ملک میں توانائی کے حالیہ بحران سے نمٹنے میں مرکزی حکومت نے جو اقدام کئے ہیں اُن پر اظہار ِ اطمینان نہ کرنا بخل سے کام لینا ہوگا۔ ایسا کرنا خلافِ انصاف بھی ہوگا۔ حکومت کے اقدام ہی کے سبب رسوئی گیس کے سلنڈروں کی سپلائی ابتدائی مشکلات کے بعد سنبھل گئی، پیٹرول اور ڈیزل کی قلت نے بھی ابتدائی دور ہی میں پریشان کیا پھر دھیرے دھیرے حالات بہتر ہوتے چلے گئے۔
مہاجر مزدور۔ تصویر:آئی این این
ملک میں توانائی کے حالیہ بحران سے نمٹنے میں مرکزی حکومت نے جو اقدام کئے ہیں اُن پر اظہار ِ اطمینان نہ کرنا بخل سے کام لینا ہوگا۔ ایسا کرنا خلافِ انصاف بھی ہوگا۔ حکومت کے اقدام ہی کے سبب رسوئی گیس کے سلنڈروں کی سپلائی ابتدائی مشکلات کے بعد سنبھل گئی، پیٹرول اور ڈیزل کی قلت نے بھی ابتدائی دور ہی میں پریشان کیا پھر دھیرے دھیرے حالات بہتر ہوتے چلے گئے۔ ناقدین کہہ سکتے ہیں کہ پانچ ریاستوں میں الیکشن کی وجہ سے مرکزی حکومت اگر یہ سب نہ کرتی تو پھر کیا کرتی، کیا حکمراں جماعت کے لیڈران انتخابی مہم کیلئے متعلقہ ریاستوں میں داخل ہوپاتے اور عوامی غم و غصہ کا سامنا نہ کرتے؟ بات درست ہے جسے مسترد نہیں کیا جاسکتا مگر یہ اعتراف بھی ضروری ہے کہ حکومت کے بروقت اقدام کی وجہ سے وہ بحران، جو ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ کے ابتدائی دور میں نمودار ہوا تھا، بڑھنے، پھیلنے اور عوام کیلئے شدید مشکلات میں تبدیل ہونے نہیں پایا۔
مگر، اس دوران ایک مسئلہ نے ازسرنو چونکایا۔ وہ تھا مزدوروں کا ’’پلائن‘‘۔ اس مسئلہ نے کووڈ کے دور میں اپنی سنگینی کا احساس دلایا تھا۔ تب ہی ملک کے عوام واقف ہوسکے تھے کہ مہاجر مزدور کتنی بڑی تعداد میں بڑے شہروں کا رُخ کرتے ہیں اور محنت مزدوری کرنے کے باوجود اُن کی زندگی کتنی سخت ہے اور اُنہیں کس قدر مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ ماہ رسوئی گیس کی قلت شروع ہوئی تو ان مزدوروں کیلئے ہفتہ دس دن گزارنا بھی دوبھر ہوگیا جس کے سبب انہوں نے ایک بار پھر رخت سفر باندھ لیا۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ خبریں گجرات کے مشہور تجارتی شہر سورت سے موصول ہوئیں جہاں ٹیکسٹائل اور ڈائمنڈ کی صنعتوں سے وابستہ مزدوروں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ چونکہ یہ لوگ دیگر ریاستوں سے آئے ہوتے ہیں اس لئے اُن کے پاس مقامی راشن کارڈ، رسوئی گیس کنکشن اور دیگر سہولتیں نہیں ہوتیں۔
اور جب بنیادی سہولتیں ہی نہ ہوں تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ اُن کے معمولات ِ زندگی بالکل اُسی طرح جاری رہیں گے جس طرح مقامی شہریوں کے ہوتے ہیں۔ بہرکیف، اگر یہ انخلاء رُکا ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ انہیں رسوئی گیس ملنے لگی ہے۔ مگر چند روزہ ہی سہی، اس پریشانی نے ایک بار پھر خبروں میں جگہ بنائی تاہم ہمارا خیال ہے کہ اسے سرخیوں سے زیادہ بحث میں آنا چاہئے اور بحث سے زیادہ حکومت کی اولین توجہ میں آنا چاہئے کہ مہاجر مزدور جو گھر خاندان چھوڑ کر بڑے شہروں کی معاشی سرگرمیوں کا حصہ بنتے ہیں اور سرمایہ داروں کے خوابو ں کی تکمیل میں ہاتھ بٹاتے ہیں، اب بھی ایک حساس گروہ ہے جو چند روز بھی غذا جیسی بنیادی ضرورت کی عدم تکمیل کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ وجہ یہ ہے کہ اس گروہ کے افراد کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ ہوٹلوں میں کھا کر وقت گزار لیں۔
کووڈ کے دور میں جب مہاجر مزدوروں کی حالت زار منظر عام پر آئی تھی تب حکومت نے ان کے رجسٹریشن پر زور دیا تھا۔ اس کیلئے ’’شرم پورٹل‘‘ بنایا گیا تھا تاکہ بہ وقت ِضرورت ان کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ ہم یہ تحقیق نہیں کرسکے کہ شرم پورٹل سے مزدوروں کو کتنے فوائد حاصل ہوئے مگر جو صورت حال توانائی کی قلت کے سبب اُبھری اس کے پیش نظر یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کے مسائل کو اب تک حل نہیں کیا گیا ہے۔ تو کیا ہم کسی تیسرے بحران کا انتظار کررہے ہیں؟