• Fri, 23 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’غریبوں کے متحد ہونے اورمودی سرکار کے جانے کا دن آگیا ہے‘‘

Updated: January 23, 2026, 8:18 AM IST | New Delhi

’منریگا بچاؤ مورچہ‘ کے تحت منعقدہ کنونشن میں راہل گاندھی کا خطاب، کھرگے نے کہا کہ’’ بی جے پی مزدوروں کی دشمن، لیکن ہم منریگا کے تحفظ تک پیچھے نہیں ہٹیں گے‘‘

Congress leaders Mallikarjun Kharge and Rahul Gandhi won the hearts of the people by dressing up as workers.
مزدوروں کے لباس میں آکرکانگریس سربراہ ملکارجن کھرگے اور راہل گاندھی نے عوام کا دل جیت لیا

 منریگا کے حوالے سے کانگریس نے ایک بار پھر بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس سربراہ ملکارجن کھرگے نے جہاں اس عزم کااظہار کیا کہ منریگا کے تحفظ تک پیچھے نہیں ہٹیں گے، وہیں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی نے کہاکہ مودی حکومت کے جانے کا دن آگیا ہے کیونکہ ملک کے غریب اب متحد ہورہے ہیں۔ 
 ملکارجن کھرگے نے ’منریگا بچاؤ مورچہ‘ کے تحت دہلی میں منعقدہ کنونشن میںملک بھر سے آئے کارکنوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منریگا بچانے کی لڑائی بہت طویل ہے اور یہ لڑائی صرف نعرے لگا کر یا ایک جگہ بیٹھ کر نہیں جیتی جا سکتی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے منریگا کو ختم کرنے کا قانون پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کیا تھا جس کی کانگریس نےسخت مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اب جلد ہی بجٹ اجلاس شروع ہونے والا ہے جہاں ایک بار پھر کانگریس اس مسئلے کواٹھائے گی۔
   کانگریس سربراہ نے کہا کہ  بی جے پی اور آر ایس ایس کا تعلق  چونکہ امیروں سے ہے،اسلئے وہ غریبوں کی تکلیف کو نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کو غلام بنانے کے ارادے ہی سےدیہی مزدوروں کے حق کی مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کو ختم کرنے کا قدم اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے غریبوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے ،اسلئے کانگریس اس قانون کی بحالی تک لڑائی جاری رکھے گی۔ انہوں نےکہا کہ کانگریس حکومت نے مہاتما گاندھی کے نام سے منریگا شروع کیا تھا لیکن مودی حکومت اسے تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ منریگا کو ختم کر کے حکومت نے دیہی ہندوستان کے غریبوں اور کمزور طبقات پر حملہ کیا ہے، جس کا ملک بھر میں احتجاج ہو رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ منریگا کو ختم کرنا صرف سماج کے کمزور طبقات پر حملہ نہیں بلکہ مہاتما گاندھی کو عوامی یادداشت سے ہٹانے اور گرام سوراج کی سوچ پر حملہ کرنے کی سازش ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ کسی جماعت نے مہاتما گاندھی کے نام پر رکھی اسکیم سے ان کا نام ہٹانے کی جرأت کی ہے لیکن یہ ملک اسے برداشت نہیں کرے گا۔ 
 اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ مودی حکومت منریگا کو اسلئے ختم کر رہی ہے تاکہ ملک کے دبے کچلے لوگوں کو ’بندھوا مزدور‘ بنایا جا سکے۔ منریگا سے لوگوں کو۱۰۰؍ دن کام کی قانونی ضمانت ملتی تھی، جسے ختم کیا جا رہا ہے۔ کانگریس کو منریگا اور غریبوں کے حق روزگار کو بچانے کی لڑائی لڑنی ہے لیکن اس کیلئے مزدوروں اور غریبوں کو کو متحد ہونا پڑے گا۔ 
 اس موقع پرکانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ منریگا کو ختم کرنے کے خلاف شروع ہوئی لڑائی میں وزیر اعظم مودی کو اپنے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہونے دینا ہے،اسلئے ضروری ہے کہ منریگا کی بحالی کیلئے ہم سب متحد ہوں۔ ’منریگا بچاؤ مورچہ‘ کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ بی جے پی چاہتی ہے کہ ملک میں جمہوریت، آئین اور’ ایک شخص ایک ووٹ‘  کا تصور ختم ہو جائے اور آزادی سے پہلے والا ہندوستان واپس لایا جائے۔ اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ وزیر اعظم مودی نے عوام کو منریگا کے تحت ملے حقوق کو ختم کرنے کا کام کیا ہے۔ 
 راہل گاندھی نے کہا کہ منریگا نے غریبوں کو روزگار کی ضمانت اور عزت کے ساتھ جینے کا حق دیا تھا۔ اس کے پیچھے سوچ یہ تھی کہ جسے بھی کام کی ضرورت ہو، وہ عزت کے ساتھ حق کے طور پر کام مانگ سکے اور حق کے ساتھ اسے کام ملے۔ منریگا پنچایتی راج کے تحت چلایا جاتا تھا اور یہ عوام کی آواز اور ان کا حق تھا لیکن وزیر اعظم مودی اسے ختم کرنے میں لگے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کااظہار کیا کہ کانگریس حکومت کو منریگا کی بحالی پر مجبور کرے گی۔  انہوںنے کہا کہ اس سے پہلے مودی حکومت کسانوں کے خلاف کالے قوانین لے کر آئی تھی، جسے کسانوں نے روک دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جو ناانصافی کسانوں کے ساتھ کی گئی تھی، وہی اب مزدوروں کے ساتھ کی جا رہی ہے۔ 
 کانگریس لیڈر نےکہاکہ ’’کچھ سال پہلے بی جے پی سرکار  تین سیاہ زرعی قوانین لے کر آئی تھی جس کے ذریعے کسانوں پر حملہ کیا تھا لیکن کسانوں اور ہم سب نے مودی حکومت پر دباؤ ڈال کر اسے روک دیا۔ اب اسی طرح کا حملہ مزدوروں پر کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اب مرکزی حکومت فیصلہ کرے گی کہ کس ریاست کو کتنا پیسہ بھیجا جائے؟ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کو زیادہ پیسہ ملے گا اور اپوزیشن کی حکومت والی ریاستوں کو کم۔ مرکزی حکومت ہی طے کرے گی کہ کہاں کب کام ہوگا؟ اور کس کو کتنی مزدوری ملے گی۔ جو حقوق مزدوروں کو ملتے تھے، اب وہ ٹھیکیداروں کو ملیں گے، لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK