• Sun, 25 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مارک کارنی یا مارک کار نامہ؟

Updated: January 24, 2026, 2:01 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

مارک کارنی کنیڈا کے وزیر اعظم ہیں جو اس عہدہ پر ترقی پانے سے قبل کئی اہم اور بڑے عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں ۔

INN
آئی این این
  مارک کارنی کنیڈا کے وزیر اعظم ہیں  جو اس عہدہ پر ترقی پانے سے قبل کئی اہم اور بڑے عہدوں  پر فائز رہ چکے ہیں ۔ مگر اہم اور بڑے عہدوں  پر فائز رہنے یا وسیع تجربہ کا حامل ہونے سے وہ جرأت نہیں  پیدا ہوجاتی جو معاملات اور حالات کا درست تجزیہ کرنے، خطرات کو آنکنے،تنگ نظری کے بجائے وسیع النظری سے کام لینے اور وقت رہتے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت کو سمجھنے کی بصیرت سے پیدا ہوتی ہے۔ داؤس (سوئزر لینڈ) میں  منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم کی چوٹی کانفرنس میں  اُنہوں  نے جو تقریر کی اُس میں مذکورہ تمام خصوصیات موجود تھیں ۔ 
کہنے کی ضرورت نہیں  کہ ۲۰؍ جنوری ۲۵ء کے بعد سے، جب ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ کے ۴۷؍ ویں  صدر کی حیثیت سے حلف لیا تھا، بہت سوں  کو اُن کی دھمکیوں  کا سامنا ہے، جو ٹیرف کی جنگ سے خوفزدہ ہیں ، اپنی معیشت کے نقصان کو ڈرتے ہیں  اور متبادل راستے موجود ہونے کے باوجود کوئی راستہ منتخب کرنے سے ہچکچا رہے ہیں  کہ اس پر ٹرمپ کا ردعمل کیا ہوگا اور کہیں  اُنہیں  الگ تھلگ تو نہیں  کردیا جائیگا۔ ایسے دور میں  مارک کارنی نے ایک عالمی اجلاس میں  وہ سب کچھ کہہ دیا جو امریکی صدر کی حد سے بڑھی ہوئی کارروائیوں  اور دھمکیوں  کے جواب میں  کہا جانا چاہئے تھا۔ اُنہوں  نے واضح لفظوں  میں  کہا کہ ایک عالمی نظام کے زوال سے دوسرے نظام کی تشکیل تک عبوری دور ہوتا ہے مگر جس دور میں  ہم ہیں  وہ عبوری نہیں  ہے، دُنیا میں  بے اُصو لی کا ایسا نظام قائم کردیا گیا ہے جس میں  اگر آپ ’’ٹیبل پر نہیں  ہیں  تو مینو میں  ہیں ‘‘ یعنی اگر آپ میں  کہنے سننے کی جرأت نہیں  ہے، آپ مزاحمت سے ڈرتے ہیں  اور اس خام خیالی میں  مبتلا ہیں  کہ خاموشی ہزار بلاؤں  کو ٹال دے گی تو یہ آپ کی نادانی ہوگی۔ یقین کیجئے آپ کو لقمۂ تر سمجھ لیا جائیگا۔ کارنی کا مفہوم بالکل صاف تھا بلکہ انہوں  نے کہا بھی کہ اگر نئے نظام کو قبول کرلیا گیا تو اس میں  طاقتور وہ سب کچھ کرے گا جو وہ کرسکتا ہے اور کمزور وہ سب کچھ سہے گا جسے سہنے پر اُسے مجبور کیا جائیگا۔ وہ اُف تک بھی نہیں  کرسکے گا۔کارنی کی تقریر اتنی نپی تلی، دوٹوک اور واضح تھی اور اس میں  اتنے برجستہ جملے تھے کہ عالمی لیڈروں ، مالیاتی نمائندوں  اور کارپوریٹس کے افسروں  پر مشتمل سامعین کا مجمع دم بخود رہ گیا ، کئی موقعوں  پر لوگ تالی بجاتے ہوئے اپنی نشستوں  سے اُٹھ گئے یعنی کھڑے ہوکر سلامی دی، (اسٹینڈنگ اوویشن)۔ 
تقریریں  ہزاروں  ہوتی ہیں  مگر ہر تقریر میں  تاریخی ہونے کی خصوصیات نہیں  ہوتیں ۔ جہاں  تک ہم سمجھتے ہیں ، وقت ثا بت کر دیگا کہ کارنی کی تقریر تاریخی تھی کیونکہ یہ افکار و خیالات کی شفافیت ، جرأت اور مزاحمت کا مرکب تھی۔ اُنہوں  نے دُنیا کے خلاف چھیڑی گئی ٹرمپ کی جارحانہ یلغار کے جواب میں  ’’درمیانی طاقتوں ‘‘ (مڈل پاورس) کو دعوت دی کہ وہ ’’مشترکہ اقدار اور مفادات کی بنیاد پر الگ الگ مسائل کیلئے الگ الگ اتحاد قائم کرکے ایک دوسرے کے تعاون سے مسائل خود حل کریں ۔‘‘ اِس باہمی تعاون کو اُنہوں  نے ویری ایبل جیومیٹری کا نام دیا اور کہا کہ درمیانی طاقتیں  بہت بڑی طاقت (ہیجمَون) کے سامنے جھکنے سے انکار کردیں  جسے سپرپاور ہونے کا دعویٰ ہو اور جو دُنیا کو اپنے حساب سے چلانے کی بدنیتی پر کاربند ہو۔ یہ تقریر موجودہ دور میں  کارنی کا کارنامہ ہے جس میں  اُنہوں  نے متنبہ کیا کہ امریکہ جو نظام نافذ کرچکا ہے وہ عالمی سیاست اور تجارت کیلئے سم قاتل ہے۔ 
canada Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK