جدید دنیا میںروس ، چین ، ہندوستان ، یورپی ممالک اورامریکہ کے پاس اپنی اپنی لاٹھیاںہیں،کسی کی لاٹھی کہیںمضبوط ثابت ہوتی ہے تو کسی کی کہیںکمزور!
EPAPER
Updated: January 25, 2026, 12:17 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai
جدید دنیا میںروس ، چین ، ہندوستان ، یورپی ممالک اورامریکہ کے پاس اپنی اپنی لاٹھیاںہیں،کسی کی لاٹھی کہیںمضبوط ثابت ہوتی ہے تو کسی کی کہیںکمزور!
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے گزشتہ دنوں داؤس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم میں ایک پرانی کہاوت کوآج عالمی حقیقت سے جوڑکر اسے صحیح ثابت کردیا۔وہ پرانی کہاوت ہم اور آپ بچپن سے سنتے آئے ہیںکہ ’ جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘۔ ان دہائیوں اور برسوں میںگزرنے والے اہل دانش نے اس حقیقت سے کبھی انکار نہیںکیاجو اس کہاوت میںبیان ہوئی ہے، یعنی اقتدار،غلبہ اور حکم طاقت ورکا چلےگا، کمزورکا نہیں، کمزور کو بس فرمانروائی تسلیم کرنی ہوگی ،طوعاً وکرہاً یعنی چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے ۔دنیا کا نظام برسوںسے ایسا ہی چلا آرہا ہے۔ قبائلی وغلامی کے دور سے لے کر بادشاہت تک اوربادشاہت سے لےکر جمہوریت تک ۔فرمانروا اورارباب ا قتدار کو تسلیم کرنے اورمنتخب کرنے کے نظام میں تبدیلیاںاور تغیرات واقع ہوئے ہیںلیکن جہاںتک فرامین اور ا حکامات کا تعلق ہے، ان کیلئے عوام وخواص کے سامنے کبھی یہ متبادل نہیںرکھا گیا ،نہ مانیںتب بھی چلے گا ۔ایک نظام کے تحت جو حکومت بنتی ہےپھر اس کاہی حکم چلتا ہےاوراسے ماننا ہی ہوتا ہے،گویا یہ نظام خود اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔
یہ بھی پڑھئے: کارپوریشن انتخابات: اتنا غیر واضح اور گنجلک منظر نامہ کبھی رہا؟
یہاںایک پہلو یہ بھی ہےکہ جس کے پاس ’لاٹھی‘ آجائے پھر وہ ’بھینس‘ بھی اپنے پاس ہی رکھتا ہے۔آج کے نظام سے حساب سے دیکھاجائے تو بڑے جمہوری یا اشتراکی ممالک میں منتخبہ حکومت بھی یہی کام کرتی ہے۔ وہ صرف اپنی سرزمین وحدودکی حفاظت کیلئے احکامات جاری نہیںکرتیں اورقوانین نہیں بناتیں بلکہ اگر ان کے پاس ’لاٹھی‘ ہے توبہ وقت ضرورت پڑوسی ملکوں کی سرزمین اورسرحدوںپربھی قبضہ کرلیتی ہیںاور اس کیلئے اپنے طورپر نئے اصول وضوابط مقرر کرلیتی ہیں۔روس کے پاس طاقت ہے، اس لئےوہ نہیںچاہتا کہ یوکرین نیٹو کا حصہ بنے۔ یوکرین کو قابو میں رکھنے کیلئے ہی اس نے جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اس وقت ’لاٹھی‘ روس کے پاس ہےاس لئے نہ صرف یہ کہ اس نے یوکرین کے خلاف جنگ کا آغاز کیا بلکہ اب جنگ اپنی شرائط پر ختم کرانا چاہتا ہے۔اسرائیل فلسطین پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اس کی نظر میں اس سرزمین پر اس کا حق ہے۔اب یہاں بھی ’لاٹھی‘ اس کے پاس ہے،اس لئےوہ بین الاقوامی قوانین کی پروا کئے بغیر فلسطینی علاقوں پر دہائیوں سے قبضہ کرتا چلا آرہا ہے۔ عالمی عدالت میں اس کے خلاف مقدمات دائر کئے گئے ہیں، اقوام متحدہ میںاس کے خلاف قراردادیں پاس ہوگئی ہیںمگر نہ فلسطینیوں کے خلاف اس کے اقدامات رُکے ہیں،نہ بین الاقوامی برادری اس پر کوئی قابل ذکر دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ وجہ یہی ہےکہ ’ لاٹھی‘اس کے پاس ہے۔
اس سے قبل ۹۰ء کی دہائی میںطاقت کامحورسوویت یونین تھا۔ امریکہ کے ساتھ اس کی زبر دست کشمکش تھی ۔افغانستان کوروسی فوج کے چنگل سے آزاد کرانے کیلئے امریکہ نے مداخلت کی تھی۔ یہ سب کچھ اس پورے نظام پر کنٹرول یعنی’لاٹھی‘ حاصل کرنے کی لڑائی تھی جو کسی نہ کسی صورت میںآج تک جاری ہے۔جدید دنیا میں’ ورلڈ آرڈر‘ یا ’ نیوورلڈ آرڈر‘کا جو تصور ہےوہ در اصل ۹۰ء کی دہائی سے شروع ہوتا ہے۔حالانکہ اس سے قبل۲۰؍ ویں صدی کے آغاز سے ہی یورپی طاقتوںنے دنیا کی ’لاٹھی ‘ اپنے پاس رکھنے اقدامات شروع کردئیے تھے ۔ نشاۃ الثانیہ اورپھرصنعتی انقلاب کے نتیجے میںیہ برطانیہ ، فرانس اور پرتگال جیسی طاقتیںباہر نکلیںاورافریقہ اور ایشیاکو اپنی ’لاٹھی ‘ سے ہانکنا شروع کیا۔عالمی اعتبار سے دیکھا جائے تو’لاٹھی ‘ کبھی کسی ایک کے پاس نہیںرہتی بلکہ ایک وقت میں’لاٹھی‘ والے کئی ہوتے ہیں۔یہ ضرور ہوتا ہےکہ جس کی لاٹھی جتنی مضبوط ہوتی ہےتو اس کی ضرب اتنی ہی کاری ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہند-پاک کرکٹ : کھیل کو کھیل کی طرح دیکھنے کا دور کبھی واپس آئیگا ؟
جدید دنیا میںروس ، چین ، ہندوستان ، یورپی ممالک اور امریکہ کے پاس اپنی اپنی لاٹھیاںہیں۔کسی کی لاٹھی کہیںمضبوط ثابت ہوتی ہے تو کسی کی کہیںکمزور ۔اب ان میں امر یکہ کا ارادہ یہ ہےکہ وہ نہ صرف اپنی لاٹھی مضبوط رکھنا چاہتا ہے بلکہ دیگر کی لاٹھیاںبھی حاصل کرنا چاہتا ہے۔مختلف بہانوںسے سپر پاورجو ٹیرف کی دھمکیاںدے رہا ہے، اس کا مطلب یہی ہےکہ وہ اپنی مضبوط لاٹھی سے دیگر لاٹھی رکھنے والے ممالک کو دبانا چاہتا ہے، انہیںجھکنے پرمجبور کرنا چاہتا ہےاور بالآخر یہ چاہتا ہےکہ دنیا میں اگر حکم چلے تو اس کا چلے ۔ اب گرین لینڈ کے معاملے پروہ یورپ کے لاٹھی رکھنے والے ممالک کے مدمقابل آچکا ہے۔ چونکہ لاٹھیاںفرانس ، برطانیہ اور ڈنمارک جیسے ممالک کے پاس بھی ہے، اس لئے وہ بھی دودوہاتھ کیلئے تیار ہیں۔ وہ ایسے نہیں دب جائیں گے بلکہ اپنی لاٹھیوں کا استعمال کریں گے۔ وہ وینزویلا کی طرح جس کے پاس لاٹھی نہیںتھی ، کمزور نہیںپڑیں گے۔جو یورپی ممالک اتنی شدت ڈنمارک اور گرین لینڈ کےدفاع میں اترے ہیں،وینزویلا کے معاملے میں وہ ا تنا مضبوط موقف اختیار نہیںکرسکے،کیونکہ وہاںلاٹھی والےکی لاٹھی بہت مضبوط تھی۔ دراصل ہر لاٹھی والا اس بات سے واقف ہوتا ہےکہ اسے لاٹھی کب ،کہاںاور کیسے چلانی اورکتنی قوت سے چلانی ہے ۔ پہلگام حملے کے بعدآپریشن سیندور کے ذریعے ہندوستان نے اپنی لاٹھی کا دم دکھایالیکن یہاں بھی ایک بڑے لاٹھی والے کی مبینہ مداخلت کے بعد اسے اپنی لاٹھی چلانا روکنا پڑا۔ اس بڑی لاٹھی والے نے اس کے بعد بارہا دعویٰ بھی کیا کہ اس کی لاٹھی چلی تو ہندوستان کی لاٹھی رُکی۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ ٹیرف: مودی حکومت صرف دعوؤں سے متاثر نہیں کرسکتی
اب جب سارے امور کا رخ ایک بڑے نظام کی طرف مڑتا ہے تووہاں’نیوورلڈ آرڈر‘کی صورت میںایک ہی لاٹھی والے کی گنجائش رہ جاتی ہے۔یعنی اس نظام میں کوئی ایک رہے گا اور باقی سب کو اس کے حکم پر چلنا ہوگا ۔کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے عالمی نظام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ دنیا اب طاقتور ممالک کے درمیان مقابلے کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے اور پرانا عالمی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔انہوں نے خبردار کیاکہ معاشی انضمام کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور اگر درمیانی طاقتیں مذاکرات کی میز پرنہ آئیںتو فیصلوں کی زد میں آ جائیں گی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: حقائق چھپانے والی حکومت کو جوابدہ کیسے بنایا جائے؟
اب ٹیکنالوجی کی مہربانیاں ہیں کہ عالمی نظام پر کسی ایک اجارہ داری ممکن نظر نہیںآتی کیونکہ ممکن ہےجو معاشی طورپر مضبوط ہو اورعالمی لین دین کے نظام پرجسے غلبہ حاصل ہووہ ٹیکنالوجی کے اعتبار سے کسی دوسرے ملک کا محتاج ہو۔اس صورت میں جہاں تعلقات قائم رکھنا مجبوری ہوگی وہیں اس سے کسی بڑے تصادم کے بھی امکانات پیدا ہوجائیں گے۔ یہ تصادم معمولی نہیں ہوگا ، پھر اس تصادم کے نتیجے میںکسی کی لاٹھی باقی رہے گی تو کسی کی ٹوٹ جائے گی ۔مارک کارنی نے جو بات کہی ہے بلکہ جو کہاوت یاددلائی ہے ،اس میں ایک بہت اہم پیغام چھپا ہوا ہے ۔ وہ پیغام یہ ہےکہ طاقت کے ارتکاز کو روکنا اور اس کے خلاف مزاحمت کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ ہم ایک دوسرے کو اس کی تحریک وترغیب تو دے سکتے ہیںلیکن حقیقتاًاس مقصد کو پا نہیںسکتے کیونکہ سب کچھ ہوکربھی بات بالآخر وہیں پہنچتی ہےکہ ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ ۔ اس کے مقابلے میں بس انقلابی جدوجہد کامیاب ثابت ہوسکتی ہےلیکن یہ جدوجہد بھی بڑی صبر آزما، وقت طلب ہوتی ہے اور بڑی قربانیوں کا تقاضا کرتی ہے۔