Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان میں امیروغریب کے درمیان بڑھتا فاصلہ!

Updated: April 28, 2026, 11:30 AM IST | Dr. Mushtaq Ahmed | Mumbai

ہندوستان کے ۸۰؍کرو ڑ لوگوں کو سرکاری طورپر زندگی گزارنے کے لئے پانچ کلو اناج دئیے جا رہے ہیں اور ہردن بیروزگاروں کی قطار طویل ہوتی جار ہی ہے۔

Ration Shop.Photo:INN
راشن کی دکان۔ تصویر:آئی این این
حال ہی میں سینٹر فار فائناسیل اکاؤنٹیبیلیٹی کی ایک رپورٹ نے ہندوستانی معیشت کے ایک اہم مگر تشویش ناک پہلو کو اُجاگر کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ برسوں میں ملک میں امیروں کی تعداد میں ۲۲۷؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بظاہر یہ خبر اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری میں اضافہ اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کی علامت معلوم ہوتی ہے، اگر اس کے سماجی و اقتصادی مضمرات کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو تصویر کہیں زیادہ پیچیدہ اور فکر انگیز نظر آتی ہے ۔ہندوستان گزشتہ ایک دہائی سے عالمی سطح پر تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شمار ہو رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے مختلف معاشی اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن، اور اسٹارٹ اپ کلچر کو فروغ دینے کے اقدامات نے ایک نیا معاشی بیانیہ تشکیل دیا ہے۔ اس تناظر میں امیروں کی تعداد میں اضافہ کو بعض حلقے ترقی کا فطری نتیجہ قرار دیتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ترقی یکساں طور پر تمام طبقات تک پہنچ رہی ہے؟ یا یہ صرف ایک محدود طبقے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔سی اے ایف اے کی رپورٹ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دولت کا بڑا حصہ ایک محدود طبقے کے ہاتھوں میں مرتکز ہوتا جا رہا ہے۔ اس رجحان کو Oxfam International کی رپورٹیں بھی تقویت دیتی ہیں، جن کے مطابق ہندوستان میں سب سے اوپر کے ایک فیصد افراد کے پاس ملک کی بڑی دولت موجود ہے۔
واضح رہےکہ اس رپورٹ کے مطابق ملک میں امیروں کی دولت  میں ۲۲۷؍ فیصد کا اضافہ ہواہے اور ملک کے ایک فیصد لوگوں کا قومی معیشت کے ۴۰؍فیصد حصے پر قبضہ ہے ۔یہ رپورٹ ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۵ءکے درمیان کی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۹ء میں ہندوستان کے امیروں کی مجموعی دولت تقریباً ۳۱؍لاکھ کروڑ روپے تھی جو ۲۰۲۵ء میں بڑھ کر ۸۸؍لاکھ کرو ڑ روپے ہوگئی ہے ۔اتنا ہی نہیں ملک کے پانچ صنعتی گھرانوں کی معیشت میں چارسو فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ مثلاً مکیش امبانی کی دولت  میں ۲ء۵؍ فیصد ، گوتم اڈانی ۷ء۳؍فیصد ، ساوتری جندل ۸ء۶؍ فیصد ، سنیل متل  ۵ء۶؍فیصد اور شیو نادر کی دولت  میں ۲ء۹؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔  فکر مندی کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس رپورٹ کے مطابق دورِ برطانیہ حکومت کی طرح ہی اس وقت ملک میں امیروں اور غریبوں کے درمیان فاصلہ ہے جو روز بہ روز بڑھتا جار ہاہے۔مجموعی طورپر دیکھا جائے تو دو بڑے صنعتی گھرانے مکیش امبانی کی دولت میں چھ سال کی مدت  میں ۱۵۳؍فیصد اور گوتم اڈانی کی دولت  میں ۶۲۵؍فیصد کا اضافہ ہواہے ۔اتنا ہی نہیں ملک کی معیشت  کے ۹۰؍فیصد حصے پر اعلیٰ طبقے کے افراد قابض ہیں ۔ یہ رپورٹ اس معاملے میں بھی چشم کشا ہے کہ ملک  کے ۸۰؍کرو ڑ لوگوں کو سرکاری طورپر زندگی گزارنے کیلئے پانچ کلو اناج دئیے جا رہے ہیں اور  بیروزگاروں کی قطار روزانہ طویل ہوتی جار ہی ہے۔ یہ صورتحال معاشی عدم مساوات کو بڑھاوا  دیتی ہے۔ 
دوسری طرف ملک کا غریب طبقہ اب بھی بنیادی ضروریات جیسے تعلیم، صحت اور روزگار کے مسائل سے دوچار ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے مختلف فلاحی اسکیمیں چلائی جا رہی ہیں، مگر ان کا اثر محدود اور غیر مساوی ہے۔امیروں کی تعداد میں اضافہ اس وقت تک حقیقی ترقی نہیں کہلایا جا سکتا جب تک کہ غریب طبقے کی حالت میں بھی نمایاں بہتری نہ آئے۔یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر کن عوامل نے امیروں کی تعداد میں اس قدر تیز رفتار اضافہ ممکن بنایا؟ اس میں کارپوریٹ سیکٹر کو دی جانے والی مراعات، ٹیکس میں چھوٹ اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کا بڑا کردار ہے۔ بلاشبہ یہ اقدامات سرمایہ کاری کو بڑھانے اور معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے ضروری ہوتے ہیں، مگر جب یہ پالیسیاں عدم توازن پیدا کریں تو ان پر نظر ثانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ڈیجیٹل معیشت، اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی کے شعبے نے بھی نئی دولت کے مواقع پیدا کئے ہیں ۔مگر یہ ترقی زیادہ تر شہری اور تعلیم یافتہ طبقے تک محدود ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں اس کا اثر نسبتاً کم ہے۔
 
 
معاشی عدم مساوات صرف ایک اقتصادی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ بھی ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشرے میں بے چینی، عدم اطمینان اور طبقاتی کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔اگر امیر اور غریب کے درمیان فرق حد سے زیادہ بڑھ جائے تو یہ جمہوری اقدار اور سماجی ہم آہنگی کیلئے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔حکومت کیلئے یہ ایک اہم چیلنج ہے کہ وہ اقتصادی ترقی اور سماجی انصاف کے درمیان توازن قائم کرے۔ اس کیلئےضروری ہے کہ ٹیکس نظام کو زیادہ منصفانہ بنایا جائے،تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے، روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں،دیہی معیشت کو مضبوط کیا جائے۔معاشی عدم مساوات کو کم کرنے کے لئے چند اقدامات ناگزیر ہیں۔ پروگریسو ٹیکسیشن زیادہ آمدنی والوں پر زیادہ ٹیکس عائد کیا جائے۔غریب طبقے کیلئے مضبوط حفاظتی جال، نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کرنا، چھوٹے اور درمیانے کاروبار کی حمایت۔سی اے ایف اے کی رپورٹ ایک اہم سوال اٹھاتی ہے کہ کیا ہم واقعی ترقی کر رہے ہیں یا صرف دولت کا ارتکاز بڑھ رہا ہے؟
 
 
مختصر یہ کہ امیروں کی تعداد میں ۲۲۷؍ فیصد اضافہ بلاشبہ ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس ترقی کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچیں۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ ترقی محض اعداد و شمار تک محدود رہ جائے گی اور معاشرہ ایک گہری عدم مساوات کا شکار ہو جائے گا۔ آخرکار حقیقی ترقی وہی ہے جو سب کو ساتھ لے کر چلے نہ کہ صرف چند افراد کو بلندیوں تک پہنچا دے اور ملک کی بڑی آبادی مفلسی کی شکار رہے۔اس طرح کے عدم مساوات کی وجہ سے ملک اور سماج میں کئی طرح کی اضطرابی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو معاشرے کے لئے ہی مہلک ثابت نہیں ہوتا بلکہ ملک کے امن وامان کیلئے بھی خطرہ پیدا کرتاہے۔یہ حقیقت اپنی جگہ مسلّم ہے کہ غربت اور بیروزگاری سماج میں کئی طرح کے جرائم کو جنم دیتی ہے اور اس کے مضر اثرات ہمارے معاشرے میں دیکھنے کو ملتے ہیں ۔یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے اس پر تمام تر سیاسی مفادات اور ذہنی تعصبا ت و تحفظات سے بالا تر ہو کر غوروفکر کرنا ہوگا کہ عدم مساوات معیشت ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK