داؤس میں کارنی کے خطاب پر برہم امریکی صدر نے انہیں بیجنگ سے تجارتی معاہدہ نہ کرنے کا مشورہ دیا، ورنہ ۱۰۰؍ فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا۔
EPAPER
Updated: January 25, 2026, 10:31 AM IST
داؤس میں کارنی کے خطاب پر برہم امریکی صدر نے انہیں بیجنگ سے تجارتی معاہدہ نہ کرنے کا مشورہ دیا، ورنہ ۱۰۰؍ فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جوداؤس میں ورلڈ اکنامک فورم میں کنیڈا کے صدر میک کارنی کے خطاب پر پہلے ہی آگ بگولہ ہیں، نے بیجنگ کے ساتھ ان کے تجارتی معاہدہ پر سخت برہمی برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ٹڑمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر کنیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی چین کے ساتھ اعلان کردہ تجارتی معاہد ہ پر پیش رفت کرتے ہیں توکنیڈا پر۱۰۰؍ فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔
کنیڈیائی وزیراعظم کو ’گورنر‘ کہہ کر مخاطب کیا
سنیچر کی صبح ٹروتھ سوشل پر شیئر کئے گئے ایک بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر کارنی یہ سمجھتے ہیں کہ کنیڈا چین کیلئے ایک ایسا ’’ڈراپ آف پورٹ‘‘ بن سکتا ہے جہاں سے چینی سامان اور مصنوعات امریکہ بھیجی جائیں، تو وہ ’’سنگین غلطی‘‘ پر ہیں۔ ٹرمپ نےاپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’اگرکنیڈا چین کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتا ہے تو فوراً امریکہ آنے والی تمام کنیڈین اشیا اور مصنوعات پر۱۰۰؍ فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔ ” اس پوسٹ میں ٹرمپ نے وزیراعظم کے بجائے کارنی کو ’’گورنر‘‘کہہ کر مخاطب کیا۔ یہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ ٹرمپ عہدہ سنبھالنے کے موقع پر کنیڈا کو امریکہ میں ضم کرنے اوراسے اپنے ملک کی ۵۱؍ ویں ریاست بنانے کی بات کہہ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: قابض یہودیوں نے ۲۰۲۵ء میں ۲۴۰؍ فلسطینیوں کو قتل اور ہزاروں کو زخمی کیا: یواین
کنیڈین حکومت کا تحمل کا مظاہرہ
ٹرمپ کی اس حرکت پر کنیڈین حکومت نے فوری طور پر کسی ردِعمل کا اظہا رکرنے کے بجائے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے یہ دھمکی ایسے وقت دی گئی ہے جب اس ہفتے کنیڈا اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ کارنی نے سوئٹزرلینڈ کے شہرداؤس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب میں جس بڑے پیمانے پر ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر تنقید کی ہے، اس کی وجہ سے ڈونالڈ ٹرمپ پہلے ہی چراغ پا ہیں۔
کارنی کی ٹرمپ پر تنقید
داؤس میں کارنی نے اپنی تقریر میں ٹرمپ کی حرکتوں پر دو ٹوک انداز میں کہا ہےکہ ’’ہم کسی تبدیلی کے مرحلے میں نہیں ہیں بلکہ ایک ٹوٹ پھوٹ کے دور سے گزر رہے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے اس سے نمٹنے کیلئے دنیا کی ’’درمیانی درجے کی طاقتوں ‘‘ پر زور دیا کہ وہ دباؤ اور دھمکیوں کے مقابلے میں باہمی تعاون کو مضبوط کریں۔
کنیڈا کے خلاف ٹرمپ کی بدزبانی
کنیڈا کے وزیراعظم کے ان ریمارکس پر ٹرمپ نے سخت ردِعمل ظاہر کیا اور کہا کہ’’کنیڈا امریکہ کی وجہ سے زندہ ہے۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہاکہ’’مارک، جب بھی تم ایسے بیانات دو جیسا تم نے داؤس میں دیا ہے تو یہ بات یاد رکھنا کےکنیڈا کا وجود امریکہ کے مرہون منت ہے۔ ‘‘
کنیڈا کو ٹرمپ کی دھمکیاں
امریکی صدر جنوری۲۰۲۵ء میں باضابطہ طور پر عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہی سے کنیڈین مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کرنے کی دھمکیاں دیتے آ رہے ہیں۔ وہ بارہا یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ کنیڈا کو امریکہ کی’’۵۱؍و یں ریاست‘‘ بنانا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال نے شمالی امریکہ کے ان دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات کو تاریخ کے سب سے کمزور دور میں پہنچا دیا ہے۔ تعلقات میں اسی خرابی نے کارنی کو نئے معاشی شراکت دار تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے، جن میں چین، یورپی یونین اور قطر شامل ہیں۔
کارنی امریکہ پر انحصار کم کرنے کیلئے سنجیدہ
کینیڈا-امریکہ تعلقات کے ماہر اور نووا اسکاٹیا کی سینٹ فرانسس زیویئر یونیورسٹی کے پروفیسر آسا مک کرچر نے داؤس میں کارنی کے خطاب پر الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’یہ کارنی کے اس مقصد کا حصہ ہے کہ کنیڈا کا امریکہ پر انحصار کم کیا جائے۔ ‘‘انہوں نے کہاکہ ’’کنیڈیائی وزیراعظم پیشے سے بینکر ہیں، اس لیے کسی بھی طرح کا ‘متنوع پورٹ فولیو’ ہمیں مخصوص جھٹکوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ایک بینکر غالباً اسی نظر سے اس معاملے کو دیکھے گا۔ ‘‘