راہل گاندھی نے ہریانہ کی ٹیکسٹائل فیکٹر ی کا دورہ کرکے وزیر اعظم پر تنقید کی، کہا: وزیر اعظم مودی نے ابھی تک ٹیکسٹائل صنعت کیلئے کسی بھی راحت کا اعلان نہیں کیا ہے
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 11:12 PM IST | New Delhi
راہل گاندھی نے ہریانہ کی ٹیکسٹائل فیکٹر ی کا دورہ کرکے وزیر اعظم پر تنقید کی، کہا: وزیر اعظم مودی نے ابھی تک ٹیکسٹائل صنعت کیلئے کسی بھی راحت کا اعلان نہیں کیا ہے
امریکہ کے ذریعہ ہندوستان پر لگائے گئے ٹیرف پر کانگریس نے ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم مودی پر شدید تنقید کی۔ قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ امریکی ٹیرف سے ہندوستان کی کپڑا صنعت بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ اس کی وجہ سے پورے سیکٹر میں کھلبلی مچی ہوئی ہے، لیکن مودی جی نےابھی تک کوئی راحت نہیں دی ہے اور نہ ہی امریکی ٹیرف پر کچھ بولنےکی ہمت کی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی ٹیرف کی وجہ سے ملک میں ۵ء۴؍ کروڑ نوکریاں اور لاکھوں کا کاروبار داؤ پر ہے۔ انہوں نے کہاکہ مودی کو اپنی کمزوری کو ہماری معیشت پر مزید اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ انہوں نے ہریانہ میں ایک کپڑا فیکٹری میں جاکر وہاں کا جائزہ لیا اور پھر بیان جاری کیا۔ قابل ذکر ہے کہ دو ماہ قبل بھی راہل گاندھی نے نوئیڈا کی ایک فیکٹری میں کپڑا فیکٹری میں جاکر حالات کا جائزہ لیا تھا اور حکومت پر حملہ آور ہوئے تھے۔
ایک طرف جہاں امریکہ بار بار ٹیرف بڑھارہا ہے اور مسلسل دھمکیاں بھی دے رہا ہے وہیں صدر ٹرمپ کی یہ دھمکیاں اپوزیشن پارٹیوں کو حکمراںجماعت پر حملہ آور ہونے کے مواقع فراہم کررہی ہیں۔ کبھی ٹرمپ کا رویہ نرم پڑتا ہے تو کبھی وہ نظریں ٹیڑھی کرلیتے ہیںجبکہ کانگریس اس مسئلہ پر مودی حکومت پر نشتر چلا رہی ہے۔
اسی اثناءمیں راہل گاندھی نے ہریانہ کی کپڑا فیکٹری کا دورہ کرکے حالات کا جائزہ لیا۔ انہوںنے فیکٹر ی کے مالکان اور ملازمین سے تفصیل سے با ت چیت کی اور پوری فیکٹری کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ اس دوران انھوںنے بھی اپنا ہاتھ آزمایا اور ملازمین کی طرح کپڑے سینے کی کوشش کی۔ فیکٹر ی کے مالکان اور ملازمین نے بھی اپنا درد بیان کیا جس پر راہل گاندھی نے حکمراں جماعت پر تنقید کی۔ دورہ کرنے کے بعد قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ایکس پر لکھا اور اپنے دورہ کا قریب دس منٹ کا ویڈیو بھی شیئر کیا۔ انھوں نے کہاکہ میں ایک کپڑا ایکسپورٹ فیکٹر ی کے اندر گیا اور ٹرمپ کے ٹیرف کا اثر دیکھا۔ انھوںنے کہاکہ وزیراعظم آپ جوابدہ ہیں، برائے کرم اس معاملہ کی جانب توجہ دیں کیوں کہ یہ ملک کے بہت بڑے سیکٹر کو روزگار فراہم کرتا ہے۔انہوںنے کہاکہ میںنے فیکٹری میں درزیوں کے ہنر، عزم اور جنون کو دیکھا۔ انھیںبس ایک ایسی حکومت چاہئے جو انھیں حقیقی حمایت دے۔انھوںنے کہاکہ ہندوستان کی ٹیکسٹائل صنعت ملک کی دوسری بڑی معیشت ہے اور ہمارے ٹیکسٹائل دنیا بھر میں پسندکئے جاتے ہیں۔ ہمارے درزیوں کی کاریگری کا واقعی کوئی مقابلہ نہیں ہے، لیکن آج یہ صنعت امریکہ کے محصولات کے سبب غیر یقینی صورت حال اور خوف کے سائے میں ہے۔ امریکہ کے ۵۰؍فیصد ٹیرف، یوروپ میں گرتی قیمت اور بنگلہ دیش اور چین سے سخت مقابلہ،ہمارے ایکسپورٹرس ہر طرح سے پس رہے ہیں۔ ا س کا سیدھا اثر نوکریوں پر پڑ رہا ہے۔ یونٹ بند ہورہے ہیں، خریداری کم ہورہی ہے اور پورے سیکٹر میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ راہل گاندھی نے تجویز دیتے ہوئے کہاکہ یہ ضروری ہے کہ ہندوستان امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرے جس کے تحت ہندوستانی کاروبار اور ورکرس کو اہمیت دی جائے ۔ مودی جی کو اپنی کمزوری کو ہماری معیشت پر مزید اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی راہل گاندھی کی سجھائی گئی متعدد تجویزیں اہمیت کی حامل ثابت ہوئی ہیں اور حکومت نے ان پر عمل بھی کیا ہے۔ واضح رہے کہ راہل گاندھی کے اس طریقے کی وجہ سے بی جے پی بری طرح چراغ پا ہو جاتی ہے۔ چونکہ راہل گراس روٹ سطح پر جاکر عوام سے ملتے ہیں اور ان کی پریشانیوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اس لئےبی جے پی کو سب سے زیادہ پریشانی ہوجاتی ہے۔ راہل کے اس دورے پر بھی بی جے پی نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ راہل گاندھی صرف تصویریں کھنچوانے وہاں جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ راہل کے دورے کا ان یونٹس یا کاروبار کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ہے۔