جب ایک نیوز کانفرنس کے دوران ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ امریکہ گرین لینڈ کے حصول کیلئے کس حد تک جائے گا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ”آپ کو پتہ چل جائے گا۔“
EPAPER
Updated: January 21, 2026, 7:02 PM IST | Washington/Davos
جب ایک نیوز کانفرنس کے دوران ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ امریکہ گرین لینڈ کے حصول کیلئے کس حد تک جائے گا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ”آپ کو پتہ چل جائے گا۔“
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنے کی دھمکیوں کے دوران، ڈنمارک کے ماتحت خودمختار جزیرے کے وزیراعظم جینس-فریڈرک نیلسن نے بیان دیا ہے کہ ہمیں ایک ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ”اس بات کا امکان نہیں ہے کہ کوئی فوجی تنازع ہوگا، لیکن اسے خارج از امکان بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔“ نیلسن نے مزید کہا کہ “اسی لئے ہمیں تمام امکانات کیلئے تیار رہنا چاہئے، لیکن ہم اس بات پر زور دیتے ہیں: گرین لینڈ نیٹو کا حصہ ہے اور اگر حالات بگڑتے ہیں، تو اس کے نتائج باقی دنیا کو بھی متاثر کریں گے۔“
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی پر غور، امریکی فوجی تیاری تیز
کیا ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضے کیلئے طاقت کا استعمال کریں گے؟
ٹرمپ نے ’این بی سی نیوز‘ کو دیئے گئے ایک ٹیلی فون انٹرویو میں اپنی انتظامیہ کی جانب سے گرین لینڈ کے حصول کیلئے طاقت کے استعمال سے متعلق سوال پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے نشریاتی ادارے کے سوال کے جواب میں کہا: ”کوئی تبصرہ نہیں۔“ امریکی صدر نے انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر انہیں گرین لینڈ نہ ملا تو وہ یورپی ممالک پر ٹیرف لگانے کے اپنے منصوبوں پر ”سو فیصد“ آگے بڑھیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ”یورپ کو روس اور یوکرین کی جنگ پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے، کیونکہ صاف ظاہر ہے، آپ دیکھ رہے ہیں اس کا نتیجہ کیا نکلا ہے۔ یورپ کو اس پر توجہ دینی چاہئے، گرین لینڈ پر نہیں۔"
دریں اثنا، ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے کہا کہ ”یہ ضروری ہے کہ ہم سب جو بین الاقوامی قانون پر یقین رکھتے ہیں، آواز اٹھائیں تاکہ ٹرمپ کو دکھایا جا سکے کہ وہ اس راستے پر مزید آگے نہیں بڑھ سکتے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں ڈنمارک، گرین لینڈ اور امریکہ نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ ”اس معاملے کو سوشل میڈیا، ٹروتھ سوشل اور دیگر میدانوں سے نکال کر ایک میٹنگ روم میں لایا جائے جہاں ہم اپنے تعلقات کی بنیاد پر ممکنہ حل پر بحث کر سکیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”یہی وہ بات ہے جس پر ہمارا اتفاق ہوا تھا، ہم حقیقت پسند اور پُرسکون اسکینڈینیوین لوگ ہیں۔“
یہ بھی پڑھئے: الشرع اور ٹرمپ کا شام کی وحدت اور استحکام کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور
ٹرمپ گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کیلئے بضد
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی اپنی مہم سے پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے آرکٹک میں واقع اس جزیرے پر امریکی قبضے کو عالمی سلامتی کیلئے ”ناگزیر“ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ ”اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔“ وہائٹ ہاؤس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ امریکہ گرین لینڈ کے حصول کیلئے کس حد تک جائے گا، تو انہوں نے اپنے منصوبوں کی حدود بتانے سے انکار کر دیا۔ صدر نے جواب دیا کہ ”آپ کو پتہ چل جائے گا۔“
ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نیٹو بالآخر (گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کے) اس اقدام کو قبول کرلے گا۔ انہوں نے کہا کہ ”حالات بہت اچھے طریقے سے سلجھ جائیں گے۔“ انہوں نے دلیل دی کہ نیٹو خوش ہو گا کیونکہ "ہمیں عالمی سلامتی کیلئے اِس کی ضرورت ہے۔“ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ”نیٹو کیلئے مجھ سے زیادہ کسی نے کام نہیں کیا۔“ انہوں نے ایک بار پھر اس بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا کہ آیا نیٹو ممبران کسی بحران میں امریکہ کا ساتھ دیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: بلی ایلیش کی ٹرمپ انتظامیہ پر شدید تنقید، امریکی شہری حقوق پر سنگین تحفظات
ورلڈ اکنامک فورم میں گرین لینڈ مسئلہ حاوی
گرین لینڈ تنازع نے سوئٹزرلینڈ کے شہر داؤس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم میں بھی عالمی سفارت کاری کا مرکز بن گیا۔ گرین لینڈ معاملے میں امریکی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے خبردار کیا کہ ہم ”بغیر قواعد کی دنیا“ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کنیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے بھی اسی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پرانے نظام کا لوٹنا مشکل نظر آتا ہے کیونکہ گرین لینڈ پر ٹرمپ کے رویے نے بین الاقوامی اصولوں اور سرحدوں کے مستقبل کے بارے میں خدشات پیدا کر دیئے ہیں۔
صدر ٹرمپ ابھی تک داؤس نہیں پہنچ پائے ہیں۔ بدھ کے دن یہاں ان کی آمد متوقع تھی لیکن اطلاعات کے مطابق ان کے طیارے ’ایئر فورس ون‘ کو معمولی برقی خرابی کی وجہ سے واپس مڑنا پڑا۔ وہائٹ ہاؤس نے بتایا کہ وہ دوسرے طیارے سے روانہ ہوگے۔ ٹرمپ نے اس دوران کہا کہ گرین لینڈ پر متعدد ملاقاتیں طے شدہ ہیں، جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ اس معاملے کو عالمی سطح پر مسلسل اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی فرانس کو امن بورڈ کی دعوت، فرانس اقوام متحدہ منثور پرقائم، ٹیرف کی دھمکی
روس نے ٹرمپ کے `خطرے` کے بیانیے کو مسترد کر دیا
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ٹرمپ کے ذریعے متعدد دفعہ دہرائے گئے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ گرین لینڈ پر قبضہ کرنا ضروری ہے تاکہ روس یا چین کو اس پر قبضہ کرنے سے روکا جا سکے۔ لاوروف نے کہا کہ ماسکو کا ”گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔“ انہوں نے دلیل دی کہ واشنگٹن جانتا ہے کہ روس یا چین کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے صورتحال کو موجودہ روسی حکمتِ عملی کے بجائے نوآبادیاتی دور کی تاریخ سے جوڑا اور مزید کہا کہ روس محض ”صورتحال کی نگرانی“ کرے گا۔
دفاعی مقاصد کے تحت فوج کو تعینات کیا جارہا ہے: ڈنمارک
ڈنمارک نے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر آرکٹک میں سیکوریٹی کو مضبوط بنانے اور واشنگٹن کو اکسانے کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچنے کی کوشش کی ہے۔ ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے بیان دیا ہے کہ گرین لینڈ میں ڈنمارک کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی کا مقصد سلامتی سے جڑے خدشات کو دور کرنا ہے، نہ کہ ٹرمپ سے ٹکر لینا۔
راسموسن نے کہا کہ ”ہم نے حالیہ دنوں میں گرین لینڈ میں جو کچھ کیا ہے، اس کا مقصد امریکی صدر کو اکسانا نہیں ہے۔“ انہوں نے فوجی تعیناتیوں کے بارے میں واشنگٹن کے تاثر کو ”غلط فہمی“ قرار دیا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ڈنمارک گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے دوران امریکہ کے ساتھ طے پانے والے ورکنگ گروپ کیلئے پرعزم ہے۔
راسموسن نے زور دیا کہ خودمختاری کا ”احترام کیا جانا چاہئے۔“ انہوں نے خبردار کیا کہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کی ایسی ”سرخ لکیریں ہیں جنہیں عبور نہیں کیا جا سکتا۔“ ٹرمپ کے دباؤ کے ہتھکنڈوں کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”آپ دھمکیاں دے کر گرین لینڈ کی ملکیت حاصل نہیں کر سکتے۔“