• Sun, 25 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’گجرات میں ایس آئی آر کے دوران منصوبہ بند ووٹ چوری ہورہی ہے‘‘

Updated: January 24, 2026, 11:37 PM IST | New Delhi

راہل گاندھی نے ہزاروں ووٹرس کے خلاف ایک ہی نام سے اعتراض داخل کئے جانے کا حوالہ دیا، کہا: الیکشن کمیشن جمہوریت کا محافظ نہیں، ووٹ چوری میں معاون ہے

Rahul Gandhi
راہل گاندھی

کانگریس کے اس دعویٰ  کے بعد کہ گجرات میں ایس آئی آر کو  منصوبہ بند طریقہ سے لاکھوں افراد کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کیلئے استعمال کیا جارہاہے سنیچر کو کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے  اس معاملے کو پوری شدت سے اٹھایا۔  انہوں نے  الزام لگایا کہ گجرات میں ایس آئی آر کے نام پر جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ ایک ’’منصوبہ بند، منظم اور اسٹریٹجک ووٹ چوری‘‘ ہے۔اس کیلئے انہوں نے الیکشن کمیشن  کو برابر کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ 
  لوک سبھا میں قائد ِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ ایس آئی آر کو ’’ایک شخص، ایک ووٹ‘‘ کے آئینی حق کو تباہ کرنے کاہتھیار بنا لیا گیا ہے تاکہ عوام نہیں   بی جے پی یہ طے کرے کہ اقتدار میں کون رہےگا۔ راہل گاندھی نے ایکس پر ہندی میں  کئے گئے پوسٹ میں کہا ہے کہ ’’جہاں جہاں ایس آئی آر ، وہاں وہاں ووٹ چوری!۔ گجرات میں ایس آئی آر کے نام پر جو کیا جا رہا ہے وہ کسی بھی  طرح کا انتظامی عمل نہیں،  یہ منصوبہ بند اور منظم ووٹ چوری ہے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’سب سے زیادہ چونکا دینے والی اور خطرناک بات یہ ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں اعتراضات ایک ہی نام سے داخل کئے  گئے ہیں۔‘‘
 راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ ’’کانگریس پارٹی کی حمایت کرنے والی مخصوص برادریوں اور بوتھوں سے چُن چُن کر ووٹروں  کے نام کاٹے  گئے۔ جہاں جہاں بی جے پی کو ممکنہ شکست نظر آتی ہے، وہاں ووٹروں کو سسٹم سے غائب کر دیا جاتا ہے۔‘‘ انہوں  نے نشاندہی کی کہ’’یہی طریقہ آلند میں دیکھا گیا تھا۔ یہی راجورا میں ہوا۔ اور اب یہی بلیو پرنٹ گجرات، راجستھان اور ہر اُس ریاست میں نافذ کیا جا رہا ہے جہاں ایس آئی آر مسلط کی گئی ہے۔‘‘ اپوزیشن لیڈر  نے کہا کہ’’  تلخ حقیقت یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اب جمہوریت کا محافظ نہیں رہ گیا بلکہ ووٹ چوری کی اس سازش میں ایک کلیدی شریک بن چکا ہے۔‘‘ان کے یہ بیانات گجرات کانگریس کی سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد آئے  جس میں الزام لگایا گیا  ہے کہ  ووٹوں میں ہیرا پھیری کو  راہل گاندھی کے ذریعہ بے نقاب کردیئے جانے کے بعد بی جے پی نے انتخابی دھاندلی کا نیا، اگلے مرحلے کا ماڈل اپنا لیا ہے۔ گجرات کانگریس نے متنبہ کیا ہے کہ ’’انتخابی دھاندلی کا مطلب آپ کے ووٹ کے حق کی چوری ہے  اور یہ نیا کھیل گجرات میں سامنے آیا ہے۔ قواعد کے مطابق، ایس آئی آر کے بعد الیکشن کمیشن نے مسودہ فہرست جاری کی اور اعتراضات وصول کرنا شروع کئے جس کی آخری تاریخ ۱۸؍ جنوری مقرر کی گئی۔۱۵؍ جنوری تک صرف چند ہی اعتراضات موصول ہوئے، لیکن اس کے بعد اصل کھیل شروع ہوا۔ ایک سازش کے تحت اچانک لاکھوں اعتراضات (فارم ۷) جمع کرائے  گئے۔‘‘پارٹی نے کہا کہ جب الیکشن کمیشن نے۱۲؍لاکھ اعتراضات جاری کئے  توواضح ہو گیا کہ مخصوص ذاتوں، برادریوں اور علاقوں کو نشانہ بنانے کیلئے قواعد کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ ایک ہی شخص کے نام پر درجنوں اعتراضات دائر کئے گئے اور الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بنا رہا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK