• Sun, 22 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی بچوں کو کند ذہن بنارہا ہے: سیم آلٹ مین؛ اے آئی کو معاون آلے کے طور پر استعمال کرنے کی تلقین

Updated: February 22, 2026, 3:04 PM IST | New Delhi

آلٹ مین نے تجویز دی کہ آج کے اے آئی کے زمانے میں اسکولوں کو طلبہ کی سیکھنے کی جانچ کرنے کیلئے نئے طریقے اپنانے ہوگے اور بچوں میں رٹہ لگانے کی عادت کے بجائے سمجھ بوجھ، تخلیقی صلاحیتوں اور مسائل کے حل کی قابلیت کے فروغ پر زیادہ توجہ دینی ہوگی۔

Sam Altman. Photo: X
سیم آلٹ مین۔ تصویر: ایکس

مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی چیٹ بوٹ، چیٹ جی پی ٹی کی مالک کمپنی اوپن اے آئی کے سی ای او اور امریکی صنعت کار سیم آلٹ مین نے ان خدشات کا اعتراف کیا کہ ’چیٹ جی پی ٹی‘ جیسے اے آئی ٹولز کچھ بچوں کو ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ منحصر بنا رہے ہیں جس کے نتیجے میں وہ ’کند ذہن‘ بنتے جارہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ یہ مسئلہ صرف ایک چھوٹے سے گروہ کو متاثر کر رہا ہے، کیونکہ زیادہ تر نوجوان صارفین اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

’انڈین ایکسپریس اڈا‘ پروگرام میں گفتگو کے دوران جب آلٹ مین سے پوچھا گیا آیا اے آئی پر انحصار بچوں کو ’کند ذہن‘ بنا رہا ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں طلبہ مواد کو سمجھے بغیر ہوم ورک مکمل کرنے کے لئے اے آئی کا استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس طرح کے رویے کو ’انتہائی برا‘ قرار دیا جو بچوں کی تنقیدی سوچ اور حقیقی مہارتوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی مشمولات انسانوں کے ذہنوں میں غلط یادیں بنارہے ہیں: ماہرین کا انتباہ

آلٹ مین نے مزید کہا کہ یہ والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچے سیکھنا جاری رکھیں، تخلیقی سوچ کے حامل بنیں اور اے آئی کو شارٹ کٹ کے بجائے معاون آلے کے طور پر استعمال کریں۔ انہوں نے دلیل دی کہ بہت سے طلبہ ایسے کاموں کے بجائے اے آئی کو پروجیکٹ بنانے، نئے خیالات کو آزمانے اور اپنی پیداوریت کو بہتر بنانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔

موجودہ دور کا گوگل اور انٹرنیٹ کی آمد کے دور سے موازنہ کرتے ہوئے آلٹ مین نے کہا کہ ماضی میں بھی اسی طرح کے خوف موجود تھے لیکن تعلیمی نظام نے وقت کے ساتھ آخر کار خود کو ڈھال لیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ آج کے اے آئی کے زمانے میں اسکولوں کو طلبہ کی سیکھنے کی جانچ کرنے کیلئے نئے طریقے اپنانے ہوگے اور بچوں میں رٹہ لگانے کی عادت کے بجائے سمجھ بوجھ، تخلیقی صلاحیتوں اور مسائل کے حل کی قابلیت کے فروغ پر زیادہ توجہ دینی ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر اے آئی کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے تو اس میں سیکھنے کے مواقع کو وسعت دینے کی صلاحیت موجود ہے، جس سے طلبہ گزشتہ نسلوں کے مقابلے میں زیادہ کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نیویارک: دنیا کا پہلا اے آئی ڈیٹنگ کیفے، اپنا اسمارٹ فون ’پارٹنر‘ ساتھ لےجائیں

”چیٹ جی پی ٹی زندگی کی رہنمائی کا متبادل نہیں ہوسکتا“

گفتگو کے دوران آلٹ مین نے چیٹ جی پی ٹی اور حقیقی زندگی کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچنے کی کوشش کی کہ کس حد تک لوگوں کو اپنی ذاتی زندگی میں اے آئی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کبھی بھی چیٹ جی پی ٹی سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ خوش کیسے رہا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ اے آئی معلومات اور عملی مشوروں میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، لیکن اسے زندگی کے فلسفے پر انسانی سوچ و بچار کا متبادل نہیں بننے دینا چاہئے۔

آلٹ مین نے نوٹ کیا کہ بہت سے صارفین، خاص طور پر نوجوان، تھیراپی کے انداز کی گفتگو، انسانی رشتوں اور تعلقات کے متعلق مشورے اور جذباتی مدد حاصل کرنے کے لئے چیٹ بوٹس کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کا استعمال رازداری سے جڑے خدشات پیدا کرتا ہے کیونکہ اے آئی چیٹس کو وہ قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے جو ڈاکٹروں، وکلاء یا تھیراپسٹ کے ساتھ گفتگو کو حاصل ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی اداکار جلد انسانی ستاروں کی جگہ لیں گے: شیکھر کپور

انہوں نے اپنی پچھلی تنبیہات کو دہرایا کہ عدالتوں میں بوقت ضرورت صارفین کی گفتگو کو ظاہر کیا جاسکتا ہے، اور حساس ڈیٹا کے گرد مضبوط حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اے آئی چیٹ بوٹس کے ساتھ صارفین کی حذف شدہ چیٹس عام طور پر ۳۰ دنوں کے اندر پوری طرح ڈیلیٹ کردیا جاتا ہے لیکن اگر قانونی یا سلامتی وجوہات کی بناء پر انہیں محفوظ رکھنا ہو تو انہیں برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK