہ ہی آئندہ کبھی دیکھ پائیگا۔ سونوگرافی ایک جھلک دکھاتی ہے اس سے زیادہ  نہیں ۔ معلوم ہوا کہ وہ اپنے ہی جسم کے داخلی نظام سے لاعلم ہے۔ مزید غور کرے تو وہ سوچ سکتا ہے کہ اس کا جو دماغ ہے اس کے ذریعہ سوچنے کا عمل کس طرح ممکن ہوتا ہے۔ وہ اپنے ماتھے سے کیوں  نہیں  سوچ سکتا۔ اپنی آنکھوں  سے کیوں  نہیں  سوچ سکتا۔ چلئے اگر وہ اس پر اطمینان کرلے کہ جسم کے ہر عضو کا ایک فعل ہے اور دماغ کا فعل سوچنا ہے تو ممکن ہے اب اُسے یہ سوال سوجھے کہ کبھی کبھی حال کی بات کیوں  یاد نہیں  آتی اور بہت پرانی بات کیسے یاد آجاتی ہے؟ تھوڑی دیر بعد وہ اس الجھن سے باہر نکلنا چاہے گا اور گویا ہتھیار ڈال دیگا کہ دماغ اُس کا ہے مگر وہ دماغ سے لاعلم ہے۔ اس کے بعد ہوسکتا ہے وہ روح کے بارے میں  سوچنا چاہے۔ روح کی بابت اس نے سنا ہے مگر جانتا نہیں  کہ یہ کیا ہے، کیسی ہوتی ہے اور اس کے پرواز کرتے ہی انسان اپنی وقعت کیوں  کھو دیتا ہے؟ 
یہ تو انسان کی اپنی ذات سے متعلق باتیں  ہیں  مگر غور و خوض ایسی دولت ہے کہ سوالات کے نت نئے دروازے کھولتی ہے اور اگر انسان حصول علم کا شائق ہے تو ہر سوال کا جواب جاننے کی کوشش کے ذریعہ تسلسل کے ساتھ علم میں  اضافہ کرسکتا  ہے۔ مثال کے طور پر سورج کا اپنے وقت پر طلوع اور غروب ہونا، رات کے وقت تاروں  کا آسمان پر چھا جانا، چاند کا گھٹنا بڑھنا، سمندر کی طغیانی اور اس کا سکوت، اس میں  موجود آبی حیوانات کہ جن کے بارے میں  جتنا علم حاصل کیا جاتا ہے اتنی ہی لاعلمی قائم رہتی ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ ان نشانیوں  پر غور کرو مگر انسان غور نہیں  کرتا۔ وہ علم سے بھاگتا ہے۔ اتنا مصروف ہو جاتا ہے کہ کبھی کبھی تو روزانہ نکلنے والے سورج ہی کو کئی کئی دن دیکھ نہیں  پاتا۔ وہ اپنے معمولات کا اسیر ہے اور ان سے نہ تو باہر آتا ہے نہ آنا چاہتا ہے۔ جس علم کو نصاب میں  قید اور اسکولوں ، کالجوں  اور یونیورسٹیوں  میں  محدود کردیا گیا ہے وہ محدود نہیں ، لامحدود ہے۔ وہ ہر جگہ ہے اور سوال اُبھارتا ہے تاکہ اُسے حاصل کیا جائے۔ 
جب انسان سوال کی انگلی پکڑ کر جواب حاصل کرنا چاہے گا تب کتابوں  سے اور عالموں  سے رجوع کریگا اور تب ہی اُسے علم کی روشنی میسر آئیگی۔ اسکولوں ،  کالجوں  اور یونیورسٹیوں  میں  علم ہے مگر محدود اور وہ بھی ایک خاص قسم کی اہلیت پیدا کرنے کیلئے۔ آدمی علم کے وسیع تر مفہوم کو جان لے تو درس گاہوں  کی زندگی کو حصول علم کا ذریعہ سمجھنے کی خام خیالی سے باہر آجائے اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ درس گاہوں  سے اس نے محدود علم پایا ہے البتہ اس کے ذریعہ وہ لامحدود علم کے حصول کا قرینہ جان گیا ہے کہ کیسے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ باتیں  طالب علموں  کے ذہن نشین کرائی جائیں  تو آج بھی اُنہیں  صحیح معنوں  میں  طالب علم بنایا جاسکتا ہے۔ 
education Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK