• Fri, 20 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برف کی سطح پھسلن والی ہوتی ہے،کیوں؟

Updated: February 20, 2026, 3:45 PM IST | Mumbai

برف دراصل پانی کی ٹھوس شکل ہے۔ پانی کے سالمات (ایچ ٹو او) جب درجۂ حرارت صفر ڈگری سیلس یا اس سے کم ہو جاتا ہے تو ایک منظم کرسٹل ساخت اختیار کر لیتے ہیں۔لیکن برف کی سطح پر موجود سالمات مکمل طور پر سختی سے بندھے ہوئے نہیں ہوتے، بلکہ نسبتاً آزاد ہوتے ہیں۔ یہی آزادی سطح کو کسی حد تک چکنا بنا دیتی ہے۔

Snow is at its most slippery when the temperature is close to zero. Photo: INN
برف سب سے پھسلن والی اس وقت ہوتی ہے جب درجۂ حرارت صفر کے قریب ہو۔ تصویر: آئی این این

موسم سرما میں جب زمین سفید چادر اوڑھ لیتی ہے اور فضا میں خنکی کے ساتھ خاموشی سی چھا جاتی ہے تو برف کا منظر نہایت دلکش محسوس ہوتا ہے۔ بچے اس پر کھیلتے ہیں، لوگ اسکیٹنگ کرتے ہیں اور پہاڑی علاقوں میں زندگی کا ایک نیا رنگ نظر آتا ہے۔ مگر اسی حسین منظر کے ساتھ ایک احتیاط بھی وابستہ ہوتی ہے کیونکہ برف پر قدم رکھتے ہی انسان کو اپنا توازن سنبھالنا پڑتا ہے۔ عام زمین پر چلنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، لیکن برف پر ذرا سی بے احتیاطی بھی پھسلنے کا سبب بن جاتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ برف کی سطح غیر معمولی طور پر چکنی اور پھسلن والی ہوتی ہے، کیوں؟

یہ بھی پڑھئے: مختلف رَنگ ملانے سے نیا رنگ بنتا ہے، کیوں؟

برف کی سالماتی ساخت 

برف دراصل پانی کی ٹھوس شکل ہے۔ پانی کے سالمات (ایچ ٹو او) جب درجۂ حرارت صفر ڈگری سیلس یا اس سے کم ہو جاتا ہے تو ایک منظم کرسٹل ساخت اختیار کر لیتے ہیں۔لیکن برف کی سطح پر موجود سالمات مکمل طور پر سختی سے بندھے ہوئے نہیں ہوتے، بلکہ نسبتاً آزاد ہوتے ہیں۔ یہی آزادی سطح کو کسی حد تک چکنا بنا دیتی ہے۔

دباؤ کی وجہ سے پگھلاؤ (Pressure Melting Theory)

جب ہم برف پر قدم رکھتے ہیں تو جسم کا وزن برف پر دباؤ ڈالتا ہے۔ دباؤ بڑھنے سے برف کا نقطۂ انجماد معمولی سا کم ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں برف کی اوپری تہہ کا ایک باریک حصہ پگھل کر پانی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔پانی کی یہ باریک تہہ جوتے اور برف کے درمیان ایک ’’لبریکینٹ‘‘ (lubricant) کا کام کرتی ہے جس سے فریکشن (friction) کم ہو جاتی ہے اور پھسلن پیدا ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پائلٹ، کو پائلٹ سے مختلف غذا کھاتا ہے، کیوں؟

 فریکشنل ہیٹنگ (Frictional Heating)

جب جوتا یا اسکیٹنگ کا بلیڈ برف پر حرکت کرتا ہے تو رگڑ کے باعث حرارت پیدا ہوتی ہے۔یہ حرارت برف کی سطح کو معمولی سا پگھلا دیتی ہے اور ایک باریک پانی کی تہہ بن جاتی ہے جس سے سطح مزید چکنی ہو جاتی ہے۔ اسی اصول کی وجہ سے اسکیٹر تیزی سے برف پر پھسل سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: تقریباً سبھی مصنوعات پر ’بار کوڈ‘ ہوتا ہے، کیوں؟

جدید سائنسی تحقیق کیا کہتی ہے؟

جدید تحقیق کے مطابق صرف دباؤ یا رگڑ ہی وجہ نہیں بلکہ برف کی سطح پر پہلے سے ہی ایک نہایت باریک ’’نیم مائع تہہ‘‘ (quasi-liquid layer) موجود ہوتی ہے، چاہے کوئی اس پر کھڑا ہو یا نہ ہو۔یہ تہہ انتہائی باریک (چند نینو میٹر موٹی) ہوتی ہے اور یہی برف کو قدرتی طور پر پھسلن والی بنا دیتی ہے۔ اسی لئے بہت کم درجۂ حرارت پر بھی برف مکمل طور پر کھردری نہیں ہوتی۔مثلاً منفی۳۰؍ ڈگری میں برف نسبتاً کم پھسلن والی ہو جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK